میرے پاس تم ہو

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہر انسان ایک مکمل اور منفرد کہانی ہوتا ہے۔ یہی انسان جب دوسروں انسانوں سے ملتا ہے تو مزید کہانیاں جنم لیتی ہیں۔ گویا دنیا میں موجود اربوں انسانوں سے کھربوں کہانیاں جنم لیتی ہیں۔ یہی انسان اور ان سے وابستہ کہانیاں جب کسی قصیدہ گو کی نظر میں آ جائیں تو وہ انہیں آواز میں سمو دیتے ہیں، مصنف لفظوں کا جامہ پہنا دیتے ہیں، شاعر بحر اور اوزون میں قید کر دیتے ہیں، ہدایتکار اسے برقی پردے پہ چلا دیتا ہے۔ سامع، قاری اور ناظرین ان کہانیوں سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔

جب کہیں کسی کہانی کی مماثلت کسی دوسرے کی ذات سے نکل آئے تو یا وہ اس کے دل کے زخموں پہ مرہم کا کام کرتی ہے یا زخموں پہ موجود کُھرنڈ کو اتار کر دوبارہ سے خون رسا دیتی ہے۔ دوسری صورت میں ایسی کہانی جو معاشرے کے بہت پسندیدہ یا ناپسندیدہ ہر دو طرح کے کرداروں کے گرد گھومتی ہو وہ کہانی پذیرائی حاصل کر لیتی ہے۔

ایک بات کا بہرحال ایادہ کیا جانا ضروری ہے کہ کسی بھی کہانی میں لکھے جانے والے جملے چاہے کتنا ہی زیادہ مشہور ہو کر حوالہ بن جائیں لیکن وہ آفاقی حقیقت یا سچائی نہیں ہوتے۔ وہ جملے خاص پس منظر میں خاص کرداروں سے ہی وابستہ ہوتے ہیں۔ مسئلہ تب آتا ہے جب ان جملوں کو اس پس منظر سے نکال کر استعمال کیا جائے بلکہ ایک آفاقی حقیقت کے طور پہ باقاعدہ پیش کیا جائے۔ عین ممکن ہے ایسی صورت میں بھی وہ بہت سوں کے دل کے نزدیک ہوں لیکن تنقیدی اعتبار سے ان کو تختہ مشق بنانا آسان ہو جاتا ہے۔ آپ سوشل میڈیا پہ پھیلے بہت سے اردو نالوں یا افسانوں کے اقتباس کا جائزہ لیں گو وہ اقتباسات اپنی کہانی سے الگ ہو کر بھی جاندار اور پر اثر رہتے ہیں لیکن پس منظر کے بنا ان پہ تنقیدی رائے دینا نسبتاً آسان ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے جملوں اور ان کے مصنفین پہ تنقید ایک آسان کام ہو گیا ہے۔

”میرے پاس تم ہو“ بھی بہت سی کہانیوں کی طرح کی ہی ایک کہانی ہے۔ جو معاشرے کے تین کرداروں کے گرد گھومتی ہے۔ ایک کردار جو معاشرے کا پسندیدہ کردار ہے ”محبت کرنے والا شوہر“، ایک دوسرا کردار جو معاشرے کا ناپسندیدہ بلکہ دھتکارا ہوا کردار ہے ”دولت کی خاطر بے وفائی کرنے والی بیوی“ اور تیسرا کردار ”ایک دولت مند جو حُسن کو بازار حُسن سے نہیں بلکہ شرفا کے محلے سے خریدتا ہے“۔ اس کہانی کے مصنف خلیل الرحمن قمر کسی تعارف کے محتاج نہیں۔

ان کے لکھے جاندار ڈائیلاگ اس ڈرامے میں بھی ناظرین کو اپنی سحر میں جکڑ ہوئے ہیں۔ لیکن افسوس کے اتنا بڑا لکھاری اتنے کامیاب ڈرامے کے آن ائیر ہونے کے دوران ایسے تنازعات میں الجھا نظر آیا جو شاید اس کے شایان شان نہیں تھے۔

جب ”محبت کرنے والے شوہر“ نے کہا کہ ”آپ مجھے اس دو ٹکے کی عورت کے لیے پچاس لاکھ دے رہے تھے“ تو تنقید کی ہلکی ہوا سے لوگوں کے مزاج میں جنبش پیدا ہوئی کہ عورت کو دو ٹکے کی کہا گیا حالانکہ پس منظر جاننے والوں کو یہ ہضم کرنا مشکل نہیں ہونا چاہیے تھا کہ ایک عورت جس کا خاوند متوسط طبقے سے ہے لیکن وہ اپنی بیوی سے بے حد پیار کرتا ہے اور ان کا ایک چار پانچ سال کا بچہ بھی ہے وہ عورت محض دولت کی محبت میں وہ سارا مال و متاع چھوڑ جائے جس کو آج بھی لاکھوں لوگ دعا میں مانگتے ہیں تو وہ کردار اس کو ”دو ٹکے“ کا ٹیگ ہی لگائے گا۔

یہاں یہ کہا جا سکتا ہے کہ عورت کی اپنی چوائس ہے۔ تو یقیناً ہے لیکن اولاد کو اس طرح نظر انداز کرتا تو کبھی جنگلی جانوروں کو بھی نہیں دیکھا گیا۔ لہذا اس پس منظر میں وہ جملہ، وہ ڈائیلاگ مکمل فٹ بیٹھتے تھے۔ اور اس عورت کی شوہر کا رد عمل بھی قابل فہم تھا۔

جبکہ دوسری طرف خلیل الرحمن قمر نے سائیڈ لائن پہ ایک دو ایسی باتیں کہی جو سمجھ سے بالا تر ہیں۔ میں خلیل الرحمن قمر کو ذاتی حیثیت میں نہیں جانتا لہذا ان کی شخصیت پہ کسی قسم کی رائے قائم کرنا بد دیانتی ہو گی البتہ ان کو ان کے بولے گئے جملوں سے ضرور تولا جائے گا۔ ”عورتوں کو اگر مردوں کے برابر حقوق چاہیے تو وہ مردوں کا ریپ کریں“ قطع نظر جنس کے یہ جملہ کسی بھی انسان کی طبیعت پہ گراں ہی گزرے گا۔ انسان کو سلیم الفطرت پہ پیدا کیا گیا ہے۔

جنسی تسکین کا حاصل کرنا بھی جبلت کا حصہ ہے اور زبردستی جنسی تسکین کا حاصل کرنا مرد اور عورت دونوں کو اپنے لیے ناپسندیدہ ہے۔ یہ جرم بھی ہے اور گناہ بھی، لہذا کسی کو اپنے حق کے حصول کے لیے کسی جرم بلکہ گناہ کا راستہ دکھانا ناقابل فہم ہے۔ اور اتنے بڑے رائٹر سے اتنے چھوٹے جملے کا آنا بہت ہی افسوسناک ہے۔

اسی طرح گذشتہ ہفتے ڈرامے کی کامیابی کو منانے کے لیے بلائے جانے والا پروگرام میں خلیل الرحمن قمر کا ایک اور جملہ لوگوں کی سماعتوں پہ گراں گزرا۔ ”عورت فطرتاً بے وفا نہیں ہوتی، اور جو بے وفا ہو وہ عورت نہیں ہوتی“۔ فطرتاً کوئی بھی بے وفا نہیں ہوتا، جیسے محبت، نفرت، غصہ اور دیگر جذبات فطرت کا حصہ ہیں ایسے ہی وفا اور بے وفائی بھی انسان کی فطرت کا حصہ ہیں اور انسان کی یہی کوشش رہنی چاہیے کہ وہ مذہبی اور سماجی تعلیم اور تربیت سے اپنے منفی جذبوں کو سدھار لے۔ وہ نفرت سے زیادہ محبت کے جذبے کی نگہداشت کرے وہ بے وفائی سے زیادہ وفا کے پودے کی دیکھ بھال کرے۔

ایک لکھاری کردار سوچتا ہے وہ کرداروں کو ایک لڑی میں پروتا ہے اور جملوں سے ایک ایسا پر اثر ماحول بناتا ہے جو دیکھنے والوں کے دلوں میں اتر جاتا ہے۔ لیکن شاید اگر یہی لکھاری کرداروں سے نکل کر خود ایک کردار بننے کی خواہش کا شکار ہو جائے تو اس سے ویسے ہی جملے بولے جاتے ہیں جیسے خلیل الرحمن قمر کی زبان سے سرزد ہوئے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *