میرے پاس تم ہو۔ ایک جائزہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ڈرامہ میرے پاس تم ہو کئی حوالوں سے ایک یادگار ڈرامہ تھا۔ ہم اس ڈرامہ کا مختلف نکات کی صورت جائزہ لیتے ہیں۔

پہلا نکتہ

عام طور پر ہوتا یہ ہے کہ ایک حقیقت ( reality ) ڈرامہ دیکھنے والوں کے ذہن میں موجود ہوتی ہے۔ یہ حقیقت ان کا تعلیمی، معاشی اور معاشرتی پس منظر بناتا ہے۔ اب ناظر کہانی کے ساتھ ساتھ اپنی اور ڈرامہ کی کہانی میں بیان کی گئی حقیقت کا موازنہ کرتا چلا جاتا ہے۔ اگر تو کہانی دیکھنے والی کی حقیقت کے قریب قریب ہے تو وہ اسے سمجھ بھی جائے گا اور لطف بھی اٹھائے گا۔

خلیل الرحمان قمر سے یہاں بنیادی غلطی ہو گئی کہ وہ ویوئر کی انڈرسٹنڈنگ کے مطابق کہانی کے ابتدائی تھیم کو ڈھال نہ سکے۔ رائٹر کی کہانی اور ناظرین کی perception دو مختلف سمتوں میں دھڑام سے جا گریں۔ اور ناظرین کہانی کی حقیقت کو اپنی سوچی سمجھی حقیقت سے مختلف پا کر سیخ پا ہو گئے۔ گو کہ غلطی رائٹر کی ہی ہے۔

دوسرا نکتہ

پاکستان میں یہ ڈرامہ اور اس کی کہانی بہت دنوں تک مختلف حوالوں سے زیر بحث رہی۔ اس طرح پاکستان میں میڈیا کونٹینٹ کی انڈرسٹنڈنگ، سکرپٹ کی سوجھ بوجھ اور تخلیق پہ بحث کا رجحان بڑھا۔ جو کہ ایک مثبت چیز ہے۔ ہمارے جیسے معاشرے سکرین میسجز کو من و عن تسلیم کرنے کے عادی ہوتے ہیں اس پہ غور و فکر نہیں کرتے۔ اسی لئے آپ نے دیکھا ہو گا کہ میڈیا نے معاشرے پہ پچھلے بیس سال میں زیادہ اثر چھوڑا ہے بہ نسبت آزادی کے پہلے پچاس برسوں کے۔

تیسرا نکتہ

ہمارے جیسے معاشروں میں چونکہ جذباتیت زیادہ بکنے والی چیز ہے۔ اور پھر عورت اور مرد کی محبت تو سب سے زیادہ مارکیٹڈ پروڈکٹ ہے۔ یہ چیز کمرشل رائٹرز اور پروڈکشن ہاؤسز کو اچھی طرح سمجھ آ چکی ہے۔ اور اس جذباتیت کے نتیجے میں بڑھتی ہوئی ویوئرشپ ملٹی نیشنل کمپنیز کو بیچی جاتی ہے اور مال بنایا جاتا ہے۔ اے آر وائی اور خلیل الرحمان قمر نے یہی کاروبار کیا ہے۔ آپ کو بیچا ہے۔

چوتھا نکتہ :

کہانی پہ رائے دینے کا حق تو اردو ادب کے لوگوں کا زیادہ ہے لیکن کچھ بنیادی خامیاں نظر آ رہی تھیں۔ مثلاً

1۔ رائٹر دانش اور مہوش کے ڈائلاگز کے ذریعے پچھلے دنوں اٹھے سوالوں کا جواب دیتے نظر آے۔ یوں لگا رائٹر پبلک پریشر کی وجہ سے اپنے تھیم سے ہٹ گیا ہے۔

2۔ سزا تو بے وفا عورت کو دینا تھی جب کہ شہادت دانش کے حصے میں لکھ دی۔ مہوش کی سزا دیکھنے کے لئے اب مہوش سے ملنا پڑے گا۔ کہانی میں تو ایسا کچھ نہ ہوا۔

3۔ محبت کے کرب کی انتہا موت ہی کیوں ہوتی ہے؟

4۔ آخری سینز سے صاف نظر آرہا تھا کہ رائٹر اور پروڈیوسر کے پاس کہانی کا اچھا اختتام نہیں ہے۔ رومی پہ ترس ماں کے چھوڑ جانے پہ پیدا کیا گیا تو باپ کی محبت میں موت شاید اس سے زیادہ تباہ کن ہے۔

5۔ موت بے وفائی کے پچھتاوے میں آنی چاہیے تھی۔ وفا تو سر اٹھا کے جینے والی صفت ہے۔

6۔ ہمایوں سعید اور عائزہ خان کی بری ایکٹنگ نے رہی سہی کسر بھی پوری کر دی۔ مہوش کے چہرے پہ دانش کی موت کا کرب اور پچھتاوے کے اثار بھی نہ ٹھیک سے ظاہر ہو سکے۔

7۔ ہسپتال کے سینز اور غیر حقیقی موت نے ڈرامہ کے سکرپٹ کی باریکی کا پول کھول کر رکھ دیا۔

8۔ ایک بچے سے اس کی سوجھ بوجھ سے زیادہ بڑی باتیں بھی کھوکھلی اور غیر حقیقی ڈرامہ نگاری تھی۔

9۔ ایک لالچی عورت کا پہلے سے دوگنی دولت اور بیٹے کے ساتھ زندہ رہ جانا اور پچھتا تے ہوئے بھی نہ دکھانا خلیل الرحمان قمر ہی کر سکتے ہیں۔

10 مرد کی وفا کا صلہ موت کی صورت میں دکھانا بھی رائٹر کے کمزور سکرپٹ کی دلیل ہے۔

ڈرامہ میں کچھ بہت شاندار چیزیں بھی تھیں۔ مثال کے طور پہ عدنان صدیقی یعنی شہوار احمد کی اداکاری بہت اعلی تھی۔ عدنان صدیقی ہر کردار میں ڈھل جانے کا فن خوب جانتے ہیں۔ دوسری زبردست چیز راحت فتح علی خان کی لا زوال آواز رہی۔ جس نے ڈرامہ کو مشہور کرنے میں شاید سب سے اہم کردار ادا کیا۔ یہ دو حضرات اپنے ٹیلنٹ کی بنیاد پہ کہانی سے الگ پہچان رکھتے ہیں۔

خاص طور پہ راحت فتح علی خان، جو گایا امر کر دیا۔ خدا اور محبت، میری ذات ذرہ بے نشاں اور اب میرے پاس تم ہو۔ راحت صاحب نے ڈرامہ انڈسٹری کو لازوال میوزک تخلیق کر کے دیا ہے۔

بہرحال سب سے خوش آئند بات کسی بھی تخلیقی مواد یا میڈیا کونٹینٹ پہ ناظرین کا بحث کرنا اور اس کا تنقیدی جائزہ لینا ہے۔ اور ”میرے پاس تم ہو“ پاکستان میں سکرپٹ پر بحث کا اچھا آغاز ثابت ہو گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *