نوجوانی کی جسمانی ضروریات، شادی اور تعلیمی نظام

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ترکی کے صدر اردگان کا ایک بیان سامنے آیا تھا جس میں انہوں نے ترکی میں نوجوانوں کے جلدی شادی نہ کر نے پر تنقید کی تھی۔ اس سے پہلے ترکی میں جلدی شادی کو قانون بنانے کی بھی کوششیں کی گئیں جو اگرچہ ایک الجھے ہوئے نظام کا حصہ ہونے کی وجہ سے کافی حد تک متنازع ہوئیں۔ لیکن کیا آج واقعی اسلامی دنیا کو اس مشکل کے لئے سر جوڑ کر بیٹھنے اور اپنے ذہین دماغوں کو اس مسلئے کے حل کی طرف لگانے کی ضرورت نہیں ہے؟ خصوصا ایسے وقت میں جب بڑھتی ہوئی ٹیکنالوجی اور ہر طرح کے میڈیا کی آزادی اخلاقیات کی ہر طرح کی قدر سے آزاد ہو رہی ہے اور عالمی اور لوکل میڈیاز پر ہر طرح کے مواد کی کھلے عام رسائی اور تشہیر نوجوانوں کے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت تلف کرتی جا رہی ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ منہ زور میڈیا اور ہر طرح کے مواد تک بے لگام رسائی نو سے دس سال کے بچوں کو وقت سے پہلے جسمانی اور ذہنی طور پر بلوغت کی طرف لے جا رہی ہے مگر بدقسمتی سے پاکستانی تعلیمی نظام اکثر بارہ اور چودہ سال کی تعلیم کے بعد بھی ان کے شعور کو بلوغت اور کمائی کے قابل نہیں بنا پا رہا تو پھر اس ناقابل عمل نظام تعلیم کو بدلنے اور اپنی ضروریات اور خواہشات کے مطابق اس کو ادھیڑ کر دوبارہ سے بننے کی کوشش کیوں نہیں کی جا رہی۔

شہر کے پارکوں اور باغوں میں تعلیمی اداروں کے لڑکے لڑکیاں درسگاہیں چھوڑ کر جوق در جوق اپنے جذباتی تقاضوں کی تلاش میں امڈے چلے آ رہے ہیں جن کی تسکین کی سولہ سال تعلیم سے پہلے ان کے پاس کوئی راہ ممکن نہیں جبکہ جسمانی تقاضے ہیں کہ نو دس سال سے ہی کم عمر بچوں کے سروں پر کھڑے چیخ اور چلا رہے ہیں۔ سولہ سالہ تعلیم جس میں مستقبل کے حسین خواب تو ہیں مگر بڑھتے ہوئے جسم اور اس کی ضروریات کے تقاضوں کو نہ سمجھا جا رہا ہے نہ آپ کے پورے معاشرے کے پاس اس کا کوئی جواب ہے۔

حل ہے تو یہ کہ یا تو میٹرک پڑھ کر لڑکے لڑکیوں کی شادی کر دو، لڑکوں کا مستقبل اور ڈھنگ کا روزگار نہ بنے اور لڑکیاں ساری عمر ادھوری تعلیم ادھورے شعور کے ساتھ ایک کم عقل اور محدود زندگی گزارتی رہیں یا پھر پوری کامیابی سے جسم و جان کے تمام تقاضوں کو راہبانہ انداز میں کھرچ کر پھینکنے میں کامیاب ہو جائیں تا کہ سولہ سالہ تعلیم اور شعور کے ساتھ مناسب غم روزگار کا بندوست کر سکیں۔

حیرت انگیز طور پر ہمارے معاشرے میں آج تک یہ سوچا ہی نہیں گیا کہ ہمارا مقصد کیا ہے، ہم کس طرح کا انسانی مال پیدا کرنا چاہتے ہیں اور ان کے لئے بہترین طریقے کیا ہیں۔ کیا ہمیں ایک متوازن قوم بنانے کے لئے ایک ایسے نظام کی ضرورت نہیں جو جسمانی اور سماجی ضروریاتِ کو ساتھ ساتھ لے کر چلے۔ پاکستان میں کیا ایسے پڑھے لکھے تعلیم یافتہ دماغوں کی کمی ہے جو سماجی، معاشرتی اور تعلیمی نظام تینوں کو اس طرح گوندھ کر ایک مکمل نظام تخلیق کر سکیں جس میں بچوں کا مستقبل بھی محفوظ ہو اور اور جسمانی ضروریات کو بھی غیر انسانی حد تک کچلنا نہ پڑے اور وہ بھی تب جب دنیا جہاں کا ہر طرح کا میڈیا صرف اور صرف انہیں ضروریات کو ابھارنے پر لگا دیا گیا ہو۔

مغرب نے اس کا حل اپنے ہاں شادی کا نظام نظر انداز کر کے اور جنسی تعلق کو قانونی تحفظ دے کر کر دیا۔ ہمارے ملک میں اکثریتی مذہب ہمیں قطعی طور پر ایسے کسی سسٹم کو فالو کرنے کی اجازت نہیں دیتا تو پھر ہمارے پاس اس کا کیا حل ہے؟

اسلام اس کا واضح حل جوانی کی شروعات میں ہی شادی یعنی ایک حلال رشتے کے جنم کی صورت میں دیتا ہے۔ مگر اگر آج سے پندرہ سو سال پہلے کے حالات دیکھے جائیں اس وقت عرب میں سولہ سالہ تعلیمی نظام نہ تھا جو ملازمت اور روشن مستقبل کی اہم ضرورت ہو۔ بچوں کی تعلیم و تربیت کم عمری سے ہی ان کی ماؤں اور آیاوں کی گودوں، گھروں، اور محلوں میں والدین یا نجی اساتذہ کی نگرانی میں ہوتی تھی، دوسرے معاشروں سے ادھار مانگا گیا وہ تعلیمی نظام نہ تھا جو سالہا سال تک بچوں کو زندگی کے کاروبار سے الگ کر کے ڈیسکوں اور کرسیوں پر بٹھا کر صرف کتابیں پڑھنے اور رٹے لگانے پر لگا دے۔ زندگی گزارتے اسے جیتے زندگی کو بنانا پڑتا تھا تو محمد بن قاسم جیسے کم عمر سالار بھی تیار ہو جاتے تھے اور حضرت عائشہ جیسی کم عمر سمجھدار بیویاں بھی۔

تو نقص اس اسلامی اصول میں نہیں بلکہ ہماری اس لاعلمی اور لاپرواہی کا ہے کہ جب ہم ہر چیز اور ہر نظام اپنے دین اسلام کے نظام کے ساتھ ہم آہنگ کیے بغیر اس کے اوپر لادتے چلے گئے۔ دین اسلام جسے ہم منہ زبانی تو دنیا کا بہترین نظام کہتے ہیں مگر اسے زندگی گزارنے کے لئے ناقابل عمل قرار دیتے ہیں صرف اس لئے کیونکہ ہم ساری دنیا کی گھسی پٹی روایات اور نظاموں کو اس کے گرد لپیٹ کر اس کا دم گھٹنے کا پورا انتظام کر چکے ہیں۔

نقص اس معاشرتی نظام میں بھی ہے جس نے ایک شوہر اور اس کی کفالت میں اس کی بیوی کا نظام نظر انداز کر کے اس کے گرد جنوبی ایشیا کا خاندانی سسٹم لپیٹ دیا جس میں پورے کنبے کی ذمہ داری ایک فرد پر آ جاتی ہے۔ اس سے نہ صرف افراد کی ذمہ داریاں کئی گنا بڑھا دیں بلکہ اسلام کے کئی قسم کے احکامات عملی طور پر ناقابل عمل بن کر رہ گئے۔

کیا بہت ضروری ہے کہ ڈاکٹر انجینئر اور اچھے مستقبل کے لئے سولہ، اٹھارہ یا بیس سالہ تعلیم ہو؟ کیا دس سالہ سکول سسٹم پانچ سال میں ختم نہیں کروایا جا سکتا؟ آٹھ دس کی بجائے پانچ چھ مضامین، سو کتابوں کی بجائے ضروری علم، آخر کیا بہت اہم تعلیم ہے معاشرتی علوم اور جیوگرافی کی، اور دس طرح کی زبانوں کے ادب کی جو دس سال تک ضرور ہو؟ کیا سیلبس کو، نظام کو تھوڑا مختصر کرنے کی یا اس میں کچھ ادل بدل کرنے کی ضرورت نہیں؟ کیا بہت ضروری ہے بیوی کے لئے سارے سسرال کی خدمت اور شوہر کے لئے پورے خاندان کا بوجھ ڈھونا؟ کیا بہت ضروری ہے شادیوں کے بعد لڑکیوں کا تعلیم چھوڑ کر خاندان پالنے لگ جانا اور لڑکے کا کمائی کرنا؟ کیا نوجوان شادی شدہ جوڑوں کو اعلی تعلیم کے لئے وظائف فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری نہیں ہو سکتا؟

اس طرح کے بہت سے اقدامات ملا کر معاشرے میں ایک ایسے نظام کا جنم ہو سکتا ہے جس میں ہمارے سماج کے سب نہیں تو بہت سے سوالوں کے جواب ہوں۔ مگر اس کے لئے ایک دو نہیں کئی سسٹم الٹ پلٹ کرنے کی، انہیں ایک دوسرے کے متوازی کھڑا کرنے کی ضرورت ہے۔

آخر دس سالہ اسکولنگ کا مقصد بچے کو کیا کچھ دینا ہے، اس عمل کو سمجھ کر اس سارے حاصل کو کٹوتیوں کے بعد مختصر کرنے کی ضرورت ہے۔ پھر اس کے ساتھ کم عمری میں ہی اسکولوں میں بچوں کوکتابی علم کم اور فنی مہارتیں اور تعلیم ہنر سکھانے کی زیادہ ضرورت ہے۔ ایسا تعلیمی نظام پیدا کیا جائے جو بیس بائیس کی عمر کی بجائے اٹھارہ سال تک تعلیم کو مکمل کر سکے، ان کو ذہنی شعور دے کر اس قابل کر سکے کہ وہ اپنی معاشی اور معاشرتی ذمہ داری اٹھا سکیں۔

حکومت کو ایسی ذمہ داریاں اٹھانے کے لئے اپنا حصہ ڈالنا چاہیے جو اٹھارہ سالہ شادی شدہ جوڑوں کو مزید اعلی تعلیم کے حصول میں مدد دے سکیں۔ معاشرے میں ایسے معاشرتی نظام کو فروغ دینے کی ضرورت ہے جو شادی شدہ جوڑوں کو تباہ حالی کی طرف دھکیلنے کی بجائے ان کے ساتھ کھڑے ہو سکیں، ۔ اولڈ اینڈ کو ایجوکیشن کی طرح ایسے تعلیمی ادارے بھی شروع کیے جا سکتے ہیں جہاں میاں بیوی اکٹھے تعلیم حاصل کر سکیں۔ یہ آسان کام نہیں اور یہ سب محض ان چند باتوں سے ممکن بھی نہیں اور ضروری بھی نہیں کہ جو میں کہہ رہی وہی حل بھی ہو۔

لیکن بہت سارے ذہین دماغ ایک ایسے سسٹم کی تشکیل میں مدد دے سکتے ہیں جو آپ کے مذہب کی تعلیمات کے مطابق بھی چلے (جب کہ آپ سمجھتے بھی ہیں کہ اسلام کا نظام دنیا کا بہترین نظام ہے ) اور آپ کی دنیاوی زندگی کے مسائل کا بھی ہر جواب دے سکتا ہو۔ ۔ اگر کوئی معاشرہ یا حکومت اپنے سسٹم کی بگڑی چیزوں کو سدھارنا چاہتی ہے تو اسے اپنے ہاں کے تمام اعلی تعلیم یافتہ دماغوں کو اکٹھا کر کے ان کے سامنے یہ سب سوال رکھنا ہوں گے۔ بہت سارے قابل دماغ مل کر ان تمام سوالوں کے جواب اور ایسے نظام کے وجود کا لائحہ عمل بہت کامیابی سے تشکیل دے سکتے ہیں مگر شرط یہ ہے کہ کوئی بھی معاشرہ یا اس کی حکومت صحیح معانی میں ایسا کوئی انقلابی قدم اٹھانا چاہتی ہو۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *