نبھا نہیں سکتے تو بناتے کیوں ہو

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کچھ رشتے آسمانوں سے بن کر آئے ہیں کچھ رشتے زمین والوں نے خود بنائے ہیں۔ آسمانوں سے بن کر آئے رشتے اٹوٹ ہیں، یہ خون کے رشتے ہیں کچھ بھی ہوجائے یہ ٹوٹ نہیں سکتے۔ رشتہ تو میاں بیوی کا بھی آسمانوں ہی سے بن کر آیا ہے لیکن یہ خون کا نہیں، شاید اس لئے یہ ٹوٹ بھی جاتا ہے۔ آدم و حوا کا جوڑا تو آسمانوں ہی میں بنا تھا لیکن زمین پر اترتے ہی ان دونوں کو ایک دوسرے کو تلاش کرنا پڑا۔ شاید ان کو زمین پر الگ الگ جگہ اتارنے میں یہ مصلحت بھی ہو کہ چونکہ دونوں ایک دوسرے سے خاصی تلاش و بسیار کے بعد ملیں گے تو اس رشتے کے لحاظ سے میاں بیوی ایک دوسرے کی قدر کریں گے، لیکن چونکہ اس رشتے میں محبت اور تھوڑا سا جنون بھی ہوتا ہے شاید اسی لئے کئی لوگوں کا رشتہ جنون کی نظر ہو کر ٹوٹ جاتا ہے۔

کچھ رشتے ان آسمانی رشتوں سے ہٹ کے ہوتے ہیں یہ وقت عمر اور حالات کے حساب سے بنتے بگڑتے رہتے ہیں یہ کاروباری تعلق بھی ہوتے ہیں، دوستی کے رشتے بھی ہوتے ہیں۔ سچی دوستی کے رشتے تو انمول ہوتے ہیں ان پہ تو بات نہیں کی جا سکتی، جن کو سچے مخلص دوست نصیب ہو جائیں وہ دنیا کے خوش نصیب لوگ ہوتے ہیں۔ البتہ دوستی کی مختلف کیٹگریز ہوتی ہیں۔ کہیں بچپن کی دوستیاں، کہیں کاروباری تعلقات، کچھ دوستیاں عمر بھر ساتھ رہتی ہیں، کچھ دوستیاں عمر وقت اور حالات کے مطابق بدلتی رہتی ہیں۔

کچھ ”خاص دوستیاں“ بھی ہوتی ہیں۔ ان خاص دوستیوں کی عمر بہت ہی تھوڑی ہوتی ہیں یہ خاص دوستیاں زیادہ سے زیادہ سال دو سال چلتی ہیں۔ یہ بے مول سے عارضی تعلق خاصے مول ادا کر کے بنتے ہیں۔ یہ تعلقات آج کے دور کی دین نہیں، یہ زمانہ قدیم سے ہیں اور دور جدید میں بھی جاری ہیں اور دنیا کے خاتمے تک رہیں گے، کہ یہ مرد اور عورت کے تعلقات ہیں۔ جس میں مرد کا پیسہ اور عورت کے جذبات خرچ ہوتے ہیں۔ جن دنوں زمانے نے ترقی نہیں کی تھی تب بھی مرد و زن اک دوسرے کے دھیان میں گیان لگائے رکھتے تھے۔

اب چونکہ انٹر نیٹ کا دور ہے تو ایسے تعلقات کے حصول کے لئے رسائی خاصی آسان ہو چکی ہے۔ اب تو ایک دوسرے کے ہر لمحہ کی خبر رکھی جاتی ہے، دن رات باتیں ہوتی ہیں، کھایا پیا اور ہضم کیا سے نہ ہضم کیا تک شیئر کیا جاتا ہے، تکلف کی دیوار کو گرانے کے لئے آپ جناب سے تم تک آیا جاتا ہے، پھر قربت کے لمحات بڑھنا اور تکلفات سکڑنا شروع ہو جاتے ہیں، لیکن پھر گزرتے وقت کے ساتھ سمٹے فاصلوں سے اکتاہٹ پیدا ہونا شروع ہوتی ہے۔

دوریاں بڑھتی ہیں۔ نئی خواہشیں ابھرتی ہیں، نئی قربتوں کی چاہ لگتی ہے، نیا جہان آباد کرنے کانشہ چڑھتا ہے، ارمان پورے ہوجائیں تو کوئی اور دنیا دریافت کر نے کا شوق کسی نئی منزل کی طرف ہجرت پہ مجبورکرتا ہے، تکلفات کی گرائی دیوار پھر سے چڑھنا شروع ہو جاتی ہے، آپ سے تم اور تم سے واپس، کسی اور نگر کی تلاش کا سفر۔ کبھی کبھی یہ پہل ایک فریق کی طرف سے ہوتی ہے اور کبھی دونوں فریق ہی اک دوجے سے بیزار ہوئے پھرتے ہیں۔

باہمی رضامندی سے بننے والا خاص تعلق ایک دوسرے کی رضا کے بغیر ہی ٹوٹ جاتاہے۔ لیکن اچھی بات یہ ہے کہ دونوں کو اس تعلق کے ختم ہونے کا پتہ پہلے دن سے ہوتا ہے۔ دونوں فریق جانتے ہوتے ہیں، کہ اس سرائے میں مسافر کا پڑاؤ عارضی ہے کچھ دیر قیام کے بعد خیمے اکھاڑ لئے جائیں گے، پنچھی اڑ جائیں گے، مسافر ہجرت کر جائیں گے۔ سب پتہ ہو تو مسافر کے کوچ کر جانے سے پھر تکلیف نہیں ہوتی۔ کہ دونوں فریق جانتے ہوتے ہیں کہ تعلق عارضی ہے، کچھ لو اور دو کے اصول پہ بنا ہے۔

جب یہ سب طے ہوتا ہے تو پھر جانے کیوں کچھ لوگوں نے اس تعلق کی بنیاد پر دوسرے فریق پر کیچڑ اچھالنا اور بلیک میل کرنا شروع کر دیا ہے پچھلے دنوں کچھ ایسی ویڈیوز وائرل ہوئیں جسے سن اور دیکھ کے خاصی شرمندگی ہوئی، کہ ہم دنیا میں اپنا کیا تاثر پیش کر رہے ہیں۔ کہ جو بھی ہے کسی کا کردار کیسا بھی ہو وہ اس کا سراسر ذاتی معاملہ ہے۔ چاہے مرد ہو یا عورت، کسی کو کوئی حق نہیں کہ وہ کسی کے بھی نجی معاملات کو ڈسکس کرے۔

جب دونوں فریق باہم رضاندی سے اپنا وقت ایک دوسرے کے ساتھ گزار رہے تھے، اپنے اپنے انداز میں ایک دوسرے کے وقت کی قیمت ادا کر رہے تھے اور حسب منشا ایک دوسرے سے اپنا اپنا حصہ بھی وصول کر چکے تو پھر اس کے بعد ایک کا دوسرے کو دوسروں کے سامنے ننگا کرنے مقصد سمجھ نہیں آتا۔ ایک تعلق بنانے کے لئے جتنی ایمانداری کی ضرورت ہوتی ہے اس کے ٹوٹنے کے بعد بھی اسی ایمانداری کی ضرورت ہوتی ہے ایمانداری کسی بھی کاروبار کا ایک لازمی جزو ہوتا ہے۔

اگر کوئی بھی کسی پیشہ سے جڑا ہے تو پھر اس پیشے کی حرمت تو رکھیں۔ ورنہ اگر آپ ایسے رشتے نبھا نہیں سکتے تو بناتے کیوں ہیں۔ کوئی تعلق اگر آپ کا ذاتی فعل ہے تو قطع تعلق بھی ذاتی فعل ہی ہونا چاہیے۔ محض کسی کونیچا دکھانے، سستی شہرت کے لئے دوسروں کی عزت کا سوا ستیا ناس کرتے وقت یہ سوچ لینا چاہیے کہ ایسا کرتے آپ کو تو فرق نہ پڑے لیکن ہو سکتا ہے دوسرے فریق کی فیملی متاثر ہو جائے، کسی کا گھر ٹوٹ جائے۔ مرد ہو یا عورت آپ دونوں کے بیچ جو بھی باہمی رضامندی سے ایک تعلق بنا ہے تو خدارا اس کو اپنے تک ہی محدود رکھیں، یہ آپ دونوں کا ذاتی معاملہ ہے، کسی تیسرے فریق کو اس سے کوئی دلچسپی نہیں۔

مردوں کو نازیبا ویڈیوز اور آڈیو ریکارڈنگ کے حوالے سے خواتین کو بلیک میل کرتے دیکھا اور سنا تھا لیکن اب خواتین بھی اس میدان میں کود پڑی ہیں۔ منٹو لکھتے ہیں کہ میرے شہر کے شریف زادوں کا حال میرے شہر کی طوائفوں سے بہتر کوئی نہیں جانتا۔ وہ سب کو جانتے ہوئے بھی انجان دکھائی دیتی تھیں، خود بے لباس ہونے والی پیشہ وروں نے کبھی اپنے پاس آنے والے مردوں کو دوسروں کے سامنے ننگا نہیں کیا تھاکہ یہی ان کے پیشے کا تقاضا تھا۔

لیکن آج کاچلن کچھ عجیب ہوگیا ہے، آج تو اگر کسی سے ذرا سی شناسائی بھی ہو تو اس کو لوگوں میں کچھ اس طرح سے پیش کیا جاتا ہے کہ بندہ منہ چھپاتا پھرے اور تھوڑی سی بچی کھچی عزت کی سلامتی کی دعائیں مانگنے کے لئے سوئے حرم نکل جائے اور دیار حرم کو جاتے غالب کے انداز میں ایک بار یہ بھی نہ سوچے کہ کعبے کس منہ سے جاؤ گے۔

چلیں جو منہ ہے وہی لے کر جانا ہے البتہ اگر واپسی میں شرم کا تاثر قائم رہے تو کرتوت بدلے جا سکتے ہیں۔ لیکن مزید رسوا ہونے کا ارادہ ہو تو منہ بھی اپنا کرتوت بھی وہی اور حسن کرشمہ ساز بھی پھر مل جاتا ہے۔ لیکن بات پھر وہی کہ دو لوگوں کے درمیان جو بھی معاملہ ہوتا ہے وہ طے ہوتا ہے تو پھر دوسرے فریق کو رسوا کرنے کا جواز کوئی نہیں بنتا۔ وہ حمام جس میں سبھی ننگے ہوتے ہیں کچھ خواتین کی حرکتیں دیکھ کر لگتا ہے کہ وہ اب حمام نہیں رہا، سرائے میں بدل چکا ہے اور جو کوئی اس سرائے کے آس پاس بھی دکھا دے گا وہ بھی ان تہمتوں کی یلغار کی زد میں آ جائے گا۔

کچھ لوگ رکھ رکھاؤ ادب و آداب، تہذیب سب بھولتے جا رہے ہیں اور افسوس اس بات کا ہے کہ ایسے لوگ جتنا خود کومہذب ظاہر کرنے کی کوشش کرتے ہیں اتنی ہی بد تہذیبی سامنے آ رہی ہے۔ مرد ہو یاعورت آپ دونوں کے بیچ باہم رضا مندی سے جو بھی تعلق بنا ہے اس کو اپنے تک ہی محدود رکھیں۔ نجی لمحات میں کی گئی باتیں، یا کسی بھی طریقے سے گزرے مسرت کے لمحات کو وائرل کرنے سے وائرل کرنے والی یا والے کی صرف اس کی کمینگی کو ظاہر کرتی ہے

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *