چوہدریوں نے کپتان کے مقابلے میں شریفوں کو ناقابل اعتماد قرار دے دیا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پچھلے دنوں پنجاب کے وزیر اعلیٰ عثمان بزدار نے ایک صبح وزیر قانون راجہ بشارت سے پوچھا راجہ صاب، تسی کدّھر چلّے او؟ (راجہ صاحب آپ کدھر چلے ہیں) راجہ بشارت نے کہا اک میٹنگ اے، کوئٹہ جا رہیاں، شام تک مڑ آواں گا (ایک میٹنگ ہے کوئٹہ، شام تک واپس آ جاؤں گا) تو بزدار صاحب نے فوراً کہا چلّو، میں وی تہاڈے نال چلنا واں، ایویں ایتھے بور ہو رہیاں (چلو، میں بھی تمہارے ساتھ چلتا ہوں، ادھر بیکار بور ہو رہا ہوں)۔

اس واقعہ سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ جب سے کپتان نے پنجاب چلانے کی ساری ذمہ داری وفاق سے بھیجے گئے اپنے بیوروکریٹ نمائندوں کو سونپی ہے، ان کا وسیم اکرم پلس کتنا فارغ ہو کے رہ گیا تھا کہ ان کے منتری بھی مصروف ہیں مگر خود مکھ منتری کے پاس بور ہونے کے سوا کوئی کام ہی نہیں رہ گیا تھا۔

بڑے میڈیا ہاؤسوں میں بھی اچھے دنوں تک یہی کلچر رہا ہے کہ ناخوش ہو جانے پر مالک اپنے کسی ایڈیٹر کو کالم لکھنے پر لگا دیتا تھا یا کسی رپورٹر کو اپنے نیوز ٹی وی چینل میں رَن ڈاؤن پر بٹھا دیتا تھا، ایسے پروفیشنل ورکر کو اگرچہ وہی پہلے والی بڑی تنخواہ ملتی رہتی تھی مگر کام والی با اختیار پوزیشن سے اسے ہٹا دیا جاتا تھا، انگریزی میں اسے ڈمپ کرنا کہتے ہیں۔

آدھے پاکستان یعنی ملک کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کے چیف ایگزیکٹو کی کرسی پر کپتان محض ایک نمائشی مگر کمزور چہرہ بٹھائے رکھنے پر صرف اس لئے بضد یا دوسرے لفظوں میں ڈٹا رہا، یہاں تک کہ ایک عرصے سے جاری مقتدر حلقوں کے دباؤ کے سامنے بھی مزاحم رہا کہ اسے ادراک تھا کہ جس دن اس کرسی پر بیٹھ کر کسی نے ڈلیور یا پرفارم کرنا شروع کر دیا، اسی دن مرکز میں کپتان کے مقابلے میں ایک اور امیدوار پیدا ہو جائے گا، چاہے وہ کسی اتّحادی جماعت کا بندہ ہو یا خود تحریک انصاف کی کوئی شخصیت۔ ۔

جوں جوں مرکز میں قائم حکومت کے حصے میں ناکامیاں اور نا اہلیاں آتی گئیں، کپتان کی عدم خود اعتمادی اور پنجاب کے حوالے سے یہ خوف توں توں بڑھتا گیا۔ پھر ایک دوسری وجہ، ذرائع کے مطابق استخارہ کی خلاف ورزی کا خوف بھی تھا کیونکہ پنجاب کی پگ رکھنے کے لئے پنجاب کے پسماندہ ترین علاقوں میں شمار ہونے والے تونسہ شریف کے ایک عام سے سر کا انتخاب پے در پے تین استخاروں کے نتیجے میں ہوا تھا لیکن جب پانی ہی سر سے اونچا ہونے لگ جائے تو بہتر ہوتا کہ بستی کے سارے سروں کے ڈوب جانے کا رسک لینے کی بجائے، سب سے اونچے سر کی قربانی دے دی جائے۔

لگتا ہے تونسہ والے نے کپتان کی آمد سے پہلے جہاں اس حد تک طاقت کا مظاہرہ کیا کہ نہ صرف پسماندہ جنوبی پنجاب سے تعلّق رکھنے والے سرکش گروپ کے اراکین اسمبلی سے اپنے ساتھ اظہار یکجہتی کروا لیا بلکہ الیکشن ہار جانے والے ٹکٹ ہولڈرز تک کو ساتھ ملا لیا، وہیں آخری کوشش کے طور پر جہانگیر ترین سے ملاقات کر کے غالباً مدد کی درخواست کی ہے مگر۔ شاید بنی گالہ اور پرائم منسٹر ہاؤس میں ان کے سب سے بڑے سپورٹر نے بھی انہیں کوئی واضح امید نہیں دلائی، اور پرائم منسٹر سے پہلے ڈپٹی پرائم مسٹر کی ملاقات بھی انہیں سہارا نہ دے پائے۔

شاید اب صوبے اور، بالخصوص مرکز میں قائم خود کپتان کی حکومت کے وسیع تر مفاد میں کپتان کو اپنے وسیم اکرم پلس کو یہ کہتے ہوئے حوصلے کے ساتھ رخصت کرنا پڑ جائے ”بزدار تیرے خون سے انقلاب آئے گا“ ۔

ادھر بتایا جاتا ہے کہ پنجاب میں کپتان کے سب سے اھم اتّحادی چوہدری برادران نے شریف برادران یعنی مسلم لیگ (ن) کے ساتھ مل کر بھرپور اقتدار پر موجودہ سیٹ اپ ہی میں نسبتاً کمتر اور پس پردہ اقتدار ہی کا لطف اٹھانا جاری رکھنے کو ترجیح دی ہے اور نون لیگ کی وزارتِ اعلیٰ کی پیشکش ٹھکرا دی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ظہور الٰہی ہاؤس جاتی عمرہ والوں پر بھروسا کرنے کو تیار نہیں چوہدری، عمران خان کے مقابلے میں شریف برادران کو ناقابل اعتماد سمجھتے، اس لئے وہ کوئی سیاسی رسک لینے کو تیار نہیں، چوہدریوں کا کہنا ہے شریف برادران ہمیں استعمال کر کے کل پھر سے چھوڑ گئے تو ہم کیا کر لیں گے؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *