استاد کو عزت دو

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میں گزشتہ کئی ماہ سے ایک نجی نشریاتی ادارے میں اعزازی طور پر بطور ”انچارج انٹرویوز سیکشن“ کے کام کر رہا ہوں اور مجھے اس دوران کئی اہم تجربات سے گزرنے کا اتفاق ہوا۔ میں نے اس عہدے پہ آنے کے بعد یہ فیصلہ کیا تھا کہ ایسے لوگوں کے انٹرویوز کیے جائیں جنہوں نے پاکستان کے مختلف شعبہ ہائے زندگی میں ملک و قوم کے لیے کوئی نمایاں کام کیاہو اور جس سے کوئی مثبت اثرات بھی سامنے آئے ہوں۔ میں چونکہ خود ایک استاد ہوں لہٰذا میری پہلی خواہش یہ تھی کہ میں پرائیویٹ تعلیمی اداروں کے سربراہان سے مکالمہ کروں تاکہ پاکستان میں تعلیم کی ابتر صورت حال پہ کوئی واضح روڈ میپ سامنے لایا جا سکے۔

یہی وجہ ہے کہ میرا گزشتہ کالم بھی وفاقی وزیر تعلیم ”شفقت محمود سے مکالمہ“ پہ تھا جس میں کئی اہم سوالات زیرِ بحث آئے تھے اور قارئین کی ایک کثیر تعداد نے اس کالم پر اپنی قیمتی آراء سے نوازا۔ میں نے حال ہی میں ایک پرائیویٹ نیٹ ورک کے سربراہ انجینئر عادل خلیق سے مکالمہ کیا اور اس کے بعد بھی کئی اہم ایجوکشنسٹس کے انٹرویوز قلم بند کیے جو قسط وار نشر ہوں گے۔ یہ مکالمہ انتہائی دلچسپ تھا اور اس کی وجہ شاید یہ تھی کہ میں ایک طویل عرصے سے تدریس سے وابستہ ہوں اور مجھے اس شعبے میں جہاں جہاں ڈیفی شینسیز نظر آئیں میں نے انہیں اس مکالمے کا حصہ بنایا۔

مکالمے کا آغاز ہمیشہ کی طرح اساتذہ کی عزت اور ساکھ سے کیا گیا۔ ہمارے ہاں ایک عجیب طرح کا فنامنا ڈویلپ ہو چکا ہے اور وہ ہے اساتذہ کو انتہائی کم تر درجے کا شہری سمجھنا۔ اس میں قطعی دو رائے نہیں کہ ہمارے ہاں بیوروکریٹ سے لے کر چھٹے اور ساتویں سکیل کے سرکاری ملازم کو تو عزت دی جاتی ہے مگر استاد اس قوم کا واحد فرد ہے جسے کسی بھی کھاتے میں نہیں رکھا جاتا اور اس ظلم کا آغاز ان آرگنائزیشنز نے کیا جنہوں نے استاد کے سر پہ کھربوں تو کمایا مگر استاد بے چارہ آج بھی سکوٹری پر پڑھانے آتا ہے۔

آپ ملک بھر کے سرکاری و نیم سرکاری اساتذہ کا سٹیٹس نکال کر دیکھ لیں ’یقین جانیں ان میں ستر فیصدطبقہ انتہائی کسمپرسی کی زندگی گزار رہا ہے۔ مغربی ادارہ ہو یا کوئی مشرقی مکتب‘ اگر کسی سٹاف ممبر کو مذاق اور کم تر سمجھا گیا تو وہ استاد ہے۔ میں پورے وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ وہ قوم دنیا میں ہمیشہ ذلیل و خوار ہوئی جس نے استاد کو عزت سے محروم کیا۔ ہم نے کبھی اپنے بچوں کو اس بات کا درس نہیں دیا کہ بیٹا آپ کا استاد ’والدین سے بھی زیادہ رتبہ رکھتا ہے کیونکہ وہ آپ کو زمین سے اٹھا کر آسمان کی رفعتوں سے روشناس کرواتا ہے۔

ہم ہمیشہ بچوں کی تربیت میں کمی رہ جانے کا الزام استاد کو دیتے ہیں ’ہم ہمیشہ بچے کی تعلیمی کارکردگی کم ہونے پر استاد کو کوستے ہیں‘ تعلیمی اداروں کے سربراہاں یہ تو کہتے ہیں کہ بچے کا رزلٹ اوکے ہونا چاہیے مگر جب استاد کو فسیلیٹیٹ کرنے کا مرحلہ آتا ہے وہی سربراہان آئیں بائیں شائیں کرنے لگتے ہیں۔ میں نے دس سالہ پرائیویٹ تدریسی کیرئیر میں اگر کسی شخص کو ذلیل ہوتے دیکھا تو وہ استاد تھا۔ میں اس کی درجنوں نہیں سینکڑوں مثالیں دے سکتا ہوں اور اگر کسی قاری کو میری اس بات پر اختلاف ہوا تو وہ مجھے لازمی ای میل کرے کیونکہ میں سمجھتا ہوں کہ آئے روز یونیورسٹیز اور کالجز میں طلباء کی طرف سے اساتذہ کے ساتھ مار پٹائی کا معاملہ شروع ہی ہمارے گھروں سے ہوا ’یہ کام شروع ہی ہمارے تعلیمی اداروں سے ہوا‘ ان تعلیمی اداروں سے جو ہمیشہ بچے کی فیس کو استاد کی عزت پر ترجیح دیتے ہیں۔

پرائیویٹ آرگنائزیشن کے سربراہان یہ تو چاہتے ہیں کہ استاد قوم کے معمار تیار کرے مگر استاد کو کسی بھی طرح سے فائدہ نہیں دینا چاہتے۔ آپ سرکاری سطح پر دیکھ لیں ’الیکشن کی ڈیوٹیاں ہوں یا مردم شماری کرنی یا پھر پولیو مہم ہو‘ اساتذہ کی ڈیوٹی لگائی جاتی ہیں۔ اساتذہ جب گھروں کے دروازے بجا کر مردم شماری کر رہے ہوتے ہیں تو جو تضحیکی جملے انہیں سننے کو ملتے ہیں کاش وہ حکومت جان جائے۔ نیم سرکاری ادارے استاد کو انسان نہیں سمجھتے اور ایم فل استاد کو بھی میٹرک پاس ملازم جتنی تنخواہ دے کر یوں سمجھتے ہیں کہ ہم نے اسے خرید لیا ہے۔

ان کی مرضی ہو تو استاد اتوار کو بھی ڈیوٹی پر آئے یعنی استاد کو مزارع سمجھ کر چوبیس گھنٹے کے لیے ہائر کیا جاتا ہے۔ ہم جب کسی تعلیمی ادارے میں بطور استاد بھرتی ہوتے ہیں تو گھر میں یہ بتا دیتے ہیں کہ ہمارے جانے کا وقت تو متعین ہے مگر واپسی کا کوئی وقت متعین نہیں کیونکہ ہم ادارے کے مصلی اور مراسی ہیں سو ہمیں تب تک گھر نہیں آنا جب تک اوپر والی سرکار کا حکم نہیں ہوگا۔ عادل خلیق میرے ان سینئرز دوستوں میں سے ہیں جو ایک وسیع تعلیمی نیٹ ورک چلا رہے ہیں ’میں نے مکالمے میں اس موضوع پر بہت کھل کر بات کی۔

مجھے ان کی یہ بات دل کو لگی کہ ”ندیم صاحب ہمیں بیوروکریٹس ’ججز اور اہم ترین عہدوں پر فائز لوگوں کی بجائے استاد کو سیلیوٹ لازمی قرار دینا چاہیے کیونکہ ججز ہوں یا بیوروکریٹ یا کوئی بھی بڑا عہدہ رکھنے والا‘ وہ سب استاد نے تراش کر بنایا“۔ دو ماہ قبل جب پھالیہ کے ایک سرکاری کالج میں طالب علموں کی فائرنگ سے ایک استاد زخمی ہواتو میں نے کالم میں کہا تھا کہ آج مجھے واقعی دکھ ہو رہا ہے کہ میں نے کیوں ایک ایسے شعبے کا انتخاب کیا جس میں استاد کی حیثیت ایک مزارع کی سی ہے۔

ابھی دو روز قبل سول لائن کالج میں ایک اسسٹنٹ پروفیسر بچوں کے تشدد کا نشانہ بنا مجھے پھر وہ سب کچھ یاد آیا۔ میں ایک نجی این جی او کی رپورٹ پڑھ رہا تھا جس کے مطابق ایک سال میں سو سے زائد اساتذہ کو بچوں نے فائزنگ سے یا تو زخمی کیایا موت کے گھاٹ اتار دیا۔ یقین جانیں یہ سب ہم نے خود ڈویلپ کیا ’ہمارے وہ مگرمچھ جو شعبہ تدریس پر قابض ہیں‘ جنہیں صرف پیسے اور اداروں کی فرنچائزز سے غرض ہے انھوں نے یہ سب کیا۔

مگر دوسرا المیہ یہ بھی ہے کہ اس پیمبری شعبے میں کئی اساتذہ صرف ٹائم پاس کے لیے آ گھسے اور اس شعبے کی ساکھ کو نقصان پہنچایا۔ اب جب جامعات اور تعلیمی مراکز میں اساتذہ پر جنسی ہراسانی کے سکینڈلز سامنے آتے ہیں تو یہ بھی دکھ ہوتا ہے کہ انسان کسے الزام دے اور کسے مسیحا کہے۔ میں پچھلے دو ماہ کے دوران درجن سے زائد ایجوکیشنسٹس ’ٹرینرز اور اساتذہ سے ملا ہوں اور میرا ہر ایک سے یہی سوال رہا پاکستان میں تعلیمی ابتری کا الزام کس کے سر رکھاجائے اور پاکستان میں تعلیمی میدان میں کہاں کہاں کام ہونا چاہیے تو ایک ہی جواب ملتا ہے کہ ”استاد کو عزت دو“۔

پاکستان میں اس وقت فیڈرل اور پرویشنل میں تیس فیصد سے زائد اساتذہ کنٹریکٹ پر ہیں ’انہیں کوئی علم نہیں کہ کب مستقل ہوں یا کب کس وقت نکال دیے جائیں۔ نیم سرکاری اداروں میں اساتذہ کو بھرتی کرنے کی پالیسی تو بنا دی گئی یعنی ڈیمو‘ انٹرویواور پھر تین ماہ کا ٹریننگ سیشن مگر یقین جانیں اساتذہ کا نکال دینے کی کوئی پالیسی نہیں یعنی اس شعر کے مصداق ”جانے کب کون کسے مار دے کافر کہہ کر۔ شہر کا شہر مسلمان ہوا پھرتا ہے“۔

سو تعلیمی اداروں میں جب استاد کی نوکری ہی محفوظ نہیں تو وہ کیسے متوجہ ہو کر اپنی تدریسی خدمات پہ کام کر سکتا ہے۔ میں استاد کی عزت پر درجن بھر صفحات لکھ سکتا ہوں کیونکہ میں نے اس شعبے کو دس سال دیے ہیں لہٰذا میں بات کو طول دینے کی بجائے سرکاری اور نیم سرکاری اداروں کے سربراہان سے دست بستہ گزارش کروں گا کہ اگر تو آپ سوسائٹی میں واقعی تبدیلی لانا چاہتے ہیں ’اگر آپ واقعی چاہتے ہیں کہ آنے والی نسل ملک کی باگ ڈور سنبھالے تو استاد کا احترام بحال کریں بلکہ استاد کے لیے سرکاری سطح پر سیلیوٹ لازمی قرار دے دیں‘ یقین جانیں استاد واقعی خود کو عظیم سمجھنے لگے گا اور وہ ایک عظیم قوم تیار کرے گا ورنہ ”جیسے چلتی ہے محبت کو چلایا جائے“۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *