عمران خان صاحب! افغانستان کی بجائے پاکستان کا دفاع فرمائیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سویٹزر لینڈ میں عالمی اقتصادی فورم کا میلہ لگ کر ختم ہوا۔ بدھ کے روز پاکستان کے وزیر اعظم نے یہ بیان جاری کیا کہ حقانی نیٹ ورک اب پاکستان کی سر زمین سے کارروائیاں نہیں کر رہا۔ حقانی نیٹ ورک کو امریکہ نے دہشت گرد قرار دیا ہے کیونکہ امریکہ اور افغانستان کے مطابق یہ تنظیم پاکستان کی زمین سے افغانستان میں کارروائیاں کر رہی ہے۔ اور اس کو پاکستان کی سرپرستی حاصل ہے۔ سی این بی سی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان صاحب نے افغانستان کی عظمت کے گیت بھی گائے۔

اور یہ انکشاف بھی کیا کہ افغان کلچر تو بہت جمہوری کلچر ہے۔ چوبیس گھنٹے نہیں گزرے تھے کہ افغان صدر اشرف غنی صاحب نے قرض چکا دیا۔ انہوں نے پاکستان کی طرف طنز کے تیر چلاتے ہوئے کہا کہ کیا آپ عمران خان کے اس بیان پر یقین کر لیں گے؟ پاکستان اب بھی دہشت گردوں کو پناہ دے رہا ہے اور وہ افغانستان میں کارروائیاں کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ویسے تو کوئی یہ دعویٰ بھی کر سکتا ہے کہ سورج زمین کے گرد گھوم رہا ہے۔ افغانستان نے ایک بار پھر ہندوستان کے ہاتھ میں ایک ہتھیار پکڑا دیا گیا اور گذشتہ چند گھنٹوں میں ہندوستان کا میڈیا اس بیان کو خوب اچھال رہا۔

بہت سے پڑھنے والوں کو یاد ہو گا کہ 2018 کے پہلے روز صدر ٹرمپ نے یہ ٹویٹ کیا تھا کہ امریکہ نے بیوقوفی کی جو پاکستان کو پندرہ سال کے دوران 33 بلین ڈالر[بقول ٹرمپ صاحب کے ] کی مدد دی اور پاکستان نے اس کے بدلے امریکہ کو صرف جھوٹ اور دھوکہ ہی دیا ہے۔ پاکستانی سمجھتے ہیں کہ ہمارے لیڈر بیوقوف ہیں۔

مطلب یہ کہ 19 سال جنگ لڑنے کے بعد افغانستان میں کامیابی نہیں ملی تو ذمہ دار پاکستان ہے۔ پاکستان کی غلطیوں سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستان سے بہت سی غلطیاں ہوئِی ہیں۔ اور ہم آج تک اس کا خمیازہ بھگت رہے ہیں۔ یہ بھی صحیح ہے کہ پاکستان سے کئی دہشت گرد سرحد عبور کر کے افغانستان گئے ہیں۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ کسی اور ملک سے کوئی غلطی نہیں ہوئی اور سارے ممالک کی غلطیوں کی گٹھڑی بنا کر زبردستی ہمارے کندھے پر رکھ دی جائے کہ چلو تختہ دار کی طرف۔

شاید پاکستان کے وزیر اعظم اور افغانستان کے صدر دونوں اس بات سے بے خبر ہیں کہ نو روز قبل امریکہ کے ایوان نمائندگان کی خارجہ پالیسی کی کمیٹی میں اس موضوع پر اجلاس ہوا ہے کہ ہم نے افغانستان میں 18 سال سے جاری جنگ سے کیا سبق حاصل کیا ہے؟ دو ہزار امریکی مروا کر اور نو سو بلین ڈالر خرچ کرکے بھی کامیابی کیوں نہیں ملی؟

15 جنوری کو اس کمیٹی میں افغانستان کی تعمیر نو کے لئے مقرر کردہ امریکی انسپکٹر جنرل جان ایف سوپکو صاحب بطور گواہ پیش ہوئے۔ انہوں نے افغانستان میں ناکامی کے اسباب پر ایک تفصیلی رپورٹ بھی مرتب کی ہے۔ پہلے تو رپورٹ خفیہ رکھی گئی لیکن واشنگٹن پوسٹ نے اسے منظر ِ عام پر لانے کے لئے مقدمہ کردیا۔ اور حکومت کو یہ رپورٹ منظر عام پر لانی پڑی۔

سوپکو صاحب کے مطابق افغانستان میں ناکامی اس لئے ہوئی کہ ایک طویل عرصہ سے امریکی حکومت اور فوج کو یہ علم ہی نہیں کہ وہ افغانستان میں کیا مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ خاص طور پر فوج کی طرف سے حکومت کو کامیابیوں کی غلط اور خوش کن رپورٹیں بھجوائی گئیں۔ کانگرس کو اندھیرے میں رکھ کر ہر سال غیر ضروری اربوں ڈالر کے بجٹ منظور کرائے گئے۔ اور اس بجٹ کا بڑا حصہ بد عنوانی کی نذر ہو گیا۔ ٹرمپ صاحب نے فرمایا تھا کہ پاکستان نے امریکی لیڈروں کو بیوقوف بنایا تھا۔

اس گواہی تو یہ ثابت ہوتا ہے کہ صرف پاکستان نے نہیں بلکہ خود امریکہ کی فوج اور اداروں نے ٹرمپ صاحب سمیت اپنے لیڈروں کو خوب بیو قوف بنایا ہے۔ سوپکو صاحب کہتے ہیں کہ اس دیدہ دلیری سے امریکی فوج نے بد عنوانی کی ہے کہ افغانستان امریکی فوج کے استعمال کے لئے 35 ملین ڈالر سے ایک عمارت تعمیر کی جا رہی تھی۔ مقامی انچارج اور اس کے جنرل نے کہا کہ ہمیں اس کی ضرورت نہیں ہے اور ہم اس عمارت کو استعمال نہیں کریں گے۔ لیکن امریکی فوج نے فیصلہ کیا کہ چونکہ ہمارے لئے بجٹ منظور ہو چکا ہے چنانچہ یہ عمارت تعمیر کی جائے اور یہ عمارت اب خالی پڑی ہے۔

اشرف غنی صاحب نے پاکستان پر خوب تیر چلائے لیکن اس اجلاس میں جب ایک ممبر Burchettنے سوپکو صاحب سے دریافت کیا کہ پاکستان کی جانب سے ہونے والی مداخلت کا افغانستان کی تعمیر ِ نو پر کیا اثر پڑا؟ تو انہوں نے جواب دیا میرے کام پر اس کا کوئی اثر نہیں پڑا۔ اور معنی خیز انداز میں کہا کہ میں اخباروں میں پڑھتا رہا ہوں کہ پاکستان کی طرف سے مداخلت کی جا رہی ہے جس کی وجہ سے مسئلے حل نہیں ہورہے۔ اس پر اس ممبر نے مسکراتے ہوئے کہا کہ یہ رپورٹیں تو غالباً غلط ہیں۔

اشرف غنی صاحب توجہ کریں کہ سوپکو صاحب نے گواہی دی کہ ان کے وزراء مدد کے لاکھوں ڈالر خرچ کر کے اپنے دفتر کی تزئین کراتے ہیں اور اگر پسند نہ آئے تو بغیر استعمال کے نئی تزئین کا حکم دے دیتے ہیں۔ مناسب ہوگا اگر اشرف غنی صاحب پاکستان پر غصہ نکالنے کی بجائے اپنے وزراء کے اللے تللے قابو کریں۔

اور افغانستان میں امن کس طرح قائم ہوتا؟ سوپکو صاحب نے کہا کہ افغان پولیس کی تربیت کے لئے امریکی فوج نے ہیلی کاپٹر اڑانے والوں کو مقرر کردیا تھا۔ ایک امریکی افسر افغان فوج کی ٹریننگ پر مقرر ہوتا تھا تو وہ یہ رپورٹ بھجواتا تھا کہ افغان فوجی تو چوئینگ گم کھاتے ہوئے چلنے کی اہلیت بھی نہیں رکھتے۔ اور دو سال بعد غلط رپورٹ دیتا کہ میں نے ان کی خوب تربیت کر دی ہے۔ اُس کی ترقی ہوجاتی اور نیا افسر مقرر ہوتا۔

وہ بھی یہی رپورٹ دیتا کہ یہ تو اتنے اناڑی ہیں کہ چوئینگ گم کھاتے ہوئے چل نہیں سکتے اور پھر دو سال بعد لکھتا کہ اب یہ ماہر ہوگئے ہیں۔ اسے بھی ترقی مل جاتی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ہزاروں کی تعداد میں افغان فوجی میدان ِ جنگ چھوڑ کر بھاگ چکے ہیں۔ اشرف غنی صاحب! اگر افغانستان کی فوج میدان ِ جنگ سے بھاگتی رہی تو پھر صرف حقانی نیٹ ورک پر واویلا کرنے سے کیا فائدہ؟

اس اجلاس میں یہ بھانڈا پھوٹا کہ افغان حکومت صرف عدالتوں کی عمارات ہی تعمیر کرتی رہی۔ ان عدالتوں میں اتنی رشوت چل رہی تھی کہ خود افغان فوجی افسر اپنے خاندانوں کو مشورہ دے رہے تھے کہ اپنے مقدموں کا فیصلہ طالبان سے کرالیں۔ افغانستان میں آٹھ نو ملین ڈالر صرف افیم کی کاشت روکنے کے لئے خرچ کیے گئے ہیں۔ لیکن یہ صنعت اور ترقی کر گئی ہے اور باقی سب صنعتوں سے زیادہ حجم کی صنعت بن کر عالمی خطرہ بن گئی۔ اس افیم مافیا کے کرتا دھرتا آج طالبان سے بھی زیادہ مضبوط ہیں۔ ان کو ختم کرنا اشرف غنی صاحب کی ذمہ داری تھی جو انہوں نے ادا نہیں کی۔

عمران خان صاحب کے انٹرویو سے معلوم ہوتا ہے کہ انہیں اس اجلاس کے بارے میں بریف بھی نہیں کیا گیا تھا۔ جو دلائل پاکستان کے دفاع میں دیے جا سکتے تھے وہ نہیں دیے گئے۔ صرف پاکستان کی غلطیوں کی نشاندہی سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ اگر ہمارے وزیر ِ اعظم افغان کلچر کی مدح سرائی کی بجائے پاکستان کے دفاع پر توجہ دیتے تو زیادہ بہتر ہوتا۔ کیونکہ تقسیم ِ ازل کے وقت ہمیں حسن ِ یوسف تو عطا نہ ہوا مگر بہت سے برادران ِ یوسف ہمارے حصے میں ضرور آئے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *