سب پہ نظر رکھنے کی دو دھاری تلوار

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آج ہمارے گھر کے نزدیک کی مسجد میں امام خطیب نے خلاف معمول اپنا خطبہ جلد تمام کیا اور کہا کہ ہمارے ایک بھائی آپ سے بات کرنا چاہیں گے۔ میں نے تیسری صف سے ایک کلین شیو شخص کو آگے بڑھتے دیکھا جس نے امام خطیب سے مائک پکڑ کے نمازیوں کی جانب رخ موڑا تو پنجاب پولیس کی ناپسندیدہ نئی یونیفارم پہنے اس شخص کی ایک جیب پر DSP کڑھا ہوا پڑھ کے حیرانی بھی ہوئی اور کمر میں سرد لہر بھی دوڑی کہ اللہ خیر کرے۔

خیر موصوف نے بات شروع کی اور کہا کہ پولیس اور عوام میں رابطے کی ایک خلیج ہے، جسے کم کیے جانے کی ضرورت ہے۔ آپ پولیس والوں کو غلط سمجھتے ہیں ہم پولیس والے عوام کو غلط سمجھتے ہیں۔ منبر رسول ایک ایسا مقام ہے جہاں سے اوائل سے ہی سماجی معاملات بارے بات کی جاتی تھی۔ یہ ایسا مقام ہے جہاں کوئی جھوٹ بولنے کا تصور نہیں کر سکتا۔ آج میرے یہاں آنے کے دو مقاصد ہیں، ایک تو یہ کہ نماز جمعہ ادا کر لوں دوسرے یہ کہ آپ لوگوں سے تحصیل پولیس کے سربراہ کے طور پر بات کر لوں۔

انہوں نے پہلے تو یہ کہا کہ تھانے آپ کے ہیں۔ میرا دفتر آپ کا ہے۔ آپ آئیں اور ہمیں اپنے مسائل بتائیں۔ اکیلی پولیس معاملات کو درست نہیں کر سکتی۔ یہاں مجھے معاملہ کچھ عجیب لگا کہ معاشرے میں غلط معاملات تو انتظامیہ کو پولیس کے ساتھ مل کر ہی درست کرنے ہوتے ہیں۔ خیر ممکن ہے وہ عوام کے تعاون کی بات کرنا چاہتے ہوں اور انہوں نے اگلی بات ایسے ہی شروع کی کہ ”ففتھ جنریشن وار“ کا زمانہ ہے۔ ہم آپ نے اپنے بچوں کو ضرورت اور مجبوری کے تحت سمارٹ فون سیٹس اور لیپ ٹاپ خرید کر دیے ہیں۔ آپ سب کا فرض ہے کہ اپنے گھروں میں موجود نوجوان لڑکے لڑکیوں کے یہ گیجٹس چیک کریں کہ وہ کیا بات چیت کرتے ہیں، کس سے کرتے ہیں۔

پھر انہوں نے بات کو موڑا اور ففتھ جنریشن وار کو لڑکوں لڑکیوں کے درمیان محبت اور لو میرج کے علاوہ نوجوان لڑکے لڑکیوں میں منشیات کے بڑھتے ہوئے رجحان سے بھی منسوب کر دیا۔ ساتھ ہی کہا کہ علی پور تو چھوٹا شہر ہے، مگر لاہور میں اب یونیورسٹیوں کی لڑکیاں بھی منشیات کا استعمال کرنے لگی ہیں۔ لاہور میں اگر کوئی لڑکی ایسا کر رہی ہے تو بھی وہ ہماری ہی بیٹی یا بہن ہوگی۔ بیٹوں، بیٹیوں، بہنوں کے فون چیک کرنے کی تلقین کو مضبوط کرنے کی خاطر انہوں نے کہا کہ مجھے اپنی کسی بہن کے گمراہ ہونے کا ایک فیصد بھی شائبہ نہیں لیکن میں اس کے ایسے آلات کا جائزہ لیتا ہوں۔ ایسا کرنا میرا فرض ہے اور آپ سب کا بھی۔

ساتھ ہی انہوں نے بتایا کہ علی پور میں موٹر سائیکل چوری بہت زیادہ ہوتی ہے ویسے بھی علی پور میں موٹر سائیکلیں پنجاب کے اسی حجم کے سب شہروں سے زیادہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اول تو آپ موٹر سائکلوں کو تالا لگانا اور محفوظ مقامات پر کھڑا کرنا نہ بھولیں۔ دوسرے یہ کہ اگر آپ کی گلی میں کوئی مشکوک شخص کھڑا ہے یا آ جا رہا ہے تو اس سے پوچھیں کہ میاں تم کون ہو اور یہاں کیا کر رہے ہو؟ پھر آپ کے علاقے میں اگر کوئی کرایہ دار ہے جو بظاہر کوئی کام نہیں کرتا مگر خوشحال ہے، اس کے بارے میں اگر آپ کو شک ہو تو پولیس سے رجوع کریں تاکہ ایسے لوگوں کو چیک کیا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر آپ کے علاقے میں کوئی جرم ہوا ہے تو آپ آ کر مجھے یا ایس ایچ او کو بس اتنا بتا دیں کہ میرے خیال میں ایسا ہوا ہوگا۔ آپ کی شناخت خفیہ رکھنا ہمارا فرض ہوگا۔ اس طرح اگر کسی ایک آدمی کو انصاف مل گیا تو سمجھیں کہ آپ کی عاقبت سنور گئی۔ انہوں نے شاید یہ لفظ استعمال نہیں کیے مگر مدعا یہی تھا۔ میں سوچا کیا کہ اگر کسی کی غلط بیانی کے سبب کسی کے ساتھ نا انصافی ہو گئی تو اس بیچارے کی تو دنیا خراب ہو گئی۔

بعد میں انہوں نے کھلی کچہریاں لگانے سے متعلق حکومت کے پروگرام کا تذکرہ بھی کیا۔ بدیہی طور پر علاقے کے اعلٰی پولیس افسر کا لوگوں سے رجوع کرنا ایک مستحسن اقدام لگا لیکن ایسا کرنا دو دھاری تلوار کی مانند ہوتا ہے۔ حکومتی عہدیداروں، خاص طور پر پولیس حکام سے مراسم بنانے کا شوق بہت لوگوں کو ہوتا ہے۔ ہر شخص دوسرے کے بارے میں درست یا غلط اطلاع دے سکتا ہے، یوں ملک ”پولیس سٹیٹ“ بن سکتا ہے۔

اگر ہمارے ہاں پولیس اپنی تربیت اور وسائل کے حساب سے معیاری ہوتی تو کوئی وجہ نہیں تھی کہ پولیس کو اس طرح کھلے عام عوام کے ساتھ رابطہ کرنا پڑتا۔ ایک دوسرے پر نگاہ رکھنا ایسے ملکوں میں ہوتا ہے جہاں سخت گیر استبددای حکومتیں ہوں، آمریت ہو یا ایک پارٹی کی نام نہاد نظریاتی حکومت جیسے کہ سوویت یونین میں تھا، جیسے کہ چین، ایران، شمالی کوریا، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات وغیرہ میں ہے۔

طب کے حوالے سے Steroid کو دودھاری کہا جاتا ہے کہ ایک محدود مقدار میں یہ بہترین دوا ہے لیکن زیادہ مقدار میں ضرررساں بعض اوقات سم قاتل بھی اسی طرح ”ہر ایک پہ نگاہ رکھو“ کی پالیسی بظاہر تو حکومت کو مضبوط کرتی دکھائی دیتی ہے مگر وہی عوام کے لیے عذاب اور انجام کار حکومتوں کے انہدام کا بھی موجب بنا کرتی ہے

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *