سرمد کھوسٹ کی فلم اور نیا پاکستان

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہمارا ملک آج جس نہج کو پہنچ چکا ہے شاید اس کے پیچھے ہمارے وہ قدیمی مگر دائمی معاشرتی سوچ ہے جس کے تحت ایشوز کو نان ایشوز اور نان ایشوز کو ایشوز میں تبدیل کیا جاتا ہے۔ اس وقت قرض کے بوجھ تلے دبا ہمارا ملک معاشی تباہی کے دہانے سے کچھ ہی دور کھڑا ہے۔ مہنگاہی کے بوجھ تلے چیختے عوام اپنے مشغلوں کی وجہ سے بڑھتی آبادی کے ٹائم بم پر بیٹھے ہیں۔ آنے والے کچھ سالوں میں ملک کو شدید قسم کی موسمیاتی تبدیلیوں سے مقابلہ کرنا ہے۔

گڈ گورنس کا مظاہرہ دیکھنا ہے تو دیکھیں کس طرح ایک زرعی ملک اپنی ضرورت پوری کرنے کے لئے مہنگے داموں گندم امپورٹ کر رہا ہے۔ سیاسی لیڈر شپ کے فقدان کا یہ عالم ہے کہ عوام نے اپنے جیسوں میں وہ شہزادہ منتخب کیا ہے جس کی برسوں زندگی ہائے کا نچوڑ سکون کا راستہ بذریعہ قبرستان ہے۔ ملک کو اسلام کا قلعہ، دعوی کرنے کے باوجود مسلم برادر ممالک سے تعلقات کا انحصار بڑ ی طاقتوں کے فیصلوں کا محتاج ہے۔

اناڑی پن یا بھلکڑ پن کا عالم یہ کہ کشمیر کو برسوں ہا پاکستان کا اٹوٹ انگ قرار دینے والے بازو کٹنے کے باوجود نبض ڈھونڈنے کا دعوی کر رہے ہیں۔ پر یہ سارے ایشوز ایسے ہیں جن کو ہمارے معاشرے میں نان ایشو گردانا جاتا ہے۔ جن پر معاشرے کی طرف سے وہ ردعمل نہیں آتا جس کی کسی بھی زندہ معاشرے سے توقع کی جا سکتی ہے۔ بدقسمتی سے جن گنے چنے زی شعور کے نظر میں یہ معاملات ایشوز ہیں، معاشرہ ان کو اپنے وجود کا حصہ نہیں سمجھتی۔

خیر بات کرتے ہیں اس اہم نان ایشو کی جس کو عدم برداشت کا حقیقی ایشو بنا دیا گیا ہے۔ حالیہ نان ایشو کا شکار ہدایت کار سرمد کھوسٹ کی آنے والی فلم ”زندگی تماشا“ ہوئی ہے۔ ایک خاص مذہبی حلقے نے نے سوشل میڈیا پر پڑے ڈھائی منٹ کے ٹریلر سے نا صرف فلم کی کہانی اور موضوع سے آگاہی حاصل کر لی ہے بلکہ فیصلہ بھی دے چکے ہیں کہ فلم اسلامی شعائر کے خلاف ہے۔

اختلاف کی بنیاد ٹریلر میں دکھائی دینے والا ایک داڑھی والا کردار ہے جو بظاہر طور پر پیشے کے لحاظ سے نعت خواں ہے۔ اب کردار کا مثبت رول ہے یا منفی، یہ بتانا تو فلم دیکھنے سے پہلے قبل از وقت ہے۔ پر مذہبی حلقے کی اعتراض کی وجہ شاید داڑھی والے کردار سے تشبیہ ہے۔ اسی حوالے سے اگر جان کی امان مل جائے تو ان مذہبی حلقوں سے ایک سوال پوچھنے کو دل چاہتا ہے کہ اگر یہ طبقہ ایک فرضی کردار کو مشابہت کی بنیاد پر زندگی موت کا مسئلہ بنا رہے ہیں تو وہ اپنی ہی صفوں میں موجود حقیقی درندوں پر کیوں چپ سادھ لیتے ہیں جو بچوں سے زیادتی جیسے گھناونے جرم کا مرتکب ہوتے ہیں۔

مانا کہ تنقید تو کسی بھی معاشرے کے لئے اہم ہوتی ہے۔ پر ہمارے ہاں تنقیدی گروپس دراصل وہ پریشر گروپس ہیں جن کا بنیادی مقصد کمزور جمہوری حکومتوں کی کمزور روایتوں کو مزید کمزور کرنا ہوتا ہے۔ دوسرا سوال اس کمزور ریاست کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں کہ اگر اس ان دیکھی فلم میں ایسا ہی اسلام مخالف مواد تھا تو پہلے ان تین سنسر بورڈز کے کرتا دھرتاوں کو کٹہرے میں کھڑا کرنا چاہیے جنہوں نے مکمل فلم دیکھ کر اس کی منظوری دی۔ منظوری کے بعد تنازع کھڑا ہوا تو نا اہل چیئرمین سنسر بورڈ نے فلم کا خود دوبارہ جائزہ لینے کی بجائے اسلامی نظریاتی کونسل کو خط لکھا۔ پر بھلا ہو قبلہ ایاز صاحب کا جنہوں نے اپنے ادارہ کے حدود و قوانین کا خیال رکھا اور تسلیم کیا کہ یہ کام ان کے ادارے کا نہیں ہے۔

اب اگر اس فلم میں ایسا کچھ نہیں ہے اور یہ پابندی صرف ایک طبقے کی دباؤ کی وجہ لگائی گئی ہے تو ہمیں تسلیم کرنا چاہیے کہ نئے پاکستان میں بھی ریاست قومی سلامتی کے نام پر عوام کے آئینی، شہری اور جمہوری حقوق سے ایسے ہی کھلواڑکر رہی ہے جیسے پرانے پاکستان میں برسوں برس کرتے آئی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *