گٹر سے اٹھے لوگ اور ان کے وزیراعظم

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مجھے اس بات کا بھر پور ادراک ہے کہ اس کالم کا عنوان ہر لحاظ سے تحریر کی شائستگی کو پامال کرتا ہے۔ مجھے اچھی طرح سے علم ہے کہ اس طرح کے الفاظ کی اجازت اخبارات کی صفحات کی طہارت نہیں دیتی۔ مجھے معلوم ہے کہ اس طرح انسانوں کو مخاطب کرنا ایک نیچ اور رذیل حرکت ہے۔ مجھے پتہ ہے کہ نہ یہ عنوان اخلاقی طور پر کسی معیار پر اترتا ہے نہ سماجی طور پر اس کو قبولیت عام حاصل ہو گی۔ لیکن میں کیا کروں جناب یہ الفاط میرے نہیں ہے۔

نہ ہی اس طرح کے القابات سے لوگوں کو نوازنا میرا طرہ امتیاز رہا ہے۔ نہ یہ میری تحریر کی کبھی خوبی رہی ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ یہ الفاظ ہمارے وزیر اعظم کے اس خطبہ عالیہ سے چرائے گئے ہیں جو عزت ماب جناب عمران خان نے اپنی سوشل میڈیا ٹیم سے خطاب کرتے ہوئے اپنے سیاسی مخالفین کے بارے میں کہے ہیں۔ اس وجہ سے یہ الفاظ اب میرے نہیں یہ الفاظ اب وہ قومی خزانہ ہیں جو وزیر اعظم نے ہمیں تفویض کیا ہے۔ یہ الفاظ ان کی جماعت کا وتیرہ ہیں، یہ الفاظ ان کا سیاسی ورثہ ہیں، ان کی سوچ ہیں۔

سوشل میڈیا پر جو وزیر اعظم پاکستان کی تحریک انصاف کے سوشل میڈیا سے کی گئی گفتگو کا جو وڈیو کلپ وائرل ہوا ہے اس میں یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ ہم خواتین کا کتنا احترام کرنا چاہتے ہیں؟ ہم کون سی خواتین کی عزت کرنا چاہتے ہیں اور کون ایسی ہیں جو لائق توہین ہیں۔ کون باعث عزت ہیں اور کون سی باعث دشنام ہیں۔ وزیر اعظم نے واضح بات کہی کہ ان کی اہلیہ چونکہ سیاسی امور میں دخل نہیں دیتیں اس لئے ان کا تحفظ پی ٹی آئی کی سوشل میڈیا ٹیم پر فرض ہے۔

اس بات سے مطلب تو یہی نکلتا ہے کہ ان کے علاوہ جو خواتین سیاست میں حصہ لیتی ہیں ان کے کردار کے چیتھڑے اڑائے جا سکتے ہیں۔ ان کو گالی دی جا سکتی ہے۔ ان کی کردار کشی کی جا سکتی ہے۔ ان کے بارے میں رنگیلے ٹرینڈ بنائے جا سکتے ہیں۔ ان کی تصاویر کو فوٹو شاپ کرکے ان کو بے حرمت کیا جا سکتا ہے۔ اس لئے کہ وہ اس ملک کی سیاست میں حصہ لینے کی سنگین غلطی کر چکی ہیں۔ اس کا انہیں بھگتان کرنا ہو گا۔ اس کی سزا انہیں جھیلنی ہو گی۔ اس کا انہیں خمیازہ بھگتنا ہو گا۔

وزیر اعظم پاکستان کو اپنے یہ کلمات گوش گزار کرتے ہوئے شاید یہ یاد نہیں رہا کہ پاکستان کی تاریخ میں بہت مضبوط خواتین سیاسی رہنما گزریں ہیں۔ جنہوں نہ صرف طاقتور ترین آمروں کو چیلنج کیا ہے بلکہ اپنی سیاسی بصیرت کا لوہا بھی منوایا ہے۔ فاطمہ جناح سے بات شروع کریں تو ایوب کے مارشل لاء کے تاریک دور میں انہوں نے کلمہ حق بلند کیا۔ ایک مطلق العنان حاکم کو نہ صرف چیلنج کیا بلکہ انتخابات میں اس کا بھرپور مقابلہ بھی کیا۔

محترمہ بے نظیر بھٹو کو بھی انہی چیلنجز کا مقابلہ رہا۔ ان کے اوپر بھی دشنام کی بارش کی گئی۔ ان کو بھی پست اور غیر اخلاقی القابات کا سامنا کرنا پڑا۔ کلثوم نواز مرحومہ بھی اسی وادی دشنام سے گزرتی رہیں۔ مریم نواز کو بھی اس طرح کے حالات کا سامنا کرنا پڑا۔ لیکن اس سب کے باوجود کوئی بھی ان بہادر اور نڈر خواتین کی سیاسی جدوجہد اور بصیرت سے انکار نہیں کر سکتا۔ ان کے سیاسی کارناموں کو فراموش نہیں کر سکتا۔ ان کے حوصلے کی داد دیے بغیر نہیں رہ سکتا۔ اگر آپ کو یاد ہو کہ اسمبلی میں بے نظیر بھٹو کو کن الفاظ سے پکارا گیا تھا اور مریم نواز کے منڈی بہاؤ الدین والے جلسے والے دن پاکستان میں ٹویٹر پر ٹاپ ٹرینڈ کیا تھا؟ تو آپ کی آنکھیں خود شرم سے جھک جائیں گی۔

یہ حقیقت ہے کہ بے نظیر بھٹو کے خلاف دشنام کا آغاز مسلم لیگ ن نے کیا تھا۔ اس وقت بھی اس گالم گلوچ کے فرائض ایک ایسے شخص کے ذمے تھی جو آج بھی ایک وزیر کی حیثیت سے وزیر دشنام کے عہدے پر فائز ہیں۔ کتنی بدقسمتی ہے اس ملک کہ یہاں وزارتیں، عہدے اور انعامات اس بنیاد پر بٹتے ہیں کہ آپ کسی کو کتنی گالی دے سکتے ہیں۔ آپ کس پر کتنا کیچڑ اچھال سکتے ہیں۔ تحریک انصاف کی اس حکومت نے تو گالم گلوچ کے فن کو بام عروج پر پہنچا دیا ہے۔ صوبائی وزراء ہوں یا وفاقی ان کی اہلیت یہی ہے کہ وہ کتنا بہتان لگا سکتے ہیں۔ کتنا کیچڑ اچھال سکتے ہیں۔ کتنی غلیظ گالی سرعام دے سکتے ہیں۔

تحریک انصاف کے سربراہ اور موجودہ وزیر اعظم کی جانب سے سیاسی خواتین کی بے حرمتی اور غیر سیاسی خواتین کی حرمت کی جو تلقین کی گئی ہے وہ اس لئے بھی حیران کن کہ تحریک انصاف کے طرف داروں میں ایک بڑی تعداد ان لبرل خواتین کی ہے جو سیاسی شعور رکھتی ہیں۔ جو سیاست میں اپنا نام بنانا چاہتی ہیں۔ جو اس ملک کی سیاست میں اپنا کردار ادا کرنا چاہتی ہیں۔ مجھے ادراک ہے وزیر اعظم کے اس بیان سے اپوزیشن جماعتوں کی خواتین رہنماؤں پر کیا گزری ہو گی لیکن میں یہ سوچ رہا ہوں کہ تحریک انصاف کی طرف دار خواتین اب کس طرح اپنے سیاسی شعور کے ساتھ اپنی عزت اور وقارکا دفاع کر سکیں گی۔ کیونکہ وزیر اعظم نے بات واضح کر دی ہے کہ جو خاتون سیاست میں ہے وہ لائق تعذیر ہے اور جو گھر بیٹھی ہے وہ باعث حرمت ہے۔

اسی مبینہ وڈیو میں وزیر اعظم پاکستان نے رانا ثنا اللہ کے بارے میں بھی ارشاد فرمایا کی یہ چند لوگ گٹر سے اٹھے ہوئے لوگ ہیں۔ اس سے مراد ان کی اگر ایسے سیاسی کارکن ہیں جنہوں نے آمریت کے ہر دور کا مقابلہ کیا، ہر ظلم کو سہا، جسمانی اذیتیں برداشت کیں اور پھر بھی جمہوریت پر سمجھوتہ نہ کیا تو ایسے کارکن واقعی ملک میں چند ایک ہی ہوں گے۔ ایسے لوگ گٹر سے نکلے ہوئے نہیں اس ملک کے آئین سے وفاداری میں گندھے ہوئے لوگ ہوتے ہیں۔

ان کو گٹر سے اٹھے لوگ کہنا مناسب نہیں انہیں تو سیاسی جماعتوں کو تاج کی طرح سر پر سجا کررکھنا چاہیے۔ لیکن اگر قبیح جملے سے مراد رانا ثنا اللہ کی شخصیت نہیں بلکہ ایسے دیسی لوگ تھے جو باہر کے ممالک کی یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل نہیں کر سکے، جو شلوار قمیض پہنتے ہیں جو درست انگریزی نہیں بول سکتے جو کبھی بھی ملک سے باہر نہیں گئے تو یقین مانیے اس ملک کی بائیس کروڑ آبادی میں سے کم از کم اکیس اکروڑ لوگ ایسے ہی ہیں۔

انہیں میں سے بہت سے لوگوں نے جناب وزیراعظم اپ کو منتخب کیا ہے۔ انہی میں سے بہت سے لوگوں نے آپ کو ووٹ دیا ہے۔ انہی میں سے بہت سے لوگوں نے اپ کے جلسوں کی رونق بڑھائی ہے۔ تو وزیر اعظم پاکستان میری طرف سے مبارک قبول کیجئے آپ کی عطا کی ہوئی تعریف کے مطابق آپ خود گٹر سے اٹھے ہوئے لوگوں کے وزیر اعظم ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عمار مسعود

عمار مسعود ۔ میڈیا کنسلٹنٹ ۔الیکٹرانک میڈیا اور پرنٹ میڈیا کے ہر شعبے سےتعلق ۔ پہلے افسانہ لکھا اور پھر کالم کی طرف ا گئے۔ مزاح ایسا سرشت میں ہے کہ اپنی تحریر کو خود ہی سنجیدگی سے نہیں لیتے۔ مختلف ٹی وی چینلز پر میزبانی بھی کر چکے ہیں۔ کبھی کبھار ملنے پر دلچسپ آدمی ہیں۔

ammar has 195 posts and counting.See all posts by ammar

One thought on “گٹر سے اٹھے لوگ اور ان کے وزیراعظم

  • 27/01/2020 at 12:43 pm
    Permalink

    مانا کہ یہ۔۔۔۔۔۔۔۔مانا کہ یہ۔۔۔۔۔۔۔۔مانا کہ یہ۔۔۔۔۔ سب غلاظت ہے۔۔۔۔ اس انداز سے اعتراف آپکی پاکبازی کی دلیل نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ آپکا بھی غازہ اتر رہا ہے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *