“ایک ڈرامہ، ایک سوال”میرے پاس تم ہو

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مشہورِ زمانہ، مردانہ و زنانہ ڈرامہ ”میرے پاس تم ہواپنے انجام کو پہنچا۔ کہانی اور کرداروں کے حوالے سے حمایت اور مخالفت کے خوب مباحث چلے۔ خلیل الرحمان پہ قسمت مہر بان ہے سو خلیل میاں جیسے چاہیں فاختہ اڑائیں۔ انہوں نے اپنے ہیرو کو بھی ”فاختہ“ بنا کے اُڑا دیا۔ موضوع واقعی ہی اچھوتا تھا۔ رائٹر نے معاشرے کی انتہائی دکھتی رگوں پہ ہاتھ رکھا لہٰذا تنقید کا ہونا بھی فطری تھا۔ ڈرامہ دیکھ کر لتا منگیشکر کا یہ گانا شدت سے یاد آیا،

اس زمانے میں اس محبت نے، کتنے دل توڑ ے کتنے گھر پھونکے،
جانے کیوں لوگ محبت کیا کرتے ہیں، دل کے بدلے دردِ دل لیا کرتے ہیں

مدت ہوئی ناچیز نے ڈراموں کو ڈرامے سمجھ کر دیکھنا چھوڑ اہوا تھا کیونکہ معاشرے میں عموماًڈرامے کوپُر فریب، مضحکہ خیزاور غیر حقیقی اصطلاح سمجھا جاتا ہے۔ تاہم احباب اور پوری قوم کی تشہیر و تحسین نے آخری قسط دیکھنے پہ مجبور کردیا۔ اوپر سے لبرل خواتین کی جانب سے مزاحمت اور خاتون جج کے ڈرامے کے حق میں فیصلے نے تجسس مزید بڑھا دیا۔ اخلاقی، فنی اور تکنیکی سقم اپنی جگہ پر ڈرامہ کی سحر انگیزی و رعنائی سے انکار ممکن نہیں۔

خصوصاً کرداروں کے مکالمے مصنف کی ادبی و فکری معراج کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ جب دانش کو مہوش کے پاس جانے پہ مجبور کیا گیا تو بولا، مجھے ڈر ہے کہ اگر میں وہاں گیا تو شایدواپس نہ آ پاؤں۔ اس جملے کی گہرائی مثالی تھی اور وہی ہوا کہ وہ واپس نہ آسکا اور اسی کی دہلیزپہ جہان سے اُٹھا۔ غصے، نفرت، غیرت اور بے وفائی کے باجود بیوی کو بھلا نہ پانا اور نہ چاہتے ہوئے بھی اس کے ہاں جا کے زندہ واپس نہ آنا ہی ڈرامے کا کلائمکس ہے۔کیونکہ وہ تو ”بچھڑ جائیے گا تو مر جائیے گا“ پہ ایمان رکھتا تھا۔

لیکن عام طور پرہمارے ہاں تو یہ سب عورت کے ساتھ ہوتا ہے۔ رائٹر نے بڑی دلیری سے دوسرا رخ دکھایا اور سمجھنے والوں کو بہت کچھ سمجھا بھی دیا۔ ازراہ تفنن کہتا چلوں کہ ہم بائی ڈیفالٹ قصوں، کہانیوں، ڈراموں فلموں، روائیتوں اور خطابوں کے دلدادہ ہیں۔ ہم ہر شعبہ میں بلا کے ڈرامہ نویس، ڈرامہ پسند اور ڈرامہ بازبھی ہیں۔ اس کا ایک اظہار ڈرامہ دکھانے والے چینل نے بار بار دکھا کر، کر دکھایا۔

ڈراموں کی جذباتی کہانیوں کو دل پہ لینے کی بجائے اس کی روح کوجانا جائے کیونکہ اس میں سیکھنے کو بہت کچھ ہے۔ لوگ دانش کے یوں جان سے جانے پہ سچ مچ سوگوارایں جبکہ اس کی بیوی بے وفائی کے ساتھ ساتھ اک اور گھر بھی اُجاڑنے کے باعث بدنام ہے۔ لیکن یہ سب تو ڈرامہ تھا اور اگر وہ لوگ یہ ڈرامے نہ کرتے تو کروڑوں حساس دلوں میں گھر نہ کر پاتے۔ ایسی شہرت اور ہمدردی کار ہائے خیر میں صدیوں بعد نصیب ہوتی ہے جو انہوں نے معاوضے سمیت محض تئیس قسطوں میں کمالی۔

اس کے بر عکس لاکھوں شریف، تمیزدار، باوفا اور با عصمت جوڑے معاشرے میں گمنامی اور کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ دانش کا انجام بے شک افسوسناک سہی پر ایسے سماج، ایسی بیوی، ایسی بن نظمی اور ایسی مہنگائی سے تو مُکتی پا گیا۔ یوں قبر میں سکون کی بات بھی سچ ہوئی۔ اس کے ساتھ جو کچھ یہاں ہوا، ہوسکتا ہے جنت میں ایک نہیں 72 باوفا مہوشیں پالے۔ اس ڈرامے میں بظاہر مرد مظلوم و مقہور ہے مگر دل سے غور کریں تو قابلِ رحم اب بھی عورت ہی ہے جسے سدھرنے کے باوجود تادمِ مرگ پچھتاوے کی آگ میں جلنے کے لئے زندہ رہنا ہے۔

پھر شاہوار کی بیوی اور رومی کی ٹیچر بھی تو مظلوم ہی ہیں۔ بالکل ایسے جیسے مغلِ اعظم میں شکست خوردہ انار کلی نہیں بلکہ مہابلی تھے اور ہیر کی بجائے کیدو رحم کے قابل تھا۔ ”میرے پاس تم ہو“ دیکھ کر ایک سوال بنتاہے کہ کیا واقعی جوڑے آسمانوں پہ بنتے ہیں؟ اور پھرزمین پہ اس طرح سے ٹوٹ کر بکھرکیوں جاتے ہیں۔ کوئی جانے تو ضرور بتائے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *