قیامت خیز ہے سرخی یہ پانوں کی لب تر میں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پرانے زمانے میں پان کی سرخی سے ہی شاعروں کے دل تباہ و برباد ہو جاتے تھے۔ اب یہ فریضہ لپ سٹک نے سنبھال لیا ہے۔ ویسے بھی آج کی ماڈرن حسینہ کے لئے اپنے بیگ میں ننھی سی تین انچ کی لپ سٹک اٹھائے پھرنا آسان ہے بہ نسبت اس کے کہ وہ ایک ہاتھ میں بیگ اور دوسرے میں پاندان اٹھائے پھرے اور جب بھی لبوں کی سرخی تازہ کرنی ہو تو پہلے پاندان کھول کر سروتا سنبھالے اور چھالیہ کترنے سے لال لال لہرانے کی مہم کا آغاز کرے۔

اب لپ سٹک کی سرخی نے یہ تباہی سرخ سیبوں اور ان سے سرخ تر رخساروں کے لئے مشہور کشمیر میں پھیلائی ہے۔ یونیورسٹی آف آزاد جموں و کشمیر، مظفر آباد نے یہ نوٹیفیکیشن نکالا ہے کہ جو زنانہ سٹوڈنٹ لپ سٹک سے لب لال کرے گی اسے ہر مرتبہ دیکھتے ہی سو روپے جرمانہ کر دیا جائے گا۔ جی آپ نے درست پڑھا ہے۔ بلکہ ہم نوٹیفیکشن کا بعینہ ترجمہ بھی کیے دیتے ہیں۔

“زنانہ سٹوڈنٹس کو لپ سٹک لگانے کی اجازت نہیں ہے۔ اگر دیکھی گئیں، تو انہیں موقع پر ہی سو روپے جرمانہ کر دیا جائے گا، ہر مرتبہ“۔

بہرحال روشن پہلو دیکھیں تو یہ خوشی کی بات ہے کہ مردانہ سٹوڈنٹس کے لپ سٹک لگانے پر یونیورسٹی کو کوئی اعتراض نہیں ہے۔ تاریک پہلو دیکھیں تو یہ سوچ کر پریشانی ہوتی ہے کہ کوئی معصوم سی زنانہ سٹوڈنٹ اگر لپ سٹک لگا کر آڈیٹوریم میں چلی گئی تو اسے ہزاروں بار دیکھا جائے گا اور ہر مرتبہ دیکھتے ہی اسے مبلغ سو روپے جرمانہ کر دیا جائے گا۔ اس معصوم کا تو دیوالیہ نکل جائے گا۔ ہائے ہائے، کیا کل یگ ہے، اچھے وقتوں میں تو حسن والے اپنے حسن کا خراج لیا کرتے تھے، اب دیا کریں گے۔

صغیر بلگرامی ایسی ہی کوئی حسین گلوری دیکھ کر بے ساختہ کہہ اٹھے تھے
قیامت خیز ہے سرخی یہ پانوں کی لب تر میں
خدا جانے یہ دونوں لال ہیں کس کے مقدر میں

اللہ جانے اب کون سا کھڑوس حاکم ادھر آیا ہے جس نے یہ نوٹیفکیشن نکال دیا ہے۔ اب صغیر بلگرامی اور پان کا وقت گزر گیا ہے۔ اب تو جون ایلیا کا سکہ چلتا ہے۔ ان کی رائے اس بابت کچھ مختلف ہے۔ وہ اپنی بہکی بہکی سی نیت سے پریشان ہو کر فرماتے ہیں
ان لبوں کا لہو نہ پی جاؤں
اپنی تشنہ لبی سے خطرہ ہے
شاید یونیورسٹی کے اہلکاروں کو بھی خدشہ ہوا ہو گا کہ کہیں وہ خون پینے پر نہ اتر آئیں اس لئے خود سے ہی گھبرا کر لہو رنگ لبوں سے نجات پانے کا فیصلہ کیا ہو گا۔

سو روپے کی رقم بھی دلچسپ ہے۔ پہلے پہلے تو ہمیں شبہ ہوا تھا کہ شاید کشمیری لال چقندر کا ڈی سی ریٹ سو روپے ہو گا۔ اس کی مناسب سے لبوں کی لالی کو بھی اسی بھاؤ تولا گیا ہے۔ پھر شبہ ہوا کہ شاید پی ایس ایل سے متاثر ہو کر ٹکٹ لگایا گیا ہے کہ مردانہ سٹوڈنٹس کو احساس ہو کہ حسن ارزاں نہیں ہے۔ پھر گمان ہوا کہ شاید یونیورسٹی کے ارباب اختیار کو یہ دکھ ستا رہا ہے کہ زنانہ سٹوڈنٹس خود تو اتنی لیپا پوتی کر کے آ رہی ہیں لیکن کسی کو خیال ہی نہیں کہ اپنی مادر علمی پر بھی رنگ و روغن کروا دیا جائے، اور سرخی کی شوقین ان زنانہ سٹوڈنٹس سے عمارت پینٹ کروانے کا خرچہ وصول کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

بہرحال وجہ جو بھی ہے، وہ یونیورسٹی والے ہی جانتے ہیں۔ ہمیں تو وہ لطیفہ یاد آ رہا ہے جس میں ایک یونیورسٹی کے حاکم نے مردانہ سٹوڈنٹس کو جمع کر کے انہیں ڈرایا تھا کہ جو مردانہ سٹوڈنٹ بھِی گرلز ہاسٹل کے قریب دیکھا گیا، اسے پچاس روپے جرمانہ کیا جائے گا، دوسری مرتبہ دیکھتے ہی اسے پچھتر روپے جرمانہ کیا جائے گا، تیسری مرتبہ نظر پڑنے پر سو روپے۔ اس کے بعد اس نے اس توقع پر مردانہ سٹوڈنٹس کو دیکھا کہ اب وہ ڈر سہم گئے ہوں گے۔ واقعی سب خاموش تھے، بس ایک سہمے ہوئے مردانہ سٹوڈنٹ کا ہاتھ ہوا میں بلند تھا۔ حاکم نے اپنی مونچھ کو بل دے کر اسے بولنے کی اجازت دی۔ ”سر پورے سیزن کا ٹکٹ کیا ہو گا؟ “ مردانہ سٹوڈنٹ نے اپنی جیب ٹٹولتے ہوئے پوچھا۔ ہمیں خدشہ ہے کہ یونیورسٹی آف آزاد کشمیر کی زنانہ سٹوڈنٹس بھی سیزن ٹکٹ کا مطالبہ کر دیں گی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 1239 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *