کیا آپ ظہیر انور کے ڈرامائی کرداروں سے آشنا ہیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ظہیر انور میرے ایک ایسے دوست ہیں جو کینیڈا سے ہزاروں میل دور شہرِ کلکتہ میں رہنے کے باوجود میرے دل کے اتنے قریب ہیں کہ ہم ایک دوسرے کو اپنا ہمزاد کہتے ہیں۔ کینیڈا اور ہندوستان میں ان سے ہر ملاقات کی یاد کی خوشبو آج بھی دل میں تازہ ہے۔ وہ ایک رائٹر، ایکٹر، ڈائرکٹر اور پروڈیوسر ہی نہیں، ایک دانشور بھی ہیں۔ ہم پچھلے تیس برسوں سے ادبی محبت ناموں کا تبادلہ کر رہے ہیں۔ میں آپ کی خدمت میں اپنے ادبی محبت نامے کے ساتھ ان کے ڈراموں کے کرداروں کے بارے میں اپنے تاثرات پیش کرنا چاہتا ہوں۔

پہلا ادبی محبت نامہ۔ ۔ ۔ فروری 1989

ڈیر ظہیر انور !

نہ تو میں نے کبھی تمہیں دیکھا نہ ہی تم سے بات کی

نہ ہی کبھی تمہارے ساتھ کھانا کھایا نہ ہی کوئی شام گزاری

لیکن پھر بھی یوں محسوس ہوتا ہے کہ اگر آنکھیں بند کر کے اپنا ہاتھ پھیلائوں تو تمہیں چھو سکتا ہوں

اور

ایک قدم آگے بڑھائوں تو تم سے بغل گیر ہو سکتا ہوں

اور

تمہارے ہاتھ اور قلم کو بوسہ دے کر کہہ سکتا ہوں

ظہیر !

تمہارے تراجم نے البرٹ کامیو کے فن کو وہ خراجِ عقیدت پیش کیا ہے

کہ اگر وہ زندہ ہوتا

اور اردو سے واقف ہوتا

تو ضرور تمہیں مبارکباد پیش کرتا

ظہیر !

کسی دن چلے آئو

تا کہ ہم مل بیٹھیں

اور رات بھر دل کی باتیں کرتے رہیں

اتنی دیر تک کہ

ہماری آنکھیں نیند سے بوجھل ہو جائیں

اور تھکاوٹ سے الفاظ لڑکھڑانے لگیں

ظہیر !

تمہارے ڈرامے

وہ تخلیقی فن پارے ہیں

جنہیں جتنی بار پڑھا جائے کم ہے

ہر دفعہ ان کا نیا پرت سامنے آتا ہے

ظہیر !

مجھے آہستہ آہستہ یقین آتا جا رہا ہے کہ

خون کے رشتوں کی نسبت

ذہن کے رشتے

جذبوں کے رشتے

آدرشوں کے رشتے

اور

خوابوں کے رشتے

زیادہ اہم ہوتے ہیں

ایک دفعہ پھر مبارکباد

چشم براہ

خالد سہیل

فروری 1989

٭٭٭  ٭٭٭

کینیڈا میں ظہیر انور سے ملاقات کے بعد یہ نظم لکھی

INSPIRATION

You came and you left

You are so far and yet so close

Sometimes I feel as if you never came or left

When you were here I was silent

And now that you are gone

I talk to you in my heart and in my mind

You are my alter-ego

With whom I can converse

With my words and my silences

There is so much to share

And there is so little time

The evening of life is approaching

I feel sad when I think

I might never see you again

But I feel joyful

That I have a special connection with you

A creative connection

A connection that transcends time and distance

A connection that brings the best in both of us

You have been a great inspiration in my life.

٭٭٭    ٭٭٭

 میرے ہمزاد !

میں نے تمہارے ڈراموں کی کتاب۔ ۔ ۔ نئے موسم کا پہلا دن۔ ۔ ۔ ۔ پڑھی ہے اور تمہارے ڈراموں کے کرداروں کے بارے میں اپنے تاثرات رقم کیے ہیں۔ امید ہے پسند آئیں گے۔ مجھے تمہاری دوستی پر کتنا فخر ہے اس کا میں الفاظ میں اظہار نہیں کر سکتا۔

 ڈراموں کے کردار

ظہیر انور کے ڈراموں کے کردار

زندگی کے استعارے ہیں

وہ ہم سے سوال پوچھتے ہیں

پھر ان کے جواب تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں

ایسے جواب

جن کی کوکھ سے نئے سوال جنم لیتے ہیں

اور

سوالوں’جوابوں اور مکالموں کا

یہ لامتناہی سلسلہ

سمندر کی لہروں کی طرح

دور دور تک پھیل جاتا ہے

ایسا سمندر

جس کا کوئی ساحل نہیں

ایسا سمندر

جس کی تہہ میں

بصیرتوں کے نایاب گوہر

اور

دانائی کے راز

پوشیدہ ہیں

اور ہمارے منتظر

ظہیر انوار کے ڈراموں کے کردار

ہمارے معاشرے کے تضادات کی تجسیم ہیں

ایسے تضادات جو

ہمارے معاشرے کو دیمک کی طرح کھا رہے ہیں

جو

خواب اور حقیقت

خارج اور داخل

ظالم اور مظلوم

جابر اور مجبور

کے رشتوں میں زہر گھول رہے ہیں

وہ کردار

ان تضادات سے بالاتر ہو کر

امن’آشتی اور انصاف کی

منزلوں کو چھونے کے لیے

کوشاں ہیں

اور ہمیں

اس جدوجہد میں

ذہنی اور جذباتی طور پر

شامل ہونے کی

ترغیب دیتے ہیں

ظہیر انور کے ڈراموں کے کردار

کرہِ ارض پر

انسان کی کہانی سناتے ہیں

ایسی کہانی جس میں

بچپن بھی شامل ہے بڑھاپا بھی

غلامی بھی شامل ہے آزادی بھی

جنگ بھی شامل ہے امن بھی

اندھیرا بھی شامل ہے روشنی بھی

ایسی روداد جس میں

انسان

بے مقصد کی زندگی بھی گزارتا ہے

عزت کی موت بھی مرتا ہے

وہ کردار

ہمارا اپنے آپ سے تعارف کرواتے ہیں

ظہیر انور کے ڈراموں کے کردار

اپنے عہد کی

صداقتوں کے متلاشی ہیں

وہ حقیقتوں کے پہاڑ کاٹتے ہیں

خوابوں کی وادیوں میں سفر کرتے ہیں

اور

بصیرتوں کی جوئے شیر لانے کی کوشش کرتے ہیں

وہ

ان راستوں کے متلاشی ہیں

جو

انسانوں کو

اپنی ذات سے

دوسرے انسانوں سے

اور اپنے ماحول سے

جوڑ دیتے ہیں

وہ

ایسی منزلوں کو چھونا چاہتے ہیں

جہاں انسان

اپنی زندگی اور مستقبل کا

معمار بن جاتا ہے

اور سرخرو ہوتا ہے

ظہیر انور کے ڈراموں کے کردار

ماضی حال اور مستقبل

جذبات خیالات او نظریات

فن ادب اور فلسفے

کے درمیان حائل

دیواریں گرانے کی کوشش کرتے ہیں

وہ

ایسے پل تعمیر کرتے ہیں

جن پر سفر کر کے انسان

رنگ، نسل’ زبان اور مذہب سے بالاتر ہو کر

انسانیت کے ناطے

ایک دوسرے سے گلے مل سکیں گے

اور

ایک نئے خاندان

نئی برادری

اور

نئے معاشرے کی

تشکیل کر سکیں گے

ظہیر انور کے ڈراموں کے کردار

عہد جدید کے انسان ہیں

جن میں

کالے بھی ہیں گورے بھی

غریب بھی ہیں امیر بھی

حق گو بھی ہیں منافق بھی

پارسا بھی ہیں پاپی بھی

وہ سب

زندگی کی بھاری صلیب اٹھائے پھر رہے ہیں

ان کے دلوں میں

دکھ بھی ہیں درد بھی

اذیتیں بھی ہیں مصیبتیں بھی

آزمائشیں بھی ہیں صعوبتیں بھی

لیکن

ان کی آنکھوں میں

امیدوں کے چراغ روشن ہیں

وہ رات کی تاریکی میں

صبح کی کرن کے منتظر ہیں

وہ جانتے ہیں کہ وہ کرن

نہ آسمانوں سے آئی گی

نہ ایوان سیاست سے

وہ کرن

ان کی اپنی ذات کے

نہاں خانوں سے پھوٹے گی

وہ اسی کرن کی خاطر

انجانے رستوں پر

انجانی منزلوں کی طرف

نجانے کب سے سفر کر رہے ہیں

اور ہمیں

شامل ہونے کی دعوت دے رہے ہیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 288 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *