کیا ”میرے پاس تم ہو“ انگریزی فلم انڈیسنٹ پروپوزل کا چربہ ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بعض لوگ یہ پروپیگنڈا کر رہے ہیں کہ پاکستانی ڈرامہ تاریخ کے سوپر ڈوپر ہٹ ڈراموں میں سے ایک ”میرے پاس تم ہو“ درحقیقت ایک انگریزی فلم ”انڈیسنٹ پروپوزل عرف غیر اخلاقی پیغامِ شادی“ کا چربہ ہے۔ ہم یقین دلاتے ہیں کہ ایسی بات ہرگز نہیں ہے۔ ہم نے ڈرامہ نہیں دیکھا ہے اس لئے خود کو اس پر غیر جانبدارانہ رائے دینے کا اہل پاتے ہیں۔ دنیا بھر میں جج کے لئے لازم مانا جاتا ہے کہ وہ جس چیز کے بارے میں فیصلہ دے رہا ہو اس کے بارے میں ٹی وی پر کچھ نہ دیکھے تاکہ میڈیا اسے بہکا کر انصاف کی بجائے جذبات کی بنیاد پر فیصلہ کرنے پر مائل نہ کر دے۔

انڈیسنٹ پروپوزل میں دو نہایت ہی خوش و خرم اور صالح میاں بیوی ہوتے ہیں جو جوا کھیل کر اپنا قرض چکانے اور امیر ہونے کی کوشش کرتے ہیں اور کنگلے ہو جاتے ہیں۔ ادھر ایک ارب پتی آ کر انہیں آفر کرتا ہے کہ وہ اس خاتون کے ساتھ ایک رات گزارنے کے ایک ملین ڈالر (یعنی کوئی پندرہ سولہ کروڑ روپے سکہ رائج الوقت) دے گا۔ جوڑا مان جاتا ہے۔ پھر فلم کا ڈیڑھ گھنٹہ پورا کرنے کے لئے دونوں میں طلاق کروا دی جاتی ہے اور آخر میں دونوں میاں بیوی سارے پیسے خدا واسطے دے کر دوبارہ ہنسی خوشی اکٹھے رہنے لگتے ہیں۔

جبکہ سوشل میڈیا پر ہم نے ”میرے پاس تم ہو“ کے بارے میں جو کچھ پڑھا ہے اس کے مطابق اس کی سٹوری مختلف ہے۔ مرکزی خیال کسی حد تک فلم ”انڈیسنٹ پروپوزل عرف غیر اخلاقی پیغامِ شادی“ سے آیا ہے کہ پیسے کے چکر میں بیوی امیر شخص کے ساتھ چلی جاتی ہے۔ لیکن کیا آپ اس بات کی داد نہیں دیں گے کہ کیسے مصنف نے کمال فن دکھاتے ہوئے ایک انڈیسنٹ پروپوزل کو بھی پاکستانی سنسر بورڈ اور صالحین سے بچا کر پرائم ٹائم میں چلانے میں کامیابی حاصل کر لی ہے۔ کیا اس حیرت انگیز کارنامے کو سرانجام دینے سے بڑھ کر کوئی تخلیقی کام ہو سکتا ہے؟

مقامی ڈرامہ انڈسٹری کا ٹارگیٹ آڈینس باورچی خانے میں پیاز کاٹتی ہوئی خاتون خانہ ہوتی ہے۔ چینلز کے کانٹینٹ ہیڈز کی نظر میں ڈرامے کی کامیابی کا راز یہ ہوتا ہے کہ ڈرامے کی ہیروئن پیاز کاٹے بغیر ہی اس سے بڑھ کر آنسو بہائے اور اسے دیکھ دیکھ خاتون خانہ اتنی زیادہ رواں ہو جائے کہ وہ ڈرامہ بھی یوں دیکھے جیسے پانچ کلو کٹے ہوئے پیازوں کی ڈھیری کو دیکھ رہی ہو۔

یہ خوبی پیدا کرنے کے لئے نہ صرف متذکرہ ڈرامے میں خوش و خرم فیملی پوری کی گئی ہے یعنی ایک عدد بچہ بھی ڈال دیا گیا ہے، بلکہ بیوی کو ولین بنایا گیا ہے۔ ہم نے خواتین ڈائجسٹ میں آج تک جتنی زنانہ کہانیاں پڑھی ہیں ان میں ولین کوئی خاتون ہی ہوتی ہے۔ اس ڈرامے میں بہرحال یہ جدت پیدا کی گئی ہے کہ ساس نند کو ولین بنانے کی بجائے ہیروئن کو ہی ولین بنا دیا گیا ہے۔ ہیروئن کی حالت کو مزید قابلِ رحم بنانے کے لئے یہ دکھایا گیا ہے کہ اس کے پیچھا چھوڑتے ہی اس کے شوہر دانش پر ہن برسنے لگا ہے۔ یعنی رائٹر نے کامیابی سے یہ دکھا دیا ہے کہ وہ نہ صرف گمراہ بلکہ منحوس بھی ہے۔

فلم کی کہانی انگریزی آڈینس کے مطابق لکھی گئی تھی جو ازدواجی رومانی ڈراموں میں بھی ہیپی اینڈنگ کا قائل ہوتا ہے۔ ڈائریکٹر کی کوشش ہوتی ہے کہ میموں نے جتنے آنسو بہانے ہیں وہ سینما ہال میں بہا لیں، اور آخر میں فلم کی ہیپی اینڈنگ دیکھ کر خوش خوش ڈیٹ سے گھر واپس جائیں۔

ہمارے کانٹینٹ ہیڈز ہمارے آڈینس کو سمجھتے ہیں۔ انہیں پتہ ہے کہ ہیپی اینڈنگ ہو گئی تو ڈرامے کا دل پر اثر نہیں پڑے گا۔ ہماری اعلیٰ مشرقی اقدار کا تقاضا ہے کہ کوئی خاتون گمراہی پر تل جائے اور اپنے ہیرے جیسے شوہر کی قدر نہ کرے تو اسے عبرتناک سزا ملنی چاہیے تاکہ لڑکیاں بالیاں اسے دیکھ کر عبرت پکڑیں اور تن من دھن سے اپنے مجازی خدا کی پرستش کریں۔

اب یہاں دو انجام ممکن تھے۔ پہلا یہ کہ گمراہ ہیروئن کو مار دیا جاتا۔ اگر ایسا ہوتا تو وہ قبر میں دفن کر دی جاتی اور ہمارے قومی وزیراعظم بھی تصدیق کرتے کہ وہ سکون پا گئی ہے۔ لیکن ایسی گمراہ عورت کو سکون کیوں دیا جائے؟ اس لئے دوسرے انجام کو ترجیح دی گئی یعنی اس کے پاک باز شوہر دانش کو مار دیا گیا۔ یوں دانش نے ابدی سکون پا لیا اور گمراہ ہیروئن مہوش کی باقی ساری زندگی اب انگاروں پر لوٹتے ہوئے پچھتاوے میں گزرے گی کہ ہائے میں نے بہک کر یہ کیا کر دیا۔

ہم امید کرتے ہیں کہ فاضل رائٹر اپنی بے مثال تخلیقی صلاحیتوں کو کام میں لاتے ہوئے اس کے بعد ایک دوسری مشہور انگریزی فلم ”دی بلیو لیگون“ سے مرکزی خیال لے کر اس کہانی کو بھی مشرقی لبادہ پہنائے گا اور اسے بھی سنسر بورڈ سے بچا کر پاکستانی پرائم ٹائم پر پیش کرنے میں کامیاب ہو جائے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 1270 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *