میرا حق آدھا کیوں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میں نے تقریباً ہر مسلمان عورت کو اللہ سے یہ شکوہ کرتے پایا ہے کہ موروثی جائیداد میں ہمیں بیٹے سے آدھا حصہ دے کر زیادتی کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ جو زبان سے شکوہ نہیں کرتیں وہ یہ کہہ دیتی ہیں کہ اب اللہ کے فیصلوں پر ہمارا کیا بس۔ لیکن دل میں سبھی کے یہ کانٹا ضرور چبھتا ہے کہ اللہ نے یہ تقسیم کر کے عورت کو کم تر کیوں کر دیا ہے۔ چلیں آئیں اِس قانون کو اسلام کی منطق سے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

سورۃ النسأ میں اللہ تعالٰی مرد کو ”قوّام“ کہہ کہ پکارتا ہے۔ جس سے مراد ہے قائم کرنے والا۔ اصطلاح میں جائیں تو اسے گھر کو قائم رکھنے کا مکمل ذمہ دار بنا دیا گیا۔ گھر کو قائم رکھنے میں سب سے بڑی ذمہ داری ہے مالی اخراجات پورے کرنا۔ مرد کو اللہ نے پابند کر دیا کہ وہ اپنے زورِ بازو پر گھر والوں کی تمام ضروریاتِ زندگی مثلاً کھانا پینا، پہننا اوڑھنا وغیرہ پورا کرے۔

نکاح کرے تو بیوی کو مہر دے، ماں باپ حیات ہیں تو ان کی ضروریات پوری کرے، اگر کوئی غیر شادی شدہ بہن ہے تو اس کی ذمہ داری اس کی شادی تک نبھائے، اولاد ہے تو ان کے کھانے پینے سے لے کر تعلیم تک سب اخراجات پورے کرے۔ گھر کے کسی فرد پر بیماری آئے تو علاج معالجے کا انتظام کرے۔ گھر کا کوئی فرد وفات پا جائے تو اس کی تدفین کا بندوبست کرے۔ گھر کی کسی چیز کی مرمت کرنی ہو تو خود کرے یا پیسے دے کر کروائے۔

غرض یہ کہ مرد کو چاہے محنت مزدوری کرنی پڑے یا اپنی جائیداد بیچنے کی نوبت آ پہنچے، لیکن وہ ایک گھر کی مالی ضروریات پوری کرنے کے لئے مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اللہ کے سامنے جواب دہ بھی!

حدیث میں یہ بھی فرما دیا گیا کہ مَردوں میں بہترین شخص وہ ہے جو اپنے گھر والوں پہ خرچ کرے۔

دوسری طرف عورت کو مالی اعتبار سے دیکھا جائے تو اس کو اس جھنجٹ سے پوری طرح بری کر دیا گیا کہ وہ خود کے لئے بھی کمائے۔ وہ بیٹی ہے تو باپ اس کے اخراجات پورے کرے اور بیوی ہے تو شوہر پورے کرے۔ شوہر مر جائے تو بیٹا یا عدت کے بعد دوبارہ شادی کرتی ہے تو دوسرا شوہر اس کا بوجھ اٹھائے۔ ماں ہے تو بیٹا اور بن بیاہی بہن ہے تو بھائی۔ طلاق کی عدت میں ہے تو طلاق دینے والا سابقہ شوہر اور اگر بے سہارا ہے تو ریاست اس کو پناہ اور زندگی کی بنیادی سہولیات میسر کرے۔

جب اللہ تعا لٰی نے عورت پہ اس کا اپنا بھی مالی بوجھ نہیں ڈالا اور اس سے منسوب مرد رشتہ داروں پر فرض کر دِیا کہ وہ اس کی کفالت کریں تو اصولاً ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اس کو جائیداد کا آدھے سے بھی کم حصہ ملتا یا ملتا ہی نہ تو بھی بہت تھا۔ لیکن وہ رب اتنا کریم ہے کہ اس نے پھر بھی عورت کے ہر رشتے کے ترکے میں اس کا کچھ نہ کچھ حصہ مختص کر دیا۔ بیٹی ہے تو باپ، ماں ہے تو اولاد، بہن ہے تو بھائی اور بیوی ہے تو شوہر کے چھوڑے جانے والے مال میں اس کو مناسب حصہ الاٹ کر دیا۔

اور کمال تو یہ ہے کہ اس کے اس حصے میں کوئی اور دعویٰ دار بھی نہیں ہو سکتا۔ مثال کہ طور پہ اگر کسی کا باپ فوت ہو جائے تو بیٹے پر ذمہ داری پڑ گئی کہ وہ ماں اور بہن کی کفالت کرے۔ لیکن ماں اور بہن کو ترکہ میں سے جو بھی ملا وہ ان کا اپنا ہے۔ بیٹے کو چاہے کفالت کے لئے اپنے حصے میں سے خرچ کرنا پڑے لیکن وہ ان دو خواتین کے حصے کا مال ان کی اجازت کے بغیر نہیں لے سکتا۔

دوسری طرف عورت کا گھر میں کردار دیکھا جائے تو اس کو سب سے بڑی اور ضروری ذمہ داری دی گئی اولاد کی تربیت۔ اور اس کو مرد کے ماتحت کر دیا گیا تا کہ دونوں مل کر گھر کے انظام کو بہتر طریقے سے سر انجام دے سکیں۔ شادی کرنے پہ مرد پہ لازم کیا گیا کہ وہ عورت کو مہر دے اور شادی کے بعد اس کا نان نفقہ پورا کرے۔ نہ ہی وہ جبراً مہر معاف کروا سکتا ہے حتّٰی کہ اگر وہ دیے بغیر مر جائے تو اس پہ قرض رہے گا کہ اس نے مہر ادا نہ کیا۔

مگر عورت پہ شادی کے اخراجات یا اس کے بعد کے لئے ایسی کوئی شرط نہیں لگائی گئی۔ عورت کام کرنا چاہے تو مرد کو اجازت نہیں دی گئی کہ وہ اس سے گھر پہ خرچ کرنے کا مطالبہ کرے۔ عورت کو اپنے والدین کی طرف سے جو جائیداد ملے اس پہ بھی اسکا شوہر سوال نہیں کر سکتا۔ بہن کو باپ کے ترکہ میں سے جو ملے، اس پہ بھائی سوال نہیں کر سکتا۔ یعنی عورت کا جو بھی مال ہو وہ اس کا اپنا ہے۔ مرد اس میں ہرگز دعویٰ دار نہیں۔

اور اس حکم کو قرآن میں بیان کرنے کے لئے رب عزوجل نے کیا خوبصورت انداز اپنایا کہ دو بیٹیوں کے برابر ایک بیٹے کا حصہ۔ (سورة النسأ۔ آیت 11 )

یہ نہیں فرمایا کہ بیٹے کا نصف بیٹی کا۔ یعنی عورت کو بات کرنے کے انداز میں بھی مرد سے نیچے نہ کِیا۔

ایک غیر مسلم نے قرآن کامطالعہ کرنے کہ بعد کہا تھا کہ ایسا لگتا ہے کہ یہ کسی عورت کی تحریر ہے کیونکہ اس کتاب میں عورتوں کے اتنے حقوق درج ہیں جو کسی اور مذہب یا دستور میں نہیں۔ جب جب آپ قرآن کے احکام سمجھیں گی آپ کا دل اس رب کریم کی محبت سے بھرتا جائے گا۔ اِس سب کے بعد تو ہمیں مردوں پہ ترس آنا چاہیے کہ ان پہ کتنی بڑی ذمہ داری بھی ڈالی گئی اور ہم عورتوں کے بارے میں اللہ کے سامنے جواب دہ بھی ٹھہرے!

اللہ تعالٰی ہمیں توفیق دے کہ اسکے بنائے گئے ہر قانون میں چھی ہوئی حکمت کو بہتر طریقے سے سمجھ سکیں!

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *