انٹر یونیورسٹی کنسورشیم برائے فروغ سوشل سائنسز: رواداری، امن اور محبت کا پیغام

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ دور سائنسی علوم کا ہے، انٹرنیٹ نے دنیا کو گلوبل ویلج بنا دیا ہے۔ انٹرنیٹ کی سہولت صرف ٹائم پاس کا ایک ذریعہ ہی نہیں بلکہ بیشمار حقیقی فائدوں سے مالا مال ہے بس صحیح استعمال آنا چاہیے۔ اور جو اس حقیقت سے واقف ہیں ان کے لیے بھی انٹرنیٹ پر میسر بے ہنگم معلومات اور مواد میں سے ایک آسان اور مفید موقع کو identify کرنا کسی پراجیکٹ سے کم نہیں۔ عام مشاہدے میں دیکھا گیا ہے کہ نوجوان سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر لائکس، کمنٹس، ٹیگنگ اورhashtags کی ریس میں پورا پورا دن صرف کر دیتے ہیں۔ گھریلو خواتین کے لیے سمارٹ فون کا مصرف ڈراموں کی missed episodes اور کھانے پکانے کی نِت نئی ترکیبوں کے علاوہ کچھ خاص نہیں۔

دنیا نے سائنسی علوم کی بدولت چاند پر قدم رکھا، انٹرنیٹ کی بدولت دنیا بھر کو ایک جنرل اسٹور بنا کر رکھ دیا اور پھر ای ٹریڈنگ، ای کامرس کے ذریعے خوب تجارت کی جبکہ پاکستان میں آج تک الیکٹرانک تجارت کے لئے پے پال اکا ؤنٹ بنانے کی سہولت بھی میئسر نہ آ سکی۔ ٹیکنالوجی revolution کے اس سنہری دور میں جہاں آنے والے ہر دن کے ساتھ دنیا انفارمیشن اینڈ ٹیکنالوجی کے شعبے میں نئی سمتیں تلاش کر رہی ہیں وہیں ہمارے ملک میں ان سہولتوں کو لوگوں کی تذلیل اور ذاتی رنجشوں کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے۔

ہماری دانش گاہوں سے آتش فشاں پھوٹ رہے ہیں۔ قائد اعظم یونیورسٹی میں گزشتہ کئی سالوں سے لسانی گروہوں کے درمیان ہونے والے تصادم کے نظارے پوری قوم نے دیکھے ہیں۔ جامعہ پنجاب، جامعہ کراچی میں قبضہ گروپس کا عمل اور مقابلے میں دیگر چھوٹے چھوٹے طلباء گروپس کا رد عمل بھی ہمارے سامنے ہے۔ دنیا بھر میں اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگ معاشرے کا حسین چہرہ ہوا کرتے ہیں جبکہ ہمارے ہاں ڈاکٹرز، وکلا اور اساتذہ کا سڑکوں پر دما دم مست قلندر، آئے دن کورٹس، ہسپتالوں اور سکولوں میں تالے لگا کر تہذیب کی دھجیاں اڑائی جاتی ہیں اور پوری قوم کو تذبذب کا شکار کیا جاتا ہے۔ یہ سب تربیت کا فقدان ہے جو سماجی علوم کو پس پشت ڈالنے کی وجہ سے سامنے آیا ہے۔

ایسے حالات میں اس عفریت سے نجات کا واحد ذریعہ سماجی علوم کا فروغ ہے جن کے ذریعے اسٹو ڈنٹس کو غیر نصابی سر گرمیوں میں ملوث کر کے ان کی صلاحیتوں کو مثبت سمت میں موڑا جائے۔ اسی مقصد کی تکمیل کے لئے چند سال پہلے پاکستان کی آٹھ مختلف جامعات کے وائس چانسلرز نے 23 جنوری کے روز ایک کنسورشیم کی بنیاد رکھی جس کا نام انٹر یونیورسٹی کنسورشیم برائے فروغ سوشل سائنسز رکھا گیا۔ ملک میں پہلی بار سماجی علوم کی ترویج کے لئے کسی با قاعدہ ادارے کی بنیاد رکھی گئی، تعلیمی اداروں کو پُرامن بنانے اور رواداری کو یونیورسٹی کیمپسز میں فروغ دینے پر روڈ میپ بنایا گیا، اور اس کے موثر نفاذ کو یقینی بنانے کے لئے مناسب میکانزم تیار کیا گیا۔ کنسورشیم نے اساتذہ کے لئے ورکشاپس کا انعقاد کیا جبکہ ملک بھر کے دور دراز علاقوں سے تعلق رکھنے والے طلباء کے لئے اپنی خدمات دن رات پیش کیں۔ مختلف علاقائی اسٹو ڈنٹس جو لسانی اور علاقائی گروپش میں بٹے ہوئے تھے انہیں انٹرنیشنل سٹوڈنٹس کنونشن کے پلیٹ فارم تلے جمع کیا اور ایک دوسرے کے کلچر، ثقافت سے مستفید ہونے کا موقع دیا تاکہ آئندہ لسانی بنیادوں پر تصادم کی بجائے ایک دوسرے کے تجربات اور لائف اسٹائل سے مستفید ہوا جا سکے اور بین الصوبائی ہم آہنگی پیدا کرنے کے لیے مختلف جامعات کے دورے بھی کروائے گئے تاکہ ملک بھر کی یونیورسٹیوں میں باہمی تعاون اور رابط بڑھایا جاسکے۔

پاکستان کے پہلے انٹر یونیورسٹی کنسورشیم کے 23 جنوری کو آٹھ سال مکمل ہو رہے ہیں، پاکستان کے ہائیر ایجوکیشن کمیشن کی تشکیل کے تحت قائم کردہ انٹر یونیورسٹی کنسورشیم برائے پروموشن آف سوشل سائنسز (IUCPSS) ابتدائی طور پر آٹھ ممبر یونیورسٹیوں پر مشتمل تھا جس میں تمام صوبوں کی نمائندگی تھی جبکہ اب یہ تعداد بڑھ کر 50 سے زائد جامعات تک پہنچ چکی ہے۔ محمد مرتضیٰ نور نیشنل کوآرڈینیٹر کو جامعات کے درمیان تعاون بڑھانے کا ٹاسک سونپا گیا اور اس کے بعد اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے وائس چانسلر کو متفقہ طور پر بانی چیئرپرسن کے طور پر منتخب کیا گیا تھا جبکہ معروف ماہر تعلیم سابق چیئرمین ہائر ایجوکیشن پروفیسر ڈاکٹر نظام الدین نے بھی ایک سال کے لئے اس کمیشن کی سربراہی کی۔

پہلے دن سے، جامعات کے اس اتحاد نے اعلی تعلیمی اداروں میں باہمی تعاون کو فروغ دینے میں ایک اہم کردار ادا کیا ہے۔ قومی، علاقائی اور بین الاقوامی کانفرنسوں کے انعقاد، وائس چانسلرز کی میٹنگز، سیمینارز، ورکشاپس، نیٹ ورکنگ ایونٹس، طلبہ امور کے پروگراموں کے ساتھ ساتھ ممتاز بین الاقوامی یونیورسٹیوں کے ساتھ ممبر یونیورسٹیوں کے رابطے پیدا کرنے کی متعدد سرگرمیاں اس پلیٹ فارم سے مسلسل جاری ہیں۔ متعدد قومی اور بین الاقوامی ماہرین کا خیال ہے کہ ملک میں سائنس اور ٹیکنالوجی کو فروغ دینے اور نوجوانوں کو مختلف شعبوں میں مہارت بڑھانے کے لئے اس قسم کے کنسورشیم کی بہت زیادہ ضرورت ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *