کرپشن، آٹے دال کا بھاٶ اور کپتان

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کی تازہ رپورٹ کے مطابق پاکستان نے ایک پیج والی حکومت کے سنہری دور میں کرپشن میں گذشتہ سال کے مقا بلے میں تین درجے ترقی کر کے جدید ریاست مدینہ والوں کے منہ پر زوردار طمانچہ رسید کیا ہے۔ دس سال میں پاکستان پہلی بار کرپشن میں آگے بڑھنے کے بجائے پیچھے گیا۔ ایک سو اسّی ملکوں کی فہرست میں 2018 میں کرپشن انڈیکس میں پاکستان کا نمبر 117 تھا جبکہ عمران خان کی بنائی ہوئی ریاست مدینہ اور نئے پاکستان میں ملک ایک سو بیسویں نمبر پر آ گیا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ 2013 میں جب نواز شریف نے اقتدار سنبھالا تھا تو پاکستان کا نمبر کرپشن کے حوالے سے ایک سو ستائیس تھا۔ نواز حکومت نے سیاسی بصیرت، منصوبوں میں شفافیت، معاملہ فہمی، تدبر اور بہترین حکمت عملی کے طفیل کرپشن میں بتدریج کمی کرتے ہوئے ملک کو ایک سو سترہویں نمبر پر لایا۔ اس سے بھی دلچسپ بات یہ ہے کہ نواز حکومت کو کرپشن کے الزامات لگا کر چلتا کیا گیا اور مقامی و عالمی اسٹیبلشمنٹ نے فرشتوں کی حکومت قائم کر کے ملک کو کرپشن فری بنانے کے خواب دیکھنے شروع کر دیے مگر بدقسمتی سے نوے دن میں کرپشن ختم کرنے کے دعویدار کپتان نے نہ صرف کرپشن کے تناور درخت کو مزید مضبوط کیا بلکہ ہر شعبے میں ملک کو مسلسل پستی کی طرف لے گئے۔

یہ رپورٹ عین اس وقت منظر عام پر آئی کہ جب گفتار کے غازی کپتان صاحب امریکہ میں اپنی حکومت کی کارکردگی کو شفاف قرار دیتے ہوئے پچھلی حکومتوں کے مقابلے میں اسٹیبلشمنٹ کا منظور نظر ہونے کا فخریہ اعلان کر رہے تھے۔ اس رپورٹ کے رد عمل میں حسب معمول حکومتی ترجمانوں نے نئے پاکستان کے خلاف منظم اور مذموم سازش قرار دے کر جان چھڑانے کی کوشش کی۔ وزیراعظم نے تمام مسائل کا ایک ہی تیر بہ ہدف نسخہ بتایا کہ پرنٹ، الیکٹرانک اور سوشل میڈیا کا بائکاٹ کر لیا جائے۔ آخر کبوتر بھی تو بلی کو دیکھ کر آنکھیں بند کر کے خطرے سے بچنا چاہتا ہے۔

حکومت عمرانیہ اور شغل اعظم سے اب بھی کسی معجزے کی امید باندھنے والوں نے حسب سابق پچھلی حکومتوں خاص طور پر نواز دور کو لتاڑتے ہوئے کپتان کی نیک نیتی کا ڈھنڈورا پیٹ کر ان کی ٹیم کی ناقص کارکر دگی کو اس کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔ ان لوگوں کا خیال ہے کہ کپتان کے ارد گرد موجود سیاسی فصلی اور وصلی بٹیرے کبھی اسے کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ یعنی یہ لوگ ناکامی کا ذمہ دار کپتان کو قرار دینے کے لیے تیار نہیں حالانکہ دو ڈھائی سال قبل یہی لوگ ملک میں ہونے والے ہر چھوٹے بڑے واقعے کا ذمہ دار نواز شریف اور شہباز شریف کو قرار دے کر صف ماتم بچھائے رکھتے تھے۔ کپتان خود چوبیس گھنٹے ٹرانسپرنسی اور دوسرے معتبر اداروں کی اس طرح کی رپورٹوں کو جلسے جلوسوں میں لہرا لہرا کر دہائی دیتے تھے کہ جب حکمران چور اور کرپٹ ہوں تو ایسی رپورٹیں آتی ہیں۔

ہم کپتان کی بے تدبیریوں اور سیاسی طفلانہ پن کے حق میں عذر لنگ تراشنے والوں کو یاد دلانا چاہتے ہیں کہ نواز شریف نے اس سے بھی نامساعد، بد ترین اور مخالفانہ و معاندانہ صورت حال کے باوجود ملک کو ترقی کی شاہراہ پر ڈال دیا تھا۔ جو اقتدار کپتان کو پلیٹ میں رکھ کر پیش کیا گیا ہے اس کے حصول کے لیے نواز شریف بے شمار قربانیاں دی تھیں۔ دو ہزار تیرہ میں جب نواز شریف نے حکومت سنبھالی تھی تو دہشت گردی اور خود کش حملوں کی وجہ سے جسد ملت کے انگ انگ سے خون ٹپک رہا تھا۔

معیشت آئی سی یو میں پڑی آخری سانسیں لے رہی تھی۔ مہنگائی اور بے روز گاری کا جن بے قابو تھا۔ انسانی و جمہوری حقوق سسک رہے تھے۔ سٹاک مارکیٹ پر نزع کا عالم طاری تھا۔ روزانہ اربوں روپے کے نوٹ چھاپے جارہے تھے۔ اندرونی اور بیرونی قرضہ جات میں روزانہ کروڑوں روپے کا اضافہ ہو رہا تھا۔ کرپشن، لوٹ کھسوٹ، اقربا پروری، غبن اور چوری بازاری کا دور دورہ تھا۔ پٹرول، گیس، بجلی اور اشیائے ضروریہ کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی تھیں۔

شرح نمو خطرناک حد تک گر چکی تھی۔ درآمدات اور برآمدات میں خوفناک عدم تواز ن تھا۔ تعلیم، صحت، زراعت، صنعت و حرفت سمیت تمام شعبوں کا برا حال تھا اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ ایک پیج والے مسلسل آنکھیں دکھا رہے تھے۔ ڈان لیکس اور مودی کی یاری جیسے پروپگنڈوں کے ذریعے حکومت کا ناطقہ بند کیا جارہا تھا۔ نواز شریف نے کسی سے شکایت کی نہ پچھلی حکومتوں لتاڑا۔ نامساعد حالات کا ماتم کیا نہ ایک پیج والوں کا گلہ کیا۔

وہ گفتار کے غازی کے بجائے کردار و عمل کا مجاہد بن کر پوری تندہی سے کام کرتا رہا اور اندرونی و بیرونی سازشوں کے باوجود سی پیک جیسا گیم چینجر منصوبہ شروع کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ اسے بتا دیا گیا تھا کہ سی پیک کی قیمت اسے اس کے اقتدار کے خاتمے کی صورت میں ادا کرنا پڑے گی۔ مگر اس نے اس کی پروا کیے بغیر ملک کے وسیع تر مفاد میں سی پیک کی داغ بیل ڈالی اور خود ناکردہ گناہوں کی پاداش میں پس دیوار زنداں چلا گیا۔ ملک میں تعمیر و ترقی، موٹر ویز، صنعتوں اور ترقیاتی منصوبوں کا جال بچھایا۔ کپتان صاحب! نواز شریف نے محض چار سال کی مختصر مدت میں یہ کمال انہیں لوگوں، اسی ملک، انہیں حالات، اسی میڈیا، اسی اسٹیبلشمنٹ، اسی عدلیہ اور انہیں ”مجرموں“ کے ہوتے ہوئے کرد کھایا۔

آپ تو ابتدائے عشق ہی میں رونے دھونے لگے ہیں۔ پندرہ ماہ میں ہی آٹے دال کا بھاٶ معلوم ہو گیا؟ اقتدار کی غلام گردشوں میں قدم رکھا تو پتہ چلا کہ سفاک، زہرناک اور خوفناک ریشہ دوانیوں کا مقابلہ کرتے ہوئے ملک کو ترقی کی شاہراہ پر ڈالنا کس قدر مشکل ہے؟ کپتان صاحب! آپ کو کچھ تو اندازہ ہوا ہو گا کہ دریا میں رہتے ہوئے مگر مچھ سے بیر کتنا مشکل کام ہوتا ہے۔ آستین کے سانپوں سے بچ کر چلنا کتنا کٹھن ہے اور دستار کے ساتھ سر کو بچا تے ہوئے عوامی خدمت کا سفر جاری رکھنا کس قدر محال ہے؟ کپتان صاحب! آج آپ کو نواز شریف کی عظمتوں کو جھک کر سلام کرنا چاہیے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *