ماں نے کب کھایا، پتہ بھی ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کافی دنوں پہلے ایک بلاگ لکھا اور جب میں اس موضوع پر کسی سے گفتگو کر رہا تھا تو معلوم ہوا کہ خواتین کا جسمانی استحصال محض جنسی استحصال ہی نہیں ہے۔ ہم بطور معاشرہ ان کی صحت کا استحصال کر رہے ہیں اور وہ بھی یہ جانے بغیر کہ یہ استحصال ہے۔

ذرا اپنے ارد گرد، گھر میں، آس پڑوس میں، رشتہ داروں میں نظر تو دوڑائیے، پتہ تو کیجیے کہ خواتین صحت کے مسائل کا شکار ہیں۔ کسی کو گھٹنوں کی تکلیف، کسی کو ایڑھی کی، کسی کو کمر کی۔

کیا ہو رہا ہے، بہت کچھ، مگر اس میں سے کچھ ایسا ہے جو ہم نے اپنے معاشرے میں رسومات اور رواج اور طور طریقے کے نام پر خواتین کو ہی ہر فرمائش تھمائی ہے۔ کوئی خاتون امید سے ہوں تو یہ جاننے کی پڑی ہوتی ہے کہ بچہ لڑکا ہے یا لڑکی، اگر تو لڑکا ہے تو خوشی میں اس کو کچھ توجہ اور کھلانا پلانا شروع کر دیا اور اگر لڑکی ہے تو پرواہ نہیں، بلکہ مایوسی الگ۔ یہیں سے وہ بچی اپنی پیدائش سے قبل ہی کم خوراکی کا شکار، پیدا ہو گئی تو دیکھا کہ گھر کے سربراہ کے نام پر مرد کو کھانا پہلے ملے گا۔

کتنے ہی گھروں میں پہلے مرد کھانا کھاتے ہیں، پھر بچے اور ان میں بھی پہلے بیٹوں کے لیے ڈالا جاتا اور پھر بیٹیوں کے لیے اور ماں آخر میں اکیلی کچن میں یا صحن میں بنے چولہے کے پاس کھا رہی ہوتی، کبھی صرف شوربے سے لگا کر، کبھی تھوڑے بچے کھچے سالن کے ساتھ اور کبھی تو سب ختم ہو چکا ہوتا تو محض تھوڑی سی چٹنی یا اچار کے ساتھ۔ کئی بار باقی لوگوں کو یاد بھی نہیں ہوتا کہ ماں نے کھانا کھایا بھی یا نہیں۔

بچیوں کو بھی یہی سکھا دیا اگلے گھر شادی ہوئی تو اسی کم خوراکی کے ساتھ وہاں جا پہنچی سب خاندان کے بعد بچا کھانے کی ترتیب جاری، جلد ہی بچے پیدا کرنے اور اس دوران بھی یہ کمیاں سامنے رہتی ہیں۔ ہم ایک جسمانی طور پر کمزور ماں سے تندرست بچے کی توقع کر رہے ہوتے ہیں، بھئی جس لڑکی کو نہ ماں باپ کے گھر طریقے سے اجزائے خوراک ملے نہ یہاں آ کر، اس کے بچے بھی جلد ہی جسمانی کمزوریوں کا شکار ہی ہوں گے۔

بہت سی خواتین آئرن کیلشیم اور دیگر لازمی اجزاء کی کمی کا شکار ہیں۔ جس سے جوڑوں کا درد، اعصاب کی بیماریاں اور دیگر کئی بیماریاں جنم لے چکی ہیں، اور ان سے پیدا ہونے والے لڑکے بھی پیدائشی طور پر کمزور ہوتے ہیں مگر لڑکے کے طور پر جنم لے کر کچھ حد تک خوراک کی کمی پر قابو پانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں مگر ان سے پیدا ہونے والی لڑکیاں اور زیادہ کمزوری میں چلی جاتی ہیں۔

اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری آئندہ نسلیں جسمانی طور پر مضبوط ہوں، ہمارے لڑکے تندرست اور توانا ہوں تو ہماری لڑکیوں نے کیا آج کیا کھایا، اس پر توجہ دینی ہو گی۔ ورنہ کیا لڑکے، کیا لڑکیاں سب بھربھری ہڈیوں کے ساتھ سہارے پر چلتے ہوئے ہسپتالوں کی لائنوں میں کھڑے نظر آئیں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *