ایک ملحد سے مکالمہ!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دنیا میں ہمیشہ مذاہب کے درمیان ایک کشمکش رہی ہے اور اس جنگ میں نیا رخ اس وقت آیا جب مذاہب اور الحاد کی جنگ کا آعاز ہوا۔ ایک دوسرے کے مذاہب پر یوں تو صدیوں پرانی بحث جاری ہے لیکن آج کے اس جدید دور میں بحث کا سب سے اہم موضوع ان لوگوں کی ذات پر مبنی ہے جو خدا پر یقین نہیں رکھتے، جو مذاہب پر یقین نہیں رکھتے، جو دین کو تسلیم نہیں کرتے۔

یہ موضوع کچھ سنگین تو ضرور ہے لیکن اگر مذاہب پر، لوگوں کے پختہ یقین پر، اور خدا کے ہونے یا نہ ہونے پر سوال اس جدید سائنسی ادوار میں نہیں ہوں گے تو آخر کب ہوں گے۔ مجھ پر فتویٰ لگانے، جان سے مارنے اور میری تحریر پر گالیاں لکھنے سے بہتر ہے کہ اس تحریر میں کیے گئے سوالوں یا اس کا متبادل ضرور تلاش کریں۔

اس سے اچھا موقع ہم جیسے تمام مسلمانوں اور دوسرے مذاہب کے لوگوں کے لئے نہیں ہوگا کہ وہ اس جدید سائنس کے ذریعے ان تمام تر ملحدوں کے سوالوں کے جواب دیں جنہوں نے ناک میں دم کر کے رکھا ہے۔ جو روز روز کچھ نئے سوال لے آتے ہیں۔ حال ہی میں اس قسم کے موضوع پر گفتگو کرنے کا موقع ملا۔

کہتے ہیں کے ہر جگہ ہر بات نہیں کہی جاتی لیکن ہم جیسے جاہل افراد کو محفل کے آداب کا کیا علم؟ تبھی تو اس قسم کے بلاگ لکھنے کی جرات کر لیتا ہوں لیکن بطور ایک جاہل ایسے تمام سوالات کا جواب دینے سے قاصر ہوں جو اس گفتگو میں اٹھے۔

خدا ہے یا نہیں؟ اس سوال کا جواب اب میرے پاس تو نہیں تھا میں قرآن کی آیات سناتا لیکن حریف مخالف کو اس ہی کی دلیل سے ہرایا جاتا ہے سو میں سائنسی دلیل تو نہیں دے سکا لیکن میرے سامنے ایک اور سوال آگیا۔

کائنات کو عدم سے وجود میں لایا گیا؟ اگر ایسا تھا اور خدا نے ایک ٹائم اور اسپیس بنایا تو اس وقت خدا خود کون سے ٹائم اور اسپیس میں تھا جب یہ ٹائم اور اسپیس بنا؟ سوال کا جواب پھر نہیں دے سکا دائیں بائیں کرنے کی کوشش کی لیکن مجھے محسوس ہونے لگا تھا کہ میرا جواب تسلی بخش نہیں۔

گفتگو آگے بڑھی اور ایک اور سوال رکھ دیا گیا اس بار سوال کچھ مختلف تھا، اس سوال کا تعلق قرآن مجید پر کی گئی ایک ریسرچ کے ذریعے سے کیا گیا۔ یہ ریسرچ قرآن مجید کا تنقیدی جائزا لینے کے لئے کی گئی۔ سوال کیا گیا کہ خدا نے بار بار اپنی کتاب میں لکھا ہے کے میرے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور یہ ہم سب مسلمانوں کا ایمان بھی ہے لیکن اس شخص کا کہنا تھا کہ یہ کہنا کے صرف میں ہو ں عبادت کے لائق اور کوئی نہیں تو یہ تو حسد کی صفت کو بیان کرتی ہے اور حسد تو انسانوں میں ہوتا ہے یا یہ تو انسانوں کی کیفیت ہے یہ حسد اس کائنات کے بانی کے اندر کیوں ہے۔

میں ہر بات پر دل میں کلمہ پڑھ رہا تھا اور گفتگو ختم کرنے کی کوشش میں بھی گم تھا کہ اچانک میں نے اس شخص سے سوال کیا جناب آ پ کسی اور مذہب کی چیزیں بھی تو بتائیں ہمارے مذہب نے کیا بگاڑا ہے؟ اس کے چہرے پہ مسکراہٹ تھی اور وہ کہنے لگا کہ جناب گفتگو کسی پہ بھی کر لیں لیکن میں اگر پاکستان میں ہوں تو یہاں کے سیاسی حالات پہ گفتگو کروں گا افریقہ کے حالات پہ تو نہیں۔ بالکل ایسے ہی اگر میں مسلمان سے ملحد ہوا ہوں تو میں بھی اسلام کا حوالا دوں گا مسئلہ یہ ہے آپ اس چیز کا جواب نہیں دے پا رہے۔ میں نے تو آپ کے سامنے آپ کی دلیلیں رکھی ہیں اور آپ نے کوئی بھی ایسی دلیل نہیں دی جو مجھے مطمئن کرسکے۔

اس شخص کی حفاظت کے خاطر اس تحریر میں اس کا نام شائع نہیں کر رہا لیکن اس کے سوالوں کا جواب تلاش کرنے کی جستجو جاری ہے۔ اس نے بعد ازاں دوسرے مذاہب کی چیزیں بھی سامنے رکھ دیں اور وہ تمام تر کہانیاں جو ان کے مذہبی کتاب میں لکھی تھیں اس کا پول کھول دیا کہ یہ کہانیاں تو پہلے بھی تھیں اور مختلف حوالوں سے لی گئی ہیں۔

سوال سوال سوال سامنے تھے اور میرے جواب تھے کہ مقابلہ کرنے سے قاصر تھے میں نے مذاق میں کہا آپ انسان کے بچے ہیں یا جانور کے؟ انہوں نے کہا انسان میں نے کہا نہیں آپ جانور کے بچے ہیں کیوں کے ڈارون تو کہتا ہے کہ انسان پہلے بندر تھے آپ تو اسی پہ یقین کرتے ہیں نا؟

وہ کہنے لگا کہ انسان تو چمڑے سے ہی بنے گا ناکے مٹی سے؟ عور ت کو کیوں پسلی سے بنایا گیا یہ خدا نے دوہرا معیار کیوں رکھا؟ میں نے عرض کیا کہ وہ نازک ہے اس لیے۔ وہ جناب کہنے لگے تو ویسے ہی بناتے جیسے انسان کو بنایا اور پھر نازک پن کی صفت ڈال دیتے۔ خدا کے لئے یہ کون سا مشکل تھا۔

میں سوچ میں پڑھ گیا۔ اس نے پھر قرآن کے حوالوں سے سوال کرنا شروع کیے۔ اس بار کیوں کہ تذکرہ فرقوں کا تھا تو میں نے کہا ہر فرقے میں چیزیں مختلف ہیں۔ لیکن سامنے سے پھر ٹیڑھا جواب کہ یہ کیسا خدا ہے جو ایک کتاب لکھتا ہے اور وہ بھی نہیں سمجھا پاتا یہ میرے لیے آخری حد تھی میں خوب اس شخص کو گالیاں دے رہا تھا اور اسے مفتی حضرات کے روبرو کرنے کا کہا اور اس محفل سے جان چھڑائی۔

سوال تو برقرار تھے اور تحقیق کرنے پہ علم ہو ا اس نے جو اتنے سوال اٹھائے تھے یہ سارے نہیں تھے بلکہ 37 مختلف سوال بھی ہیں جن کا جواب اب تک کوئی مذہب ان ملحدوں کو نہیں دے سکا۔ میری عقل اس قابل تو نہیں کے میں ان سوالوں کا جواب تلاش کرسکوں لیکن یہ امید ضرور کرتا ہوں کہ جلد ان ملحدوں کو ان کے بونگے سوالوں کے جواب مل جائیں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply