عقل مندوں کو اشاروں پہ ہنسی آنے لگی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آپ نے ضرور یہ دیکھا ہوگا کہ کچھ لوگ محفل کی جان ہوتے ہیں۔ لوگ ان کے گرد جمع ہو جاتے ہیں غور سے ان کی باتیں سنتے ہیں۔ اور ایسے بھی دیکھے ہوں گے جن کی دو چار باتیں سننے کے بعد جمائیاں آنے لگتی ہیں۔  مجمع لگانا بھی ایک فن ہے۔ باتوں میں جان ہو شگفتگی ہو تو لوگ سنتے ہیں، خشک باتوں سے لوگ جلد اکتا جاتے ہیں ۔

پہلے ادوار میں مزاح کو کسی قدر برا جانا جاتا تھا۔ مزاحیہ گفتگو کرنے والوں کو خود پسند اور گھٹیا سمجھا جاتا تھا۔ پلوٹو اور سقراط کا ماننا تھا کہ دوسروں پر ہنسنا ایک گھٹیا بات ہے۔ اور یہ خود پسندی اور احساس برتری کی علامت ہے۔  یہ بھی کہا جاتا رہا کہ اس قسم کی باتیں کرنے والا اپنی اصلی شخصیت اور احساسات کو چھپانا چاہتا ہے۔ کسی شاعر نے شاید اسی لیے کہا۔

تم اتنا جو مسکرا رہے ہو

کیا غم ہے جس کو چھپا رہے ہو

لیکن اور بہت سی تھیوریز کی طرح یہ بات بھی ہوئی پرانی۔ ابھی حال ہی میں نفسیات دانوں نے مزاح کو انسانی رویوں کا ایک اہم جز قرار دیا ہے۔  اب نئی بات یہ ہے کہ مزاح ایک مثبت حس ہے اور یہ صرف آپ ہی کے لیئے نہیں بلکہ جو آپ کے اردگرد لوگوں پر بھی اچھا اثر ڈالتا ہے۔  مزاح کو سمجھنے والے مضبوط اور کسی قدر سچے لوگ ہوتے ہیں۔ وہ محبت کرنے والے، تخلیقی ذہن رکھتے ہیں اور ہمیشہ کچھ سیکھنے کے عمل میں رہتے ہیں۔ اب یہ بات مان لی گئی ہے کہ مزاح ایک مثبت اور پسندیدہ حس ہے اور ماحول کی ایک اہم ضرورت بھی ہے۔ ایک اسٹڈی کے مطابق 90 فیصد مرد اور 81 فیصد عورتوں کے لیئے اپنے پارٹنر میں حس مزاح کا ہونا بہت اہمیت کا حامل ہے۔

کبھی آپ نے ایسا محسوس کیا کہ ایک کمرے میں لوگ جمع ہیں کوئی کچھ کہہ رہا ہے اور سب لوگ اس کی ہر بات پر قہقہے لگا رہے ہیں اور صرف آپ ہی ہیں جسے ان باتوں میں کوئی ہنسنے والی بات نظر نہیں آئی؟ ہنسنے والوں کے ساتھ ہنس دیجیئے اس میں کوئی برائی نہیں۔

 اور کیا کبھی یہ ہوا آپ کے ساتھ کہ آپ جوش و خروش سے کوئی تازہ بتازہ لطیفہ سنا رہے ہیں اور ایک شخص سنجیدہ شکل بنائے آپ کو تک رہا ہے۔ جیسے کہہ رہا ہو کہ۔ ۔ ۔ او کے پھر آگے کیا ہوا؟ اچھی بات یہ ہے کہ آپ ایسی صورت حال کے اکیلے شکار نہیں۔ ایسا سب کے ساتھ ہوتا رہا ہے۔ نظرانداز کر دیں۔ لطیفے کی وضاحت لطیفے کو قتل کرنے کے برابر ہے۔

آپ پرواہ مت کیجئے۔ ہنستے ہنساتے رہیئے۔ کیونکہ ہنسنا سب سے اچھی دوا ہے اور بہت سے غموں کا علاج بھی۔ اگر آپ کو لمبی عمر کی تمنا ہے تو ہنسیئے یہ عمر میں اضافہ کرتا ہے۔

 یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ مزاح آپ کی دماغی صحت کے لیئے بہت مفید ہے۔ یہ زندگی کے اسٹریس کو کم کرتا ہے۔ اور آپ کےاندر مثبت انرجی پیدا کرتا ہے۔ اور یہ انرجی آپ کو روزمرہ کے مسائیل اور چیلنجیز سے نبٹنے میں مدد دیتی ہے۔ اگر آپ یاسیت کا شکار ہیں تو اس میں بھی کمی آ سکتی ہے۔ یہ منفی سوچوں سے دور رکھتا ہے۔

یہ بات تو سب ہی جان اور مان گئے ہیں کہ ہنسنا صحت کے لیئے مفید ہے۔ کھلکھلاتی ہوئی ایک ہنسی آپ کا دوران خون تیز کرتی ہے۔ پھیپھیڑے کھلتے ہیں اور پیٹ کے مسلز بھی تقویت پاتے ہیں۔ ہنسی درد برداشت کرنے میں بھی مدد کرتی ہے۔ ہنسنے سے چہرے کے مسلسلز میں بھی نرمی آتی ہے۔ اور جبڑے بھی مضبوط ہوتے ہیں۔

یہ بات اب حیران کن نہیں ہے کہ ہنسنا ہنسانا لوگوں کو ایک دوسرے کو نزدیک لاتا ہے۔ آپ کو وہ لوگ اچھے لگنے لگتے ہیں جو آپ کے لبوں پر ہلکی سی ہی سہی، ایک مسکراہٹ لا سکیں۔ آپ میں بھی اگر حس مزاح ہو تو لوگ آپ کے گرویدہ ہو جاتے ہیں۔ ویسے بھی مسکراتا چہرہ سب کو اچھا لگتا ہے۔

نفسیات دانوں کا خیال ہے کہ کوئی انسان ایسا نہیں ہے جو حس مزاح سے بالکل عاری ہو۔ یہ الگ بات ہے کہ وہ اس کا اظہار نہیں کر پاتے۔ یا بات کی گہرائی میں پہنچنا ان کے لیئے مشکل ہوتا ہے۔ کچھ کو بات دیر سے سمجھ آتی ہے اور وہ گھر جا کر ہنستے ہیں۔

کچھ ایسے لوگ جو شمع محفل بنے رہنا چاہتے ہیں۔ دوسروں کو بولنے کا موقع نہیں دیتے اور ایک کے بعد ایک لطیفے سناتے ہیں اور سب سے زیادہ خود ہی ان پر ہنستے ہیں۔ اور اگر کوئی اور جوک کرے تو اس پر انہیں ہنسی نہیں آتی۔ یہ خود پسند لوگ ہیں۔ آپ کا شمار ایسے لوگوں میں نہیں ہونا چاہیئے۔

حس مزاح آپ میں لیڈرانہ خوبیاں بھی پیدا کرتا ہے۔ حس مزاح کوئی پیدائشی ہنر نہیں ہے آپ تھوڑی سی کوشش کے بعد یہ فن سیکھ سکتے ہیں۔ اچھے اور جدید قسم کے لطیفے یاد رکھیں اور موقع کی مناسبت سے محفل میں سنایں۔ گھسے پٹے سو دفعہ کے دہرائے ہوئے لطیفوں سے گریز کیجئے۔ اپنی بات کو مختصر رکھیں۔ لوگوں کے پاس اتنا وقت اور تحمل نہیں کہ وہ ایک لمبی داستان سننے بیٹھ جایں۔ جو بھی کہانی آپ سنا رہے ہیں اس کا اختتام حیرت کن ہونا چاہیئے۔ پنچ لاین بہت اہم ہے۔ یہ نہیں کہ یہاں آپ نے بات شروع کی وہاں لوگوں نے اس کا انجام ایک لمحے میں جان لیا۔ اگر آپ کوئی سچی کہانی مزاحیہ انداز میں سنا رہے ہیں تو تھوڑا بہت مبالغہ جائز ہے۔ لیکن اتنا نہ ہو کہ سننے والے اسے آپ کی بڑک سمجھیں۔ اپنی بات کو ادبی مضمون مت بننے دیں۔ اسے سادہ اور آسان الفاظ میں بیان کریں۔ آپ خود کو اپنے مزاح کا نشانہ بنائیں۔ خود پر ہنسیے اور دوسروں کو بھی اس کا موقع دیجیے۔ اور سب سے ضروری بات سامعین کو مد نظر رکھتے ہوئے اپنی بات کہیں۔ یہ نہ ہو کہ آپ اور آپ کے سننے والوں میں ذہنی اور مزاجی فاصلے ہوں۔

عورتوں اور اقلیتوں کو نشانے بنانے سے احتراز کریں۔ ایسا کر کے آپ اپنی ہی قدر کھو سکتے ہیں۔ سیاسی لطائف ہمیشہ پاپولر رہے ہیں۔ سیاست دانوں کو نشانہ بنانا سب کو اچھا لگتا ہے۔ لیکن موقع محل اور سامعین پر غور کر کے بات کیجیئے۔ لوگ بپھر جاتے ہیں۔ پھر بھی اگر آپ کے لطیفوں پر کوئی نہیں ہنستا تو دل چھوٹا مت کریں۔ مشق جاری رکھیں۔ مہذب گفتگو کریں، شستہ مذاق کریں۔ ایک اور اہم بات، آپ مذاق کریں لیکن طنز نہ کریں۔ طنز تحریر میں تو چل جاتا ہے لیکن گفتگو میں اسے ناپسندیدہ سمجھ جائے گا۔ اگر آپ کے کسی جوک پر سننے والوں کے چہرے سنجیدہ ہو جایں تو یہ آپ کے رک جانے کا وقت ہے۔

مذاق اور پھکڑپن میں جو فرق ہے اسے سمجھنا ضروری ہے۔ ایک لاین ہے جو کبھی کبھار پار ہونے لگتی ہے۔ دوسروں کے ساتھ ہنسنا یا دوسروں پر ہنسنا۔ یہ مت کیجئے۔ اگر کرنا ہی چاہ رہے ہیں تو خود کو بھی آمادہ رکھیئے آپ پر بھی ہنسا جا سکتا ہے کسی کو نشانہ بنانے سے پہلے اپنے آپ پر ہنسنا سیکھیئے۔

مزاح کا ایک تاریک پہلو بھی ہے۔ جب یہ کسی کو ٹارگٹ بنا کر کیا جائے۔ دوسرے کو نیچا اور خود کو اونچا ثابت کیا جائے۔ ایسا مذاق فاصلے پیدا کرتا ہے اور آپ رفتہ رفتہ ناپسندیدہ شخصیت بن جاتے ہیں۔

اگر آپ خود مزاح پیدا نہیں کر سکتے تو پریشانی کی بات نہیں۔ آپ ہنسانے والے نہ ہوں لیکن ہنسنے والے ضرور ہو سکتے ہیں۔ زندگی میں ویسے ہی بے شمار غم اور دکھ ہیں۔ آپ کے اندر حس مزاح ہو تو ان دکھوں میں کمی آ سکتی ہے۔

آگے آتی تھی حال دل پہ ہنسی

اب کسی بات پر نہیں آتی

مرزا غالب نے یہ شعر اپنی حالت پر کہا تھا۔ آپ اسے خود پر لاگو مت کیجیئے۔ اور کچھ نہیں تو حال دل پر ہی ہنس دیجیئے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *