عوام کی موجودہ نظام سے مایوسی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ملک کی موجودہ حکومت عوام میں اپنا اعتماد کھو چکی ہے۔ اس کی بنیادی وجہ عوام کے مسائل حل کرنے میں حکومت کی عدم دلچسپی ہے۔ حالیہ مہنگائی کی لہر سے عام آدمی کی زندگی متاثر ہوئی ہے۔ مہنگائی سے عوام میں بے حد غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔ ایک کے بعد ایک نیا جھٹکا! کبھی بجلی مہنگی، کبھی گیس، کبھی پٹرول اور کبھی آٹا۔ ایسا لگتا ہے جیسے حکومت کی رٹ اس مہنگائی کو کنٹرول کرنے میں ناکام ہو چکی ہے۔ کیونکہ حکومتی دعوے صرف دعووئں کی حد تک نظر آرہے ہیں۔

بے تحاشا مہنگائی کی وجہ عوام میں ہیجانی کی سی کیفیت ہے۔ اور اب عوام اس بات کو سوچ رہے ہیں کہ جن حکمرانوں کو ووٹ کا حق استعمال کرکے وہ اقتدار کے ایوانوں میں لے کر آئے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ شاید وہ غریب عوام کے لئے کچھ کریں گے اور ان کے حقوق کے لئے جہدوجہد کریں گے فی الحال ایسا نظر نہیں آرہا۔

لگتا ایسا ہے کہ عوام نے اقتدار کے ایوانوں میں جن نمائندوں کو اپنا قیمتی ووٹ دے کر منتخب کیا ان کے اندر عوام کے بنیادی مسائل کو حل کرنے کے لیے صلاحتیں ہی نہیں ہیں۔ جناب وزیراعظم پاکستان عوام کو درپیش مسائل کی کئی وجوہات بیان کرتے ہیں۔ وہ اکثر اس کا الزام کرپشن، بیرونی قرضوں، حکومتی اداروں کی کمزوری اور ناقص منصوبہ بندی کو بھی ٹھہراتے ہیں۔ موجودہ حکومت کو اقتدار سنبھالے ڈیڑھ سال کا عرصہ ہونے کو ہے۔

اور اب بھی موجودہ حکومت حالات کی ذمہ دار پچھلی حکومت کو سمجھتی ہے۔ موجودہ حکومت کو حالات کی سنگینی کا اندازہ ہی نہیں ہورہا۔ اس بات میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ موجودہ حکومت کو جن چیلنچزکا سامنا ہے ان مسائل کو حل کرنے کے لئے ان کی کوئی موثر حکمت عملی نظر نہیں آرہی ہے۔ اس کی ایک وجہ کمزور ادارے اور ناقص منصوبہ بندی ہے۔ اس ملک میں اقتدار کے ایوانوں میں آنے والے نمائندوں میں جب تک باصلاحیت نمائندے ابھر کر سامنے نہیں آئیں گے، جو قومی جذبے سے سرشار ہوکر شب و روزاس ملک کی بہتری کے لئے کام کریں۔

موجودہ اسمبلیوں میں موجود اراکین کی صلاحیتوں پر اگر نظر ڈورائیں تو ان میں بیشتر اراکین کی تعلیمی صلاحیتوں میں کمی، غیر سنجیدہ رویے، اور عوام کے بنیادی مسائل سے لاعلمی جیسی خامیاں نظر آئیں گی۔ ایوان میں بیشتر اراکین کی تعداد ان سیاستدانوں کی ہے جن کو عوام عرصہ دراز سے منتحب کررہے ہیں اور وہ موروثی سیاست کرتے چلے آرہے ہیں۔ ایوان میں کحچھ نئے چہرے بھی سامنے آئے لیکن ان کی صلاحتیں اجاگر کرنے میں کافی وقت درکار ہوگا۔

جب تک ہمیں ایوان کے اندر سنجیدہ، پڑھے لکھے اور عوام کے مسائل سے بخوبی علم رکھنے والے نمائندے نظر نہیں آئیں گے تب تک یہ ایوان کیسے درست سمت میں چلے گا۔ اس ملک میں ایک کلرک کو بھرتی کرنے کے لئے تو اس کی تعلیم قابلیت دیکھی جاتی ہے اور اس کے لئے ٹیسٹ انٹرویو کرنے کے لئے ایک ادارہ بھی ہوتاہے لیکن بدقسمتی سے اقتدار کے ایوانوں میں جن نمائندوں کو ہم اپنا قیمتی ووٹ دے کر منتخب کرتے ہیں ان میں قابلیت کے چانچ پرتال کے لئے کوئی خاص نظام موجود نہیں۔ جب تک پڑھے لکھے اور، سنجیدہ لوگ اقتدار کے ایوانوں میں نہیں آئیں گے تب تک عوام کے بنیادی مسائل حل نہیں ہوں گے۔

عوام اب اس نام نہاد جمہوری نظام سے تنگ آچکے ہیں اور وہ اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے نمائندوں سے مایوس نظر آرہے ہیں اور سوچ رہے ہیں اگر ان کی ووٹ سے منتخب ہونیوالے نمائندے ان کے بنیادی مسائل کا حل تلاش نہیں کرسکتے تو کیوں نہ اس نظام کے خلاف اپنی آواز بلند کریں۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ حالات کی سنگینی کو سمجھتے ہوئے عوام کے مسائل کے حل کے لئے موثر حکمت عملی اپنائی جائے اور سنجیدہ کوشش کی جائے۔ مہنگائی کے تسلسل کو نہ صرف روکنا ہوگا بلکہ حکومت کی رٹ میں بھی بہتری لانی ہوگی۔

جب تک موجودہ حکومت سنجیدہ کوشش نہیں کرے گی اور موجودہ حالات کو بہتر نہیں کرے گی تب تک عوام کے غصے اور بے چینی کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔ کہیں ایسا نہ ہو عوام کے اندر پایا جانیوالا غصہ اتنا زیادہ ہوجائے اور اس نظام کے خلاف اعلان حق بلندکردے جو بعد میں حکومت کی کنٹرول سے باہر ہوجائے اور اس نام نہاد جمہوری نظام کو لپیٹ دے۔ کیونکہ عوام کی طاقت ہی اصلی جہموریت کاسرچشمہ ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
محمد احسان الحق، اسلام آباد کی دیگر تحریریں

3 thoughts on “عوام کی موجودہ نظام سے مایوسی

  • 27/01/2020 at 9:35 am
    Permalink

    عوام کی موجودہ نظام سے مایوسی

    Nice article

  • 27/01/2020 at 9:37 am
    Permalink

    Really its true , Majooda Hukmarano say Awam ab Bezaar ho chuki hey . App nhi bht achi Akasii ki hey keep it up

  • 27/01/2020 at 10:18 am
    Permalink

    True sir

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *