کالام کی خستہ حال سڑک اور حکومتوں کی ناکامی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

\"Picture_Zubairجب گرمی ان کو ستاتی ہے تو ہمارے شہری بابو چند روز کے لئے کالام آتے ہیں۔ یہاں مہوڈنڈ اور دیگر جھیلوں کی سیر کر کے واپس لوٹتے ہیں۔ وہ چونکہ پاکستان کے\”مستند\” شہری ہوتے ہیں لہٰذا ان کے لئے گرمیوں کے موسم کے شروع میں اس سڑک پر مٹی ڈالی جاتی ہے اور یہ مٹی ہر سال مقامی سادہ لوح لوگوں کی آنکھوں میں دھول ثابت ہوتی ہے۔ مگر جب ہی موسم انگڑائی لیتا ہے اور اس علاقے میں خزان کی آمد ہوجاتی ہے تو نہ تو کوئی شہری بابو نظر آتا ہے اور نہ ہی کوئی سرکاری اہلکار۔

2010 ء کی جولائی کے مہینے کے آخر میں سوات میں تاریخ کا بدترین سیلاب آیا جس کی زد میں میں سوات میں دریا کنارے کے سارے علاقے آگئے۔ کالام، بحرین، مدین، مانکیال اور بیچ کے سارے گاؤں چونکہ دریا کنارے ہی واقع ہیں اس لئے یہ علاقے سب سے زیادہ متاثر ہوئے۔ کئی گاؤں تو صفحہ ہستی سے ہی مٹ گئے۔ اس سیلاب کی زد میں فتح پور تا کالام اور اتروڑ کی سڑکیں بھی پوری طرح آگئیں۔ اتروڑ، کالام، مانکیال، بحرین اور مدین باقی ملک سے کٹ گئے اور یہاں کے باشندے ایک بار پھر 1900 میں واپس لوٹ گئے۔

\"kalam-road-1\"

انسانی بہبود کے اداروں اور پاکستان فوج نے فوراً ریلیف اور ریسکیو کا کام شروع کیا جس کی وجہ سے یہ علاقہ پوری طرح مٹ جانے سے تو بچ گیا لیکن دیرپا بحالی اور ترقی کے کام اب تک پوری طرح نہ ہوسکے۔ اس سیلاب نے جو زخم مقامی آبادی کو دیئے وہ اب بھی خستہ حال کالام سڑک کی صورت میں تروتازہ ہوتے رہتے ہیں۔ چھ سال سے زائد کا عرصہ بیت گیا لیکن کالام کی سڑک نہ بن سکی۔

ایشیائی ترقیاتی بینک کی مدد سے چکڑی تا بحرین تقریباً بیس کلومیٹر کی سڑک پچھلے سال مکمل کی جاسکی لیکن بحرین تا کالام پینتیس کلومیٹر کی سڑک ابھی تک ملبہ، دھول اور کھنڈر بنی ہوئی ہے۔

\"kalam-road-3\"اس سڑک کی خستہ حالی نے صرف اس سال اکیس جانیں لی ہیں اور سینکڑوں افراد زخمی ہوچکے ہیں۔ کئی مقامی خاندان دریا کی نذر ہوگئے ہیں، بچّے بروقت سکول نہیں جاسکتے۔ حاملہ خواتین کے لئے اس سڑک پر سفر ہر بار خطرناک ثابت ہوا ہے۔ سڑک کے جھٹکوں کی وجہ سے ماؤں کی گود سے بچّے دریا میں گرے ہیں۔ علاقے کی تازہ سبزی بروقت منڈی نہیں پہنچتی اور اس طرح مقامی معیشت کو بڑا نقصان پہنچتا ہے۔ کئی مریض اس سڑک کی خستہ حالی کی وجہ سے بر وقت اسپتال نہ پہنچ کر راستے ہی میں دم توڑ چکے ہیں۔

کالام میں ہر سال لاکھوں کی تعداد میں سیّاح آتے ہیں۔ ان میں بڑے بڑے نامی گرامی لوگ بھی ہوتے ہیں لیکن صرف چند دنوں کے لئے آئے ہوئے ان بااثر مہمانوں کو کالام کی اس خطرناک سڑک پر سفر بھی ایڈوینچر ہی لگتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم نے اس سڑک پر نہ تو کسی بڑے ٹی وی کی جانب سے کوئی پروگرام ہوتے دیکھا اور نہ ہی کسی غیر مقامی لکھاری نے اس پر کچھ لکھا ہے۔

\"kalam-road-5\"

وزیراعظم پاکستان کے مشیر جناب امیر مقام صاحب نے اس سال کے اوائل میں اس سڑک کی بحالی کے بارے میں اخبارات میں ٹینڈرز بھی شائع کرائے لیکن اب تک کسی نے کام شروع کیا نہ ہی اس کام کے بارے میں کوئی خبر آئی۔ ایسے میں مقامی لوگوں کا ان ٹینڈرز کو جعلی کہنا سچ لگتا ہے۔

اسی سال جب کالام میں سوات سمر فیسٹویل کی تیاریاں ہو رہی تھیں تو مقامی لوگوں نے مقتدر حلقوں سے کہا کہ ان میلوں سے زیادہ اہم کالام کی سڑک کی بحالی ہے۔ مگر اب تک اس مطالبے پر بھی کوئی عمل درآمد نہ ہوسکا۔

گزشتہ دو ہفتوں سے کالام، بحرین، مانکیال، پشمال، اتروڑ، اوشو اور مدین کے نوجوانوں نے سوشل میڈیا کے ذریعے ایک دوسرے کو بیدار کرنا شروع کیا اور یوں کالام سڑک کی جدید طرز پر تعمیر کے لئے مقامی سطح پرایک تحریک شروع ہوئی ہے۔ دشوار گزار علاقے اور غربت کے باوجود ان نوجوانوں نے اپنی تحریک جاری رکھی ہوئی ہے جو روز بروز زور پکڑتی جا رہی ہے۔ سینکڑوں کی تعداد میں ان نوجوانوں نے اتروڑ، اوشو، کالام، پشمال،مانکیال اور بحرین میں جرگے کئے اور ایک دوسرے کو متحرک کرتے رہے۔

\"kalam-road-4\"

ان نوجوانوں کا عزم دیکھیں کہ اپنے صفوں میں سیاست کو داخل ہونے نہیں دیتے۔ مقامی عمائدین اور نمائندوں کو اعتماد میں لے کر یہ نوجوان آگے بڑھتے جا رہے ہیں۔

گزشتہ دنوں ان نوجوانوں کا ایک بڑا جرگہ/اجلاس بحرین میں منعقد ہوا جس میں انہوں نے اپنے آئیندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کیا جس کی رو سے ان کا اگلا پڑاؤ اسلام آباد ہے اور وہاں جا کر پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے دھرنا دیں گے اور اس وقت تک نہیں اٹھیں گے جب تک وزیراعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف خود کالام سڑک کی بحالی کے کام کا افتتاح نہ کرے۔

ان نوجوانوں کا کہنا تھا کہ جوں ہی اسلام آباد میں عمران خان کا احتجاج ختم ہوتا ہے وہ وہاں جاکر اپنی اس جنّت نظیر وادی کی اس سڑک کی تعمیر و بحالی کے لئے دھرنا\"kalam2\" دیں گے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ اگر ان کو حکومت پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے دھرنا دینے کی اجازت نہیں دیتی تو وہ اسلام آباد پریس کلب کے سامنے یہ دھرنا دیں گے۔ ان نوجوانوں نے سینکڑوں ارکان پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی تاکہ وہ اس احتجاج کی تیاری کرے۔ اس اجلاس میں ان نوجوانوں نے چندہ بھی اکھٹا کیا تاکہ اسلام آباد جاسکے۔ مقامی مشران اور نمائندوں نے نوجوانوں کے اس عزم کی بھرپور تائید کی اور کہا کہ وہ ان نوجوانوں کے شانہ بشانہ ہوں گے اور اس سلسلے میں کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •