اضافی ٹیکس پر عوامی شکایت کا ازالہ!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ملک کے نظام کو چلانے کے لئے انتظامیہ ووٹوں سے منتخب ہو کر آئے یا پھرمقتدر قوتوں کے امتحان پاس کرکے دونوں کو پیسہ چاہیے اور پیسہ حکومتیں مختلف مد میں ٹیکس لگا کر جمع کرتی ہیں۔ ٹیکس کا نظام کوئی نیا نہیں ہے۔ دنیا میں حکومتوں کے تصور کے ساتھ ہی ٹیکس کا نظام کسی نہ کسی صورت چلا آرہا ہے۔ ملک میں آمریت ہو یا جمہوریت ٹیکس کا نظام ہر نظام حکومت کے لئے ریڑ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ نظام حکومت کو مفلوج ہونے سے بچانے کے لئے بطور شہری سب کی انفرادی ذمہ داری ہوتی ہے کہ ٹیکس کے نظام کو سپورٹ کریں۔

تاکہ ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہوسکے۔ لیکن عوام کے ذہنوں میں پیوست ہے کہ حکمران ٹیکس کے پیسوں کو عوام پر خرچ کرنے کی بجائے خود کی تجوریاں بھرتے ہیں۔ جبکہ دیگر ممالک میں ٹیکس کے پیسے عوام کے فلاح و بہبود کے لئے استعمال کیے جاتے ہیں۔ وہاں ایسے منصوبوں پر زیادہ زور دیا جاتا ہے جس سے عام آدمی کو سہولت ملنے کے ساتھ ریونیو بھی پیدا ہوسکے۔ حکومتیں ایسی اشیاء۔ مقامات یا سہولیات پر ٹیکس لگانے سے گریز کرتی ہے جو عوامی مشکلات میں اضافے کا باعث بنتا ہے۔ جبکہ ہمارے ہاں ٹیکس لگانے سے لے کر ٹیکس وصولی تک کے تمام معاملات کو عوامی مشاورت کے بغیر عوام پر بیجا بوجھ ڈالنے کو فوقیت دی جاتی ہے۔

پاکستان میں ہر شخص پیدانے سے مرنے تک یہی سنتا رہتا ہے کہ لوگ ٹیکس نہیں دیتے۔ لیکن جب پیسے کمانے سے خرچ کرنے تک غور وفکر کرتے ہیں تو احساس ہو تا ہے کہ وہ ہر چیز پر ٹیکس کی مد میں کافی رقم سرکار کو دے رہے ہیں۔ یہاں تک کہ پیدائش سر ٹیفکیٹ سے لے کر موت کے سر ٹیفکیٹ تک سرکار کے خزانے میں پیسے جمع تو ہوتے ہیں۔ مگر عوام کے لیے تمام بنیادی سہولیات ناپید ہیں۔ ہر آنے والی حکمران پہلے خزانہ خالی ہونے کا ا علان کرتے ہوئے گزشتہ دور حکومت پر ڈال کر اپنے فرض سے سبک دوش ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔ بعدازں سارا ملبہ عوام پر ڈال دیا جاتا ہے کہ وہ ٹیکس ادا نہیں کرتے۔ جبکہ غریب عوام بڑھتی مہنگائی میں ٹیکسوں کے بوجھ تلے بڑی مشکل زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

اس پر ستم طریفی یہ ہے کہ ہر بجٹ میں ٹیکسوں میں اضافے کے ساتھ دائرہ کار بڑھانے کی غرض سے باقی ماندہ چیزوں پر بھی ٹیکس لگا کر مری ہوئے عوام کو مارنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ یہ عوامی شکایت تو انکم۔ پراپرٹی اور سیلز ٹیکس کے بارے میں ہے۔ جبکہ ان گنت ٹیکسوں میں ایک ٹول ٹیکس بھی ہے جس کے طریقہ کار پر غور کیا جائے تو مختلف پہلوؤں کے اعتبار سے کھولی لوٹ کھسوٹ نظر آتی ہے۔ عوام کے لیے ٹول ٹیکس کی مد میں لوٹ مار پہلے ہی ناقابل برداشت تھی۔ اب حکومت پنجاب نے رنگ روڈ پر سفر کرنے والوں کے لئے ٹول ٹیکس میں مذید اضافہ کردیا ہے۔ کار اور جیپ کے لئے ٹول ٹیکس 45 روپے۔ ہائی ایس ویگن اورمنی بس کے لئے ٹول ٹیکس 90 روپے۔ بس کے لئے 230 روپے اور لوڈر پک اپ کے لئے 270 روپے۔ جبکہ ٹرک اور ٹرالر کے لئے 450 روپے ٹول ٹیکس کر دیا گیا ہے۔

عوام سراپا احتجاج ہیں۔ مگر ایوان اقتدار میں حکمرانوں کے کانوں پر جوں نہیں رینگتی۔ حکمران عوام کی بات زبانی کلامی تو کرتے نہیں تھکتے۔ مگر عملاًعوامی ریلیف دینے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ حکومتی کا بینہ کو عوام پر ٹیکس لگاتے اور اضافہ کرتے وقت اس بات کو مد نظر رکھنا چاہیے کہ درجہ بندی کے اعتبار سے ہر شہری مروجہ ٹیکس اداکرنے کی کتنی سکت رکھتا ہے۔ لیکن ایسا لگتا ہے کہ انہوں نے قسم کھارکھی ہے کہ عوام سے تبدیلی کے نام پر منتخب کرنے کا بدلہ لینا ہے۔

بدقسمتی سے عوام کے لیے مرتب کی جانے والی تمام تر پالیسی سازی میں عوام کی مشاور ت نہیں۔ اسی لیے عام آدمی حکومت سے نالاں ہے۔ وہ سردست سوال کرتانظر آتا ہے کہ میں جو بھی کماتا ہوں اس میں سرکار کا کتنا اور کیا کردار ہے؟ کیونکہ جو لوگ سرکاری یا کسی بڑی پرائیویٹ فرم میں نوکری کرتے ہیں۔ وہ بیچارے توٹیکس ادا کرنے سے بچ ہی نہیں سکتے۔ کیونکہ ان کی تنخواہوں میں سے ٹیکس کٹوتی پہلے ہی ہوجاتی ہے اورٹول ٹیکس انہیں روزانہ آتے جاتے الگ ادا کرنا پڑتا ہے۔

ایک ٹول ٹیکس سے دن میں دو چار بار گزرنے والے غریب شہری۔ جس میں خاص طور پر ڈاکٹرحضرات، سٹاف نرسیں، اور اسی لحاظ سے انسانی خدمات دینے والے دیگرحضرات جو پرائیویٹ گاڑیوں پر سفر کرتے ہیں۔ یہ ٹول ٹیکس کی مد میں اضافی جگا ٹیکس کیسے برداشت کرسکتے ہیں۔ اگر یہ ٹول ٹیکس دس سے پندہ روپے ہو جاتا تو قابل برداشت تھا۔ مگرپتالیس روپے ہوجا نے پرتو منشی ہسپتال کے معزز ڈاکٹر رضوان بھی تلملا اُٹھے۔ کہنے لگے کہ مجھے اکثر اوقات مریض دیکھنے کے لیے متعد بار ہسپتال جانا پڑتا ہے۔ قریبی ٹول ٹیکس پر آتے جاتے پتالیس روپے وصول کیے جاتے ہیں جو صر یحاً زیاتی ہے۔

ڈاکٹر رضوان پرو فیشنل ہیں اور عرصہ دراز سے منشی ہسپتال میں خدمات خلق سر انجام دے رہے ہیں۔ انہوں نے کبھی پروفیشن کے علاوہ سیاست پر اظہار خیال نہیں کیا۔ مگر اضافی ٹول ٹیکس پر سراپہ احتجاج تھے۔ یہ اکیلے ڈاکٹر رضوان کا معاملہ نہیں۔ بلکہ ہر انسانی خدمات بجالانے والے فرد کا مسئلہ ہے۔ اس لیے ارباب اختیار کو فوری طور پر موثر حل تلاس کرنا چاہیے۔ ڈاکٹر رضوان سمیت کسی کو نظام مملکت چلانے کے لئے ٹیکس عائد کرنے پر اختلاف نہیں۔

لیکن ٹیکس ادائیگی کے طریقہ کار پر اعتراض ہے جس کا ہر شہری کو حق حاصل ہے۔ ار باب اختیار پر لازم ہے کہ جائز شکایت کے ازالہ کو یقینی بنایا جائے۔ اہل حکمران نے کبھی غریب عوام کے متعلق نہیں سوچا کہ بالا جواز اضافی ٹیکس کا ایک عام آدمی پر کس قدر بوجھ پڑتا ہے۔ انہیں اقتدار سے سروکارہے۔ عوامی مشکلات سے نہیں۔ عوام چاہیے روز مرہ مشکلات کے باعث خوکشیاں کرتے رہیں۔ ملک میں آٹے۔ چینی کا بحران آئے یا بچوں کی عصمت دری بڑھ جائے۔ انہیں کوئی سروکارنہیں۔ حکمرانوں کو صرف اقتدار چھن جانے سے فرق پڑتا ہے۔

بلاشبہ تحریک انصاف حکومت تبدیلی کی انقلابی سوچ کے ساتھ برسر اقتدار آئی۔ مگر ایک سال سے زیادہ عرصہ ہونے کے باوجود اپنے انقلابی منشور سے عوام کو مستفید نہیں کرسکے ہیں۔ وزیر اعظم عوام کو یقین دلانے پر بضد ہیں کہ آئندہ سال عوام کی خوشحالی کا سال ہے۔ عوام مایوس بھی نہیں۔ مگر عوام کو ترقی و خوشحالی کے آثار نظر بھی آنے چاہیں۔ عوام حکومتی اقدامات سے گھبرائے نہیں۔ مگر قربانیاں دیتے تھک چکے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ انہیں اب ریلیف دیاجائے۔

حکومت عوامی مشاورت سے ایسے اقدامات کو یقینی بنائے جس سے عوام کی زندگی میں آسانی کے ساتھ شکایت کا ازلہ ہو سکے۔ عوام ملکی مفاد میں ٹیکس دینا چاہتے ہیں۔ مگر طریقہ کار شفاف بنانے کے ساتھ آسان کرنے کی ضرورت ہے۔ آٖضافی ٹیکس کی بجائے غریب آدمی کی سکت کے مطابق ٹیکس لگایا جانا چاہیے۔ ٹول ٹیکس سے بار بار گزرنے والوں کے لیے کارڈ اور لیبل کا اجراء کرنے کی ضرورت ہے۔ تاکہ دن میں ایک سے زائد بار گزرنے والوں کو دوبا رہ ٹیکس ادا نہ کرنا پڑے۔

خاص طور پر ڈاکٹر رضوان جیسے خدمت خلق کرنے والے حضرات ٹول ٹیکس سے مستثنیٰ ہونے چاہئیں۔ اسی طرح سفید پوش طبقہ کے عام لوگوں کو بھی ٹول ٹیکس سے استثنا حاصل ہوناچاہیے جوکم آمدنی کی بنا پر پہلے ہی دو وقت کی روٹی پوری کرنے کو ترس رہے ہیں۔ حکومت کو مہنگائی زدہ عوام کی خوشنودی کے لیے اضافی ٹیکس کے فیصلے پر نظر ثانی کرتے ہوئے اسے منسوخ کرنا چاہیے۔ اگر فیصلہ سازی میں ترد د کیا گیاتو اس کے مضر اثرات چارو ناچار عام غریب عوام کے ساتھ حکومت کو بھی بھگتنا پڑیں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *