گنگوبائی: سیکس ورکروں کو چلانے والی خاتون کی مقبولیت کا راز

امروتا دوروے - بی بی سی نامہ نگار

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

فلم گنگو بائی کا پوسٹر

Film Poster
سنجے لیلا بھنسالی کی آنے والی فلم گنگو بائی کا پوسٹر

‘ ہم دل دے چکے صنم’، ‘بلیک’ اور ‘باجی راوؤ مستانی’ جیسی زبردست ہٹ فلمیں بنانے والے بالی وڈ ہدایت کار سنجے لیلا بھنسالی نے اپنی نئی فلم کا اعلان کر دیا ہے۔ فلم کا نام ‘گنگوبائی کاٹھیاواڑی’ ہے جس میں عالیہ بھٹ گنگو بائی کا مرکزی کردار ادا کریں گی۔

یہ فلم اس گنگوبائی کی زندگی سے متاثر ہے جو سنہ 1960کی دہائی میں ممبئی کے کماٹھی پورا میں کوٹھا چلاتی تھیں۔ یہ فلم ’مافیا کوینز آف ممبئی‘ نامی کتاب پر مبنی ہے جس کو ایس حسین زیدی اور جین بورگیس نے لکھا ہے۔

گنگوبائی کا اصل نام گنگا ہرجیون داس کٹھیاواڑی تھا۔ ان کی پیدائش گجرات میں ہوئی اور وہیں ان کی پرورش بھی ہوئی ۔

’مافیا کوینز آف ممبئی‘ کے شریک مصنف ایس حسین زیدی نے گنگو بائی کے بارے میں متعدد قصے بتائے۔

یہ بھی پڑھیے

ڈان کریم لالہ جنھیں داؤد ابراہیم نے کبھی نشانہ نہیں بنایا

’لندن سے اغوا کر کے زبردستی سیکس ورکر بنا دیا‘

پیرس میں سیکس ڈولز کا مرکز ’قحبہ خانہ نہیں‘

انہوں نے بتایا کہ گنگو بائی کوٹھا چلاتی تھیں۔ انہیں دھوکا دے کر اس کام میں ملوث کیا گیا تھا۔ گنگوبائی کا تعلق کاٹھیاواڑ کے ایک امیر ترین خاندان سے تھا۔ ان کے خاندان کے لوگ تعلیم یافتہ تھے اور بیشتر وکالت کے پیشے سے منسلک تھے۔

گنگا کو رمنیکلال نامی ایک اکاؤنٹینٹ سے عشق ہوگیا تھا۔ ان کا خاندان اس رشتے کے لیے راضی نہیں تھا اسےلیے وہ رمنیک کے ساتھ ممبئی بھاگ آئیں۔

لیکن اس شخص نے انہیں دھوکا دیا اور کماٹھی پورا لے جا کر انہیں فروخت کردیا۔ اس وقت گنگا کو احساس ہوا کہ اب وہ اپنے گھر والوں کے پاس واپس نہیں جا سکتی ہیں۔ اس لیے انہوں نے حالات کو قبول کر لیا اور مجبور ہو کر جسم فروشی کا کام کرنے لگیں۔

وہ کسی گینگسٹر یا انڈرورلڈ کا حصہ نہیں تھیں۔ لیکن ایسے کام میں ملوث تھیں جسے حقارت بھری نظروں سے دیکھا جاتا تھا۔ جیسے جیسے وقت گزرا وہ کماٹھی پورا ریڈ لائٹ علاقے کی صدر بن گئیں۔ اس طرح پہلے وہ گنگا سے گنگو اور پھر ’میڈم‘ بن گئیں۔

کماٹھیپورا

Getty Images

گنگو بائی نے کماٹھی پورا میں مقامی انتخابات میں حصہ لیا اور جیت بھی گئیں۔

گنگو ایک سیکس ورکر سے گنگوبھائی کوٹھے والی بن گئیں۔ کاٹھیاوالی دراصل کوٹھے والے سے منسلک ہے۔

ماں جیسا دل

سنہ 1960اور 1970 کی دہائی میں گنگو بائی کا کماٹھی پورا میں کافی نام رہا۔ وہ جسم فروشی کا کام کرنے والی متعدد نو جوان لڑکیوں کے لیے ماں کی طرح تھیں۔

گنگو بائی سنہرے کنارے والی سفید ساڑی، سنہرے بٹن والا بلاؤز اور سنہرا چشما پہنتی تھیں۔ وہ کار کا استمعال کرتی تھیں۔

انہیں سونے کے زیورات پہننے کا بہت شوق تھا۔ بچپن میں ان کا خواب اداکارہ بننے کا تھا۔ بعد میں بھی فلمی دنیا میں ان کی دلچسپی برقرار رہی۔ انہوں نے ایسی متعدد لڑکیوں کو گھر واپس ان کے بھیجنے میں مدد کی جنہیں دھوکا دے کر جسم فروشی کے کاروبار کے لیے فروخت کیا گیا تھا۔

انہوں نے جسم فروشی کے کام میں ملوث خواتین کے تحفظ اور ان کے ساتھ ہونے والی ناانصافی کے خلاف بھی آواز اٹھائی۔ انہوں نے ان افراد کے خلاف بھی کاروائی کی جنہوں نے ان خواتین کا استحصال کیا۔

ان کا خیال تھا کہ شہروں میں جسم فروشی کا کاروبار کرنے والی خواتین کے لیے محفوظ جگہ فراہم کرائی جانی چاہیے۔ ممبئی کے آزاد میدان میں خواتین کے حقوق کے لیے ہونے والی ریلی میں ان کی تقریر بہت مقبول ہوئی۔

گنگو بائی کے انتقال کے بعد کئی کوٹھوں میں ان کی تصاویر اور ان کے مجسمے بھی لگائے گئے۔

کریم لالہ

Wikipedia
عبدالکریم خان کو انڈرولرڈ میں کریم لالہ کے نام سے جانا جاتا ہے۔

کریم لالہ اور گنگو بائی

کماٹھی پورا میں پیش آنے والے ایک واقعے کے بعد گنگو بائی کا اثر و رسوخ مزید بڑھ گیا۔ ایک پٹھان شخص نے گنگو بائی سے کوٹھے پر بدسلوکی کی۔ اس نے ان کے ساتھ جبراً جنسی رشتہ قائم کرنے کی کوشش کی۔ انہیں چوٹ پہنچائی اور اس کے بعد انہیں پیسے بھی نہیں دیے۔ ایسا مسلسل ہوتا رہا۔

ایک بار تو انہیں ہسپتال میں داخل کرانے تک کی نوبت آ گئی۔ تب انہوں نے اس شخص کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔ انہیں پتہ چلا کہ اس شخص کا نام شوکت خان ہے اور اس کا تعلق اس وقت کے انڈرولڈ کے ڈان کہے جانے والے کریم لالہ کے گینگ سے تھا۔

عبدالکریم خان کو انڈرورلڈ میں لوگ کریم لالہ کے نام سے جانتے تھے۔ گنگو بائی کریم لالہ کے پاس گئیں اور انہیں پورا معاملہ بتایا۔ کریم لالہ نے گنگو بائی کو تحفظ دینے کا وعدہ کیا۔

اگلے روز جب شوکت خان گنگوبائی کے کوٹھے پہنچا تو اس کی خوب پٹائی ہوئی۔ کریم لالہ نے گنگو بائی کو اپنی بہن قبول کرلیا تھا۔ کریم لالہ کی دوستی اور حمایت کے بعد گنگو بائی کا ان کے علاقے میں نام ہو گیا تھا۔ اب لوگ انہیں پریشان کرنے کی ہمت نہیں کرتے تھے۔

کماٹھی پورا میں قحبہ خانہ

AFP

پنڈت نہرو سے ملاقات

1960 کی دہائی میں کماٹھی پورا میں سینٹ اینتھونی گرلز ہائی سکول کھولا گیا۔ اس کے ساتھ ہی علاقے میں موجود کوٹھے بند کیے جانے کا مطالبہ بھی ہونے لگا۔

اس فیصلے سے کماٹھی پورا میں ایک صدی سے زیادہ عرصے سے چلنے والے کوٹھوں میں کام کرنے والی خواتین کی زندگی متاثر ہونے کا خدشہ بڑھ گیا۔ گنگو بائی نے اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے جی جان سے کوشش کی۔

سیاسی حلقے میں اپنے دوستوں کی مدد سے انہوں نے وزیرا عظم جواہر لعل نہرو سے ملاقات کی عرضی دی۔ حالانکہ یہ ملاقات باضابطہ طور پر کہیں درج نہیں ہوئی لیکن حسین زیدی نے اپنی کتاب میں اس ملاقات کا ذکر کیا ہے۔

زیدی نے ’مافیا کوینز آف ممبئی‘ میں لکھا ہے کہ ’اس ملاقات میں گنگو بائی کی آگاہی اور واضح خیالات سے نہرو بھی حیران ہو گئے۔ نہرو نے ان سے سوال کیا تھا کہ وہ اس کام میں کیوں ملوث ہوئیں جبکہ انہیں ایک معقول ملازمت اور اچھا شوہر مل سکتا تھا۔‘

ایسا کہا جاتا ہے کہ گنگو بائی نے اسی ملاقات میں نہرو کے سامنے تجویز پیش کی کہ اگر وہ ان سے شادی کرنے کو تیار ہوجائیں تو وہ یہ پیشہ چھوڑ دیں گی۔

یہ سن کر نہرو دنگ رہ گئے۔ گنگو بائی نے کہا کہ ’وزیر اعظم صاحب ناراض نہ ہوں۔ میں صرف اپنی بات ثابت کرنا چاہتی تھی۔ مشورہ دینا آسان ہے لیکن اسے خود کر کے دکھانا مشکل ہے۔‘ نہرو نے اس کے جواب میں اور کچھ نہیں کہا۔

نہرو اور گنگا بائی کے اس قصے کا ذکر نہرو سے متعلق دیگر کتابوں میں بھی ہوا ہے۔

ملاقات ختم ہونے پر نہرو نے گنگو بائی سے وعدہ کیا کہ وہ ان کے مطالبات پر غور کریں گے۔ وزیر اعظم کی اس معاملے میں مداخلت کے بعد کماٹھی پورا کے کوٹھے بند نہیں ہوئے۔

فلم گنگو بائی کا پوسٹر

Twitter/AliaBhatt

سنجے لیلا بھنسالی اب گنگو بائی کی زندگی پر مبنی فلم بنا رہے ہیں۔ فلم کا فرسٹ لک لانچ کر دیا گیا ہے جس میں عالیہ بھٹ گنگو بائی کے کردار میں نظر آرہی ہیں۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ایس حسین زیدی نے بتایا کہ ’بھنسالی کو گنگوبائی کی کہانی بہت پسند آئی۔ انہیں لگا کہ اس خاتون کی کہانی بڑے پردے پر نظر آنی چاہیے۔ بھنسالی کے پاس وہ صلاحیت ہے کہ گنگوبائی جسے کردار کی بڑے پردے پر صحیح عکاسی کرسکیں’۔

لوگوں نے گنگو بائی کے بارے میں میری کتاب میں پڑھا ہوگا لیکن اب وہ اس خاتون کی زندگی کو فلم میں دیکھ سکیں گے۔ ہم سب عالیہ بھٹ کی اداکاری سے واقف ہیں۔ وہ ہر کردار کو بخوبی ادا کرتی ہیں۔ مجھے لگتا ہے کہ بھنسالی اور عالیہ بھٹ دونوں اس کہانی کے ساتھ انصاف کر سکیں گے’۔

سنجے لیلا بھنسالی کی یہ فلم 11 ستمبر 2020 کو ریلیز ہوگی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 12770 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp