کیا مسلم لیگ ن اور طاقتور حلقوں کے درمیان معاملات طے پا گئے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مسلم لیگ ن کے ذرائع نے مسلم لیگ ن اور طاقتور حلقوں کے درمیان معاملات طے پا جانے کی افواہوں کے درست ہونے کی تصدیق کر دی ہے۔ ایکسپریس ٹربیون کے مطابق مسلم لیگ ن کے ایک رکن اسمبلی نے دعویٰ کیا ہے کہ ”ان کی پارٹی اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز شریف کی سیاست میں واپسی کے معاملے کے سوا تمام مسائل پر تصفیہ ہو گیا ہے۔اب مسلم لیگ ن اور اسٹیبلشمنٹ ایک ڈیل کے قریب پہنچ چکے ہیں۔ ایک بارجب یہ ڈیل فائنل ہوتی ہے تو مسلم لیگ ن کے صدر میاں شہباز شریف پاکستان واپس آئیں گے اور ’اِن ہاﺅس‘ تبدیلی کا پراسیس شروع کریں گے۔

“مسلم لیگ ن کے اس رہنماءنے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ”اِن ہاﺅس تبدیلی کے نتیجے میں ایک قومی حکومت قائم کی جائے گی جس میں حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف شامل نہیں ہو گی۔ اس کے بعد انتخابی اصلاحات اور معاشی استحکام پر کام ہو گیا اور پھر نئے انتخابات کرائے جائیں گے۔“

مریم نواز کے معاملے پر لیگی رہنماءکا کہنا تھا کہ ”اس وقت صرف مریم نواز کی سیاست میں واپسی کا مسئلہ ہے جس پر اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ اتفاق نہیں ہو پایا۔ اسٹیبلشمنٹ بظاہر میاں نواز شریف اور مریم نواز شریف کی سیاست میں واپسی کو پسند نہیں کر رہی، کیونکہ انہوں نے حالیہ برسوں میں اسٹیبلشمنٹ کے متعلق انتہائی سخت موقف اپنائے رکھا۔ تاہم شریف فیملی مریم نواز کی سیاست میں واپسی چاہتی ہے لیکن اگر اسٹیبلشمنٹ نہیں مانتی تو شریف فیملی اس مسئلے پر اڑے گی نہیں اور مریم نواز کو پارٹی کے مستقبل کی خاطر کچھ وقت کے لیے سیاست سے باہر رہنے کی کڑوی گولی نگلنے کو کہہ دیا جائے گا۔

اگر معاملات منصوبے کے مطابق چلتے رہے تو مسلم لیگ ن مولانا فضل الرحمن کے ساتھ بھی راستے الگ کر لے گی کیونکہ وہ تصادم کا راستہ اپنانا چاہتے ہیں۔ دوسری طرف اگر معاملات منصوبے کے مطابق نہیں چلتے تو پارٹی مولانا فضل الرحمن کی کسی تحریک کی حمایت کرنے پر غور کر سکتی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *