پاکستان کے بے لوث دوست

وسعت اللہ خان - تجزیہ کار

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وقت کے ساتھ ساتھ کرپشن کے معنی بھی بدل گئے۔ بہت پہلے اسی پاکستان میں کسی کو درآمدی یا برآمدی پرمٹ سے نواز دینا، کسی خاص کمپنی یا شخص کے لیے کسی قانون میں عارضی رعایت یا استثنیٰ دینا یا واپس لے لینا حتیٰ کہ سیاسی کارکن کو راشن ڈپو کا لائسنس ملنا بھی کرپشن کے دائرے میں آتا تھا۔

عام آدمی اگر موٹر سائیکل یا فریج لے لیتا تو اہلِ محلہ کی چھیدتی نگاہوں سے بچنے کے لیے وہ خود ہی سو سو وضاحتیں کرتا تھا کہ یہ موٹر سائیکل، کمپنی نے دی ہے کہ سسرال نے اور یہ فریج اس نے کیسے قسطیں جوڑ جاڑ کر خریدا۔

سب سے زیادہ احتیاط حکمران کرتے تھے۔ مثلاً محترمہ فاطمہ جناح ہمیشہ اپنے اور گورنر جنرل کے لیے چھوٹے سائز کی ڈبل روٹی منگواتی تھی کیونکہ بڑی ڈبل روٹی ضائع ہو جاتی تھی۔

ایوب خان کے بارے میں آپ کی بھلے کوئی رائے ہو لیکن ایوانِ صدر میں انھوں نے اپنے اہلِخانہ پر ہونے والے خرچے اور سرکاری اخراجات کے الگ الگ کھاتے رکھے ہوئے تھے تاکہ سرکاری و نجی خرچہ مکس اپ نہ ہو جائے۔

جنرل اعظم خان کو جب گورنر مشرقی پاکستان کے عہدے سے ایوب خان نے ہٹایا تو اعظم خان نے احکامات وصول کرتے ہی سب سے پہلے اپنے قلم کی روشنائی سرکاری دوات میں نچوڑی اور روانہ ہو گئے۔

یحییٰ خان پر آپ جو مرضی الزامات لگائیں مگر ان کا بینک بیلنس کبھی بھی ایک خاص حد سے آگے نہیں بڑھا۔ کہا جاتا ہے کہ ان کا پشاور کا گھر گرنڈلیز بینک نے بنا کر دیا۔ اب یہ بینک کا قرضہ تھا یا تحفہ واللہ علم بالصواب۔

یحییٰ کے بعد فوج کے سربراہ بننے والے لیفٹیننٹ جنرل گل حسن نے پوری زندگی پنڈی کلب کے دو کمروں میں گذاری۔ مرنے کے بعد اکاؤنٹ میں اردلی کے نام پر ساڑھے تین ہزار روپے تھے۔

میں نے پروفیسر غفور صاحب سے پوچھا بھٹو مالی لحاظ سے کتنا لاپرواہ یا کرپٹ تھا۔ فرمایا کہ ایسا ہوتا تو ضیا الحق پورا وائٹ پیپر صرف بھٹو کی مالی کرپشن پر نکال دیتا۔

مگر بھٹو دور کے خاتمے کے بعد افغان جہاد نے گویا فلڈ گیٹ کھول دیا۔ اقدار تیزی سے بدلیں۔ برائی اچھائی کے مفہوم، چوری و سینہ زوری کے مطالب اور شرم و ڈھٹائی کے معیارات اوپر نیچے ہوتے چلے گئے۔ آج شرمندگی اس کا مقدر ہے جو الزام لگائے اور جس پر الزام لگے اس کے لیے کوئی بھی الزام تمغہ ہے۔

دو ہزار دس میں ترک خاتونِ اول نے پاکستان کے سیلاب زدگان کی امداد کے لیے ایک قیمتی گلو بند حکومت پاکستان کے امدادی فنڈ میں دان کیا۔ پانچ برس بعد جب ہا ہا کار مچی تو سابق وزیرِاعظم یوسف رضا گیلانی نے بتایا کہ وہ ہار تو میرے خاندان نے حفاظت سے رکھا ہوا ہے۔ ترکِ خاتونِ اول میری بہن ہیں۔

مارچ 2014 میں حکومتِ پاکستان کے خزانے میں اچانک ڈیڑھ ارب ڈالر جمع ہو گئے۔ جب دیدے گول گول گھومنے شروع ہوئے تو وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار نے کہا یہ رقم ایک برادر خلیجی ملک (سعودی عرب) کی جانب سے پاکستانیوں کے لیے غیر مشروط تحفہ ہے۔ چلو جی بات ختم ہو گئی۔ کون پوچھے کہ بنا مطلب تحفے کا کیا مطلب ہوتا ہے؟

نومبر 2016 میں سابق جنرل پرویز مشرف نے دھڑلے سے انکشاف کیا کہ 2009 میں جب وہ عمرے پر سعودی عرب گئے تو شاہ عبداللہ جو مجھے چھوٹا بھائی کہتے تھے، انھوں نے مجھے لندن میں فلیٹ خریدنےکے لیے ایک بھاری رقم دی۔

ظاہر ہے یہ بھائیوں کا آپس کا معاملہ ہے، میں اور آپ کون ہوتے ہیں ناک بھوں چڑھانے والے۔ کاش کوئی بادشاہ مجھے بھی ایسے ہی اپنا بھائی بنا لے (بعد میں پتہ چلا کہ اس فلیٹ کی بولی تیس لاکھ پاؤنڈ تک لگی۔ مشرف صاحب نے اسے فروخت کیا یا نہیں، میں تصدیق نہیں کر سکتا)۔

مسٹر کلین عمران خان کو ملکی خزانہ بچانے کا اس قدر شوق ہے کہ وہ ضروری ریاستی اخراجات بھی خزانے کے بجائے دوستوں پر ڈالنا پسند فرماتے ہیں اور ان کا خیال ہے کہ یہ بھی قومی خدمت ہے۔ اتفاق سے خدا نے خان صاحب کو دوست بھی ایسے بے لوث ملنگ عطا کیے ہیں جنھیں نہ ستائش کی تمنا ہے نہ صلے کی پرواہ۔

مثلاً جہانگیر ترین کا جہاز خدمتِ پاکستان کے لیے جہاں اور جب کی بنیاد پر اب سے نہیں کئی برس سے وقف ہے۔ بدلے میں ترین صاحب نے آج تک وزیرِاعظم ہاؤس میں چائے پیتے ہوئے ایک چمچ چینی بھی سرکاری شکر دان سے اپنی پیالی میں نہیں ڈالی کیونکہ یہ شکر دان بھی عوامی ٹیکس سے خریدا گیا ہے۔

دو روز قبل وزیرِاعظم نے ورلڈ اکنامک فورم ڈیوس میں بریک فاسٹ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بڑے فخر سے بتایا کہ وہ تو کبھی سرکاری خرچے پر اتنے مہنگے دورے پر نہ آتے مگر میرے دوستوں نے مہربانی کی اور میرا خرچہ برداشت کیا۔

ان میں سے ایک دوست ہیں اکرام سہگل جن کی پاکستان میں پاتھ فائنڈر نامی سکیورٹی کمپنی ہے اور دوسری مارٹن ڈاؤ نامی بین الاقوامی دوا ساز کمپنی ہے۔ یہ دونوں کمپنیاں سنہ 2002 سے ڈیوس میں پاکستان کے قومی مفادات کا تحفظ کر رہی ہیں۔ اس کے عوض دونوں کمپنیوں نے آج تک کسی حکومت سے ٹکے کا مفاد حاصل نہیں کیا۔

یہی نہیں بلکہ وزیرِاعظم خزانے کو بوجھ سے بچانے کے لیے کسی سے بھی مدد لینے سے نہیں چوکتے۔

جیسے پچھلے ستمبر میں آپ نے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے سعودی ولی عہد کا ذاتی طیارہ استعمال کیا اور دسمبر میں آپ نے کوالالمپور کی اسلامی سربراہ کانفرنس میں نہ جا کر پاکستانی خزانے کا اچھا خاصا پیسہ بچایا۔

ایک اور بے لوث پاکستانی ملک ریاض ہیں۔ ان کے اندرونِ و بیرونِ ملک اثاثے، ان کا طیارہ اور ہیلی کاپٹر پاکستان کے لیے وقف ہیں۔ کسی بے گھر سیاستداں، افسر، جج، جنرل کو کوئی بھی رہائشی و غیر رہائشی حاجت ہو ملک صاحب ہمیشہ دو ہاتھ بڑھ کر خندہ پیشانی سے دوسرے کا مسئلہ اپنا مسئلہ سمجھ لیتے ہیں۔

کون کہتا ہے کہ پاکستان پہلے کے مقابلے میں کم محفوظ یا غیر مخلص ہاتھوں میں ہے؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •