تحریک انصاف کے تابوت میں آخری کیل

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دو دہائیوں سے ایک سوال اکثر میرے دماغ میں کلبلاتا رہتاتھا کہ ذوالفقار علی بھٹوکو جب پھانسی دی گئی تو عوام نے اپنے محبوب قائد کو بچانے کے لئے کوئی احتجاج کیوں نہیں کیا یہ تو بھٹوصاحب کے مخالفین بھی تسلیم کرتے ہیں کہ بھٹوصاحب ایک قابل لیڈرتھے اور ان کی عوامی مقبولیت کے بارے میں تو کوئی دورائے نہیں ہے۔ بہت سے اساتذہ سے اس بارے میں سوال کرتارہتاتھامگر کوئی تسلی بخش جواب نہ ملتاتھا۔ چند روز قبل بھٹوصاحب کے قریبی ساتھی سے ملاقات کا شرف نصیب ہوا۔ حسب روایت ان سے بھی میں نے یہ سوال پوچھا اوران کے جواب میں میرے ذہن میں موجود بہت سی گتھیوں کو سلجھا دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ بھٹوصاحب نے جب ایوب خان کو خیر باد کہا تو ان کی خواہش تھی کہ مولانا بھاشانی کی نیشنل عوامی پارٹی کو جوائن کریں مگر انہیں سیکرٹری جنرل سے کم کوئی عہدہ بھی قبول نہ تھا۔ عوامی نیشنل پارٹی کے اس وقت کے جنرل سیکرٹری بھٹوصاحب کے ذاتی دوست تھے اور بھٹو صاحب کے حق میں دستبردار ہونے کوبھی تیارتھے۔ مگر پارٹی ورکرز کی اکثریت کا مطالبہ تھا کہ پارٹی آئین کے مطابق بھٹوصاحب دوسال تک بطور ورکر کام کرنے کے بعد ہی کسی بڑے عہدے کے اہل ہوسکتے ہیں۔

بھٹوصاحب کو یہ منظور نہ تھاسو انہوں نے لاہور میں 1967 ءمیں ڈاکٹر مبشرحسن کی رہائشگاہ پر پاکستان پیپلزپارٹی کی بنیادرکھی۔ جے اے رحیم، ڈاکٹر مبشرحسن اور ملک معراج خالد جیسی ہستیوں نے پیپلزپارٹی کا چار نکاتی منشور لکھا مگر پیپلز پارٹی ایک ایسی سیاسی جماعت تھی جس کا کوئی آئین تحریرنہیں کیا گیا تھا۔ اسی بات نے بھٹوصاحب کی خودسرطبیعت کو خوب ہوادی۔ مسند اقتدار پر بیٹھنے کے بعد بھٹوصاحب نے امریکی دباؤ پر ملک معراج خالدکوبرطرف کردیا اور پھر امریکہ کے ہی دباؤ پر ڈاکٹر مبشر حسن سے وزارت خزانہ واپس لے لی۔ جس کی وجہ سے ڈاکٹر مبشر حسن بددل ہوگئے اور پارٹی سے استعفیٰ دے دیا۔ مگر بھٹوصاحب نے استعفیٰ قبول نہ کیا اور ان سے درخواست کی کہ آپ استعفیٰ نہ دیں اس سے پارٹی ورکرز میں بددلی پھیل جائے گی۔

بھٹوصاحب نے آتے ہی 1400 بیوروکریٹس اور سرکاری افسران کو معطل کردیا تھا۔ اس لیے بیوروکریسی ان سے نالاں تھی۔ بھٹوصاحب نے بیوروکریسی کو خوش کرنے کے لئے یا کسی اورمصلحت یا دباؤ کے تحت پیپلز پارٹی میں موجود انتہائی لیفٹسٹ نظریات رکھنے والوں کو دیوارسے لگادیا۔

شیخ رشید کو پنجاب کی صدارت سے ہٹا کر افضل وٹوکو پاکستان پیپلزپارٹی پنجاب کا صدر بنادیا اس کے بعد ہر علاقے کے انتظامی افسران کے منظورِ نظر افرادکو پارٹی کے عہدے سونپ دیے۔ پارٹی کے انقلابی اور نظریاتی کارکن بھٹوصاحب کے ان اقدامات سے بددل اورمایوس ہوگئے۔ اور یوں یہ فیصلہ بھٹوصاحب کے سیاسی تابوت کا آخری کیل ثابت ہوا۔

ہمارے موجودہ وزیراعظم عمران خان شاید قابلیت یا سیاسی بصیرت کے حوالے سے بھٹوصاحب کے ہم پلہ تونہیں مگر پھربھی ان دونوں میں کچھ مماثلت ضرور نظر آتی ہے۔ عمران خان بھی بھٹوصاحب کی طرح آکسفورڈ سے تعلیم یافتہ ہیں۔ بھٹوصاحب کی طرح عمران خان بھی ایک کرشماتی شخصیت کے مالک ہیں۔ بھٹو صاحب کی طرح اقتدارمیں آنے سے قبل معاشرے کے پسے ہوئے طبقات کے حقوق کی بات کرتے نظر آتے تھے۔ اسی طرح نوجوانوں کی زیادہ تر تعداد عمران خان کے ساتھ تھی۔

عمران خان بھی بھٹوصاحب کی طرح اپنے سیاسی مخالفین کو الٹے القابات سے نوازتے رہے ہیں۔ تحریک انصاف میں بھی پیپلزپارٹی کی طرح ون مین شوہی چلتاہے۔ جو طاقتیں بھٹوصاحب کو اقتدارمیں لے کر آئیں انہیں کے کندھوں پر سوار ہوکرعمران خان بھی مسنداقتدارپر براجمان ہوئے۔ عمران خان صاحب نے بھٹوصاحب کے نقش قدم پرچلتے ہوئے سب سے پہلے اپنے سب سے قریبی اور مخلص ساتھی اسدعمر جن کے پاس وزارت خزانہ کا قلمدان تھا وزارت واپس لے لی۔

مجھے یادہے کہ 2018 کے الیکشن سے پہلے میں اور میرے چند دوست عمران خان صاحب کو آئیڈیلائزکیا کرتے تھے ہمیں لگتاتھاکہ ہمارے ملک کے تمام مسائل دی دوا صرف عمران خان ہے۔ ہم سب دوست صبح سے لے کر رات گئے تک عمران خان کی کمپین کیا کرتے تھے۔ میرے اباجی اس وقت ہمیں سمجھاتے کہ اس ملک کا اصل حکمران کوئی اور طبقہ ہے یہ سیاست دان تو صرف کٹھ پتلیاں ہوتے ہیں۔ مگر ہم لوگ اباجی کے اس خیال سے متفق نہ تھے۔ ہمیں عمران خان باقی تمام سیاست دانوں سے علیحدہ مخلوق معلوم ہوتے تھے۔ مگر اب اس وقت ملک کے جو حالات ہوچکے ہیں۔ ہم ان لوگوں سے منہ چھپاتے پھرتے ہیں جن سے ہم نے تحریک انصاف کے لئے ووٹ مانگے تھے۔

بھٹوصاحب سے عمران خان کی آخری مماثلت مجھے تب نظر آئی جب میں نے وہ نوٹیفکیشن دیکھا جس میں بہاول پور میں تحریک انصاف کے ضلعی عہدے داروں کی تعیناتی کی گئی تھی۔ مجھے ایک ہی شخص ایسانظر آیا جو عمران خان کا حقیقی انقلابی اور نظریاتی کارکن تھا مگر اس نے بھی اس کھلی نا انصافی پر استعفیٰ دے دیا۔ اس فہرست میں ایسے بھی لوگ موجود ہیں جو نجی محفلوں میں عمران خان اور اس کے نظریات کا مذاق اڑاتے ہیں۔

مانا کہ عمران خان کو مسند اقتدارپر بٹھانے میں خفیہ طاقتوں کا بڑا ہاتھ ہے مگر عمران خان کی اصل طاقت تحریک انصاف کے نظریاتی اور انقلابی کارکن تھے جن کو دیوارسے لگادیاگیا ہے۔ میراخیال ہے تحریک انصاف کی نئی تنظیم سازی تحریک انصاف کے سیاسی تابوت میں آخری کیل ثابت ہوگی

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
ذیشان لطیف کی دیگر تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *