سلمان تاثیر کی یاد میں کھوئے اشتراکیوں کی خدمت میں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

چند دن قبل ایک تصویر دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ تصویر میں آٹھ یا نو لوگ کھڑے تھے اور ان کے ہاتھوں میں موم بتیاں تھیں۔ ان سب لوگوں کا چہرہ کیمرے کی طرف تھا اور ان کے درمیان ایک لیپ ٹاپ رکھا تھا۔ اس لیپ ٹاپ ککا چہرہ بھی کیمرے کی طرف تھا۔ لیپ ٹاپ کی اسکرین پر سلمان تاثیر صاحب جلوہ گر تھے۔ تصویر کے ساتھ لکھی تحریر سے معلوم ہوا کہ وہ دراصل کسی یادگاری جلسے کی تصویرتھی۔ یہ آٹھ دس افراد کسی سندھی ترقی پسند جماعت کے کارکن تھے۔ اِس جماعت کا جھنڈا سرخ ہے اور اس کے درمیان میں ستارہ بنا ہے۔

اس تصویر کو دیکھ کر مجھے ہنسی بھی آئی اور حیرت بھی ہوئی۔ ہنسی اِس بات پر آئی کہ یہ موم بتی جلانے کی کیتھولک مسیحی روایت ہمارے لبرلوں کو اتنی پسند کیسے آگئی؟ خیر کیتھولک کلیسا میں موم بتی یسوع مسیح اور حضرت مریم ک مجسموں کے آگے جلائی جاتی ہے۔ یوں موم بتی تقدیس کے اعلیٰ ترین اظہار کی علامت ہے۔ مگر یہ علامت ہے تو مذہبی۔ اگرایک مذہبکی روایت اختیار کرنی ہے تو آپ اشتراکی کیونکر ہوئے؟ پھر اگر مذہبی روایت ہی پر عمل کرکے تاثیر صاحب کو یاد کرنا ہے تو ان کی آتمہ کی شانتی کے لئے ”شراد“ کرالیتے۔ اس میں ہنسنے کی کیا بات ہے بھلا؟ اگر ایک روایت کیتھولک کلیسا سے لی جاسکتی ہے تو ہندومت میں کیا خرابی ہے جی؟ مگر چلئے آپ کی جو بھی مرضی وہ کرئے۔

ہمارا ایک اور معصومانہ سوال ہے ؛ یہ سلمان تاثیر صاحب تو سرمایہ دار تھے ناں؟ میں نے تو سنا تھا وہ ارب پتی سرمایہ دار تھے۔ یہ ”تاثیر ہادی“ میں تاثیر ان کے ہی نام کا نہیں ہے؟ اور روزنامہ آج کل اور دیگر ادارے جو ان کے تھے وہ سب سرمایہ داری کا حصہ نہیں تھے؟ پھر ہماری کامریڈ برادری کے یہ 9 یا دس ارکان ایک سرمایہ دار کا دکھ کیوں منارہے ہیں؟

اب جہاں تک ہمارا ناقص علم ہم کو خبر دیتا ہے یہ اشتراکیت تو کارل مارکس صاحب کے نظریات کی پیداوار ہے اور آپ نے اپنی ساری عمر ہی سرمایہ داریاورجاگیرداری کے خلاف نظام سازی میں صرف کی۔ غور کریے کہ اگر سلمان تاثیر صاحب روس کے سرمایہ دار ہوتے تو وہاں کے انقلاب میں ان کا کیا حال ہوتا؟ سوچیے کہ تاثیر صاحب زارِ روس کے بنائے ہوئے ’کریمیا‘ کے گورنر ہوتے اور وہ لینن کی سپاہ کے ہاتھ لگتیتو ان کا کیا ہوتا؟ ہم کو تو ساری اشتراکی شاعری اور ادب یاد آرہا ہے۔ کیسے بیچاے حبیب جالب صاحب نے درد سے فرمایا تھا،

زمینیں ہوں وڈیروں کی،

مشینیں ہوں لٹیروں کی،

خدا نے لکھ کے دی ہے تم کو یہ تحریر مولانا؟

اس نظم میں یہ ’لٹیرے‘ کون ہیں؟ سرمایہ دار؟ تو تاثیر صاحب کیا تھے؟ کیا وہ سرمایہ دار نہیں تھے؟ اگر تھے تو کیا اب کے اشتراکیوں کی نظر میں سرمایہ دار لٹیرے نہیں رہے ہیں؟ یہ نظریاتی تبدیلی آخر کب اور کیوں پیدا ہوئی؟ ہائے ہائے کتنا بدل گیا انسان۔ میں نے دسویں جماعت کے اردو کے امتحان میں ’میرا پسندیدہ شاعر‘ کے عنوان نے حبیب جالب پر مضمون لکھا تھا۔ تب میں اپنے ہم جماعتوں کو یہ نظم اکثر سنایا کرتا تھا۔

خبر کیا تھی کہ اشتراکی اتنے بدل جائیں گے کی سرمایہ دار ان کے ہیرو ہوں گے۔ مجھے یاد ہے کہ میرا ایک خالہ زاد بھائی فہد بڑے زور و شور سے تب سرمایہ داری کے حق میں دلائل دیا کرتا اور میں اس کی ہر دلیل کے جواب میں حبیب جالب کے اشعار اُگلا کرتا۔ میرے تو بچپن کا سارا ہی اشراکی رومان اس تصویر کو دیکھ کر بالکل ہی ختم ہوگیا۔ سرمایہ داری جیت گئی اور اس کی جیت اتنی بڑی ہے کہ اب اشتراکیوں کی ہڈیوں تک سرمایہ داری اتر گئی ہے۔

کیا معلوم یہ اشتراکی رات کو سوتے ہوئے ”ملک ریاض، ملک ریاض“ کا ورد بھی کرتے ہوں یا پھر شاید اب یہ اپنے گھروں میں مارکس اور لینن کی جگہ اسٹیو جابز اور بل گیٹز کی تصاویر لگاتے ہوں۔ افسوس صد افسوس! یہاں پر سوال یہ نہیں کہ تاثیر صاحب صحیح تھے یا غلط، ان کا یوں قتل صحیح تھا یا غلط۔ سوال تو اِن لوگوں سے ہے جو موم بتی لے کر سوگوار منہ بنا کر تصویر بنوا رہے ہیں۔ پیارے اشتراکیوں آپ میں ریڑھ کی ہڈی نام کی کوئی چیز ہے یا نہیں؟ زمانوں سے سرمایہ دار کو گالی بنا دینے کے بعد اب ایک سرمایہ دار کی موت کا سوگ؟

بات صرف اتنی سی ہے کہ ہمارے ملک کے اشتراکی دراصل ایک چھوٹی سی فسادی اقلیت کے سوا کچھ نہیں۔ ان کو ہر وہ نام اچھا لگتا ہے جو کہ کسی بھی وجہ سے مذہب مخالفت کے لئے مقبول ہوجاتا ہے۔ چاہے وہ حقیقتاً مذہب مخالف ہو یا نہ ہو ان کو اِس سے فرق نہیں پڑتا۔ ان کی اپنی تمام تر عادات سوفیصد سرمایہ دارانہ ہی ہیں۔ ان کے موٹے موٹے فربہ بدن ان کی بڑھی ہوئی جسمانی بھوک اور ان کی تن آسانی کی زندگی کے غماز ہیں۔ یہ برانڈڈ جیکٹوں میں ’چی گوارا‘ بننے کے خواہشمند چی گوارا کی جفاکش انقلابی زندگی کا ایک لمحہ بھی نہیں گزار سکتے۔ یہ سرمایہ داروں کے عرس منانے والے کیا جانیں کہ کس طرح کوئی سچی انقلابی تحریک چلائی جاتی ہے۔ کیسے تحاریک خون جگر کی طالب ہوتی ہیں۔ ویسے تو اشتراکیت ہی انسانی تاریخ پر ایک بدنما داغ ہے مگر یہ لوگ تو اشتراکیت کے نام پر بھی ایک دھبہ ہیں۔

پھر ہنسی اس بات پر بھی آتی ہے کہ یہ 9 یا دس لوگ مل کر کیا انقلاب لائیں گے؟ یہ ڈرائنگ رومز کی زینتیں، یہ endangered speciesتو بیچارے خود ایک نمونے کی چیز ہی ہیں۔ اپنے قد سے بڑے بڑے نعرے لگا کر یہ لوگ ثابت کرنا کیا چاہتے ہیں؟ لال لال لہرائے گا کے نعرے دنیا کو دھوکہ دینے کے لئے ہیں یا کسی نوع کا delusion؟ شاید یہ بیچارے موٹے چھوٹے اشتراکی بہت سنبھال کر رکھنے کی چیز ہیں۔ ان کے لئے ایک عجائب خانہ کسی سرمایہ دار کو تعمیر کرا ہی دینا چاہیے۔ تاکہ یہ ’ماضی کے مزار‘ اس میں لوگوں کی حیرت اور ہنسی کا باعث بن سکیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *