وزیروں کی بے احتیاطیاں: طاقت، سازشوں اور بدعنوانیوں کی اندرونی کہانیاں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آج کل سوشل میڈیہ پر پاکستان کی ٹک ٹاک گرلز حریم شاہ اور صندل خٹک کے بہت چرچے ہیں۔ یوٹیوب پر ان دونوں کی موجودہ حکومتی وزرا کے ساتھ متنازعہ ویڈیوز اپ لوڈ کیے گئے ہیں۔ جن میں وہ ان حساس ترین مقامات پر دندناتی پھرتی نظر آتی ہیں جہاں عام آدمی جانے کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔ بہت سے وزرا ان لڑکیوں سے تعلق منظرعام آنے پر خوف زدہ ہیں۔ اس سے قبل ساٹھ اور ستر کی دیہائی میں بھی اہم حکومتی شخصیات کے فلمی ستاروں اور دوسری عورتوں سے تعلقات رکھنے پر بہت سے سکینڈل منظر عام پر آئے تھے جو میڈیہ پر کافی مشہور ہوئے تھے۔

ایسا ہی ایک سکینڈل 1963 میں برطانیہ میں کنزرویٹو پارٹی کے دور حکومت میں بنا جس میں ایسی ہی دولڑکیوں کرسٹائن کیلر اور مینڈی رائس۔ ڈیوس نے مرکزی کردار ادا کیا۔ اس سکینڈل نے حکومت کی چولیں ہلا کر رکھ دیں۔ سکینڈل کی وجہ سے وزیر دفاع کو استعفے دینے کے علاوہ سیاست بھی چھوڑنی پڑی۔ پرائم منسٹر کو بھی حکومت چھوڑنا پڑی اور ٹوری پارٹی اپنا الیکشن لیبر پارٹی سے ہار گئی۔ سکینڈل کی تفصیل میں جانے سے پہلے دونوں لڑکیوں کا مختصر تعارف پیش ہے۔

کرسٹائن کیلر اور مینڈی رائس ڈیوس لنڈن کی ساٹھ کی دیہائی کی ہائی سوسائٹی کی گرلز تھیں۔ جنھیں عرف عام میں آپ طوائفیں بھی کہہ سکتے ہیں۔ دونوں کی ملاقات لندن کے ایک کیبرے ڈانس کلب مریز میں ہوئی۔ پہلی ملاقات میں دونوں نے ایک دوسرے کو اتنا پسندنہیں کیا لیکن کچھ ہی دنوں بعد جب ہائی سوسائٹی کے امرا کی دی ہوئی پارٹیوں میں ان کی مزید ملاقاتیں ہوئیں تو وہ نہ چاہتے ہوئے بھی ایک دوسرے کی دوست بن گئیں۔ دونوں کی دوستی ہوئی تو وہ ایک دوسرے کا خیال رکھنے لگیں۔

مینڈی ایک چالاک اور دولت کمانے کی شوقین لڑکی تھی لیکن کرسٹائن تھوڑی لاپرواہ اور ان چیزوں سے بے نیاز ایک بے ترتیب زندگی کی عادی تھی۔ و ہ دونوں لندن کے امرا کے بیڈرومز کی اکٹھے زینت بننا شروع ہو گئیں اور دونوں کا ایک مرد سے اکٹھے پیار کرنا ان کی سپیشئلٹی بن گئی۔ ان کو گروپ سیکس میں بھی کوئی عار نہیں تھا کیونکہ یہ ان دونوں کے لئے دولت، پرتعیش زندگی اور خوشی کا سامان بن رہا تھا۔ 1959 میں دونوں لندن کے ایک پرآسائش فلیٹ میں منتقل ہو گئیں اور اکٹھا رہنے لگیں۔ اس دوران ان کی ملاقات لندن کے ایک پراپرٹی کنگ پیٹر رچمین سے ہوئی۔ اس نے ان دونوں کی کافی مددکی۔ وہ دونوں لندن کے روسا اور امرا کے بیڈرومز گرم کرنے والی بہت ہائی فائی سوسائٹی گرلز بن گئیں۔ وہ دونوں سٹیفن وارڈ کے فلیٹ میں رہ رہی تھیں۔

کرسٹائن کیلر

اس کے بچپن کا بیشتر حصہ اپنی والدہ اور سوتیلے والد کے ساتھ برکشائر کاؤنٹی کے ایک گاؤں ورے بری میں ریلوے کے ایک کیرج ڈبے میں گزرا۔ وہ اپنی والدہ کے بہت قریب تھی کیونکہ اسے اپنے سوتیلے والد سے جنسی تشدد کا خطرہ رہتا تھا۔ اس سے بچنے کے لئے وہ اپنے تکیے کے نیچے ایک چاقو رکھتی تھی۔ پندرہ سال کی عمر میں اسے 1957 میں لندن کے سوہو کوارٹرز میں واقع ایک دکان میں ماڈل کی نوکری مل گئی۔ وہ اپنے گاؤں سے روز لندن آتی۔

اسی دکان پر گھانا سے آیا ہوا ایک طالب علم سویپر کا کام کرتا تھا۔ ایک دن اس نے اسے اپنے فلیٹ پر مدعو کیا اور اس شام وہ وہاں اپنی عزت گنوا بیٹھی۔ سولہ سال کی عمر میں اس نے اپنے گاؤں کے اردگرد تعینات فوجی جوانوں سے ملاقاتیں شروع کر دیں۔ ان میں لیلہم ائربیس کے ایک کالے سارجنٹ جم کے ساتھ اس نے کچھ راتیں گزاریں۔ ایک دن اسے پتہ چلا کہ وہ حاملہ ہو گئی ہے۔ اس نے اس ان چاہے حمل کو ضائع کرنے کے لئے نٹنگ والی سوئی کا خود ہی استعمال کیا جس کا نتیجہ کافی خراب نکلا۔

17 اپریل 1959 کو اس نے ایک بچے کو جنم دیا جو چھ دن بعد فوت ہو گیا۔ انہی گرمیوں میں اس نے اپنا گاؤں چھوڑ کر سلاؤہ میں اپنی ایک سہیلی کے ساتھ رہنا شروع کر دیا اور لندن میں کام تلاش کرنے لگی۔ بیکر سٹریٹ کے ایک ریستوران میں ویٹرس کی نوکری کے دوران اس کی ملاقات ایک لڑکی ”مورین وکارنر“ سے ہوئی جوکہ سوہو کے علاقہ میں ”مریز“ نامی ایک کیبرے کلب میں کام کرتی تھی۔ اس نے کرسٹائن کیلر کو کلب کے مالک سے متعارف کروایا۔ کلب کے مالک نے کیلر کو فوراً ہی کلب میں ٹاپ لیس شوگرل کے طور پر ملازم رکھ لیا۔ ٹاپ لیس شوگرل کے طور پر اس نے جلد ہی گاہکوں کے ساتھ بیٹھنا شروع کر دیا تا کہ وہ اس کے تجویز کردہ مہنگے ڈرنک کا آرڈر دیں، جس سے کلب کو فائدہ ہو۔

ایک دن ایک عرب شہزادہ کلب میں آیا تو اس کے ساتھ ایک اور آدمی سٹیفن وارڈ بھی تھا۔ وارڈ جلد ہی کیلر کا شیدائی ہو گیا۔ اور اس کے آگے پیچھے پھرنے لگا۔ کیلر نے اس سے پیچھا چھڑانے کی کوشش کی لیکن اس نے کیلر سے اس کا فون نمبر حاصل کر ہی لیا۔ اگلے تین چار دن میں اس نے کیلر کو کافی دفعہ فون کیا لیکن وہ اسے اگنور کرتی رہی۔

اس دوران وہ گاؤں میں اس کی ماں سے بھی مل آیا اورپھر کیلر کی ہمدردیاں سمیٹ لیں۔ آخرکار کیلر نے وارڈ سے ملاقات کر ہی لی اور اگلی دوتین ملاقاتوں میں اس نے کیلر کو اپنے ساتھ فلیٹ میں رہنے کی آفر کر دی۔ اسے کہا کہ اتنے بڑے شہر میں اس جیسی عورت کا اکیلے رہنا بہت مشکل ہے وہ اسے تحفظ دے گا اور بدلے میں اس سے کچھ بھی نہیں مانگے گا۔ وہ ویسے بھی سہارا ڈھونڈ رہی تھی اس پر وہ جلد ہی اس کے فلیٹ میں شفٹ ہو گئی۔

کیلر نے بعد میں اپنے ایک انٹرویومیں بتایا کہ وارڈ کے ساتھ فلیٹ میں رہنے کے دوران اس نے کبھی کیلر سے سیکس کا مطالبہ نہیں کیا بلکہ وہ بہن بھائی کی طرح رہتے تھے۔ وہ اس کے لئے امرا کی پارٹیوں میں شمولیت کا بندوبست کرتا اور اسے نوابوں اور امیروں سے ملاتا۔ تھوڑے عرصہ بعد لندن کے ایک پراپرٹی کنگ رچمین کی مدد سے وہ دونوں ایک بڑے فلیٹ میں منتقل ہو گئے۔

مینڈی رائس۔ ڈیوس

مینڈی کا بچپن برمنگھم کے علاقہ سولی ہل میں گزرا۔ اس کاوالد پولیس میں تھا جہاں سے وہ نوکری چھوڑ کر ٹائروں کی کمپنی ڈنلپ میں کام کر رہا تھا جبکہ اس کی والدہ ایک گھریلو عورت تھی۔ پندرہ سال کی عمر میں ہی وہ اپنی عمر سے کافی بڑی دکھائی دیتی تھی۔ اس نے برمنگھم میں واقع ایک ڈیپارٹمینٹل سٹور ”مارشل اینڈ گروو“ میں کپڑوں کی ماڈلنگ شروع کر دی۔ سولہ سال کی عمر سے پہلے ہی یہاں اس کی ٹرنٹی کالج ڈبلن کے طالب علم سے دوستی ہو گئی جو برمنگھم میں اپنے والدین کے پاس چھٹیاں گزارنے آیا ہوا تھا۔

ایک دن اس نے مینڈی کو اوڈین سینما کے قریب اپنے والد کی مٹھائی کی دکان کے اوپر ان کے فلیٹ میں ملاقات کے لئے بلایا اور وہ اپنی پہلی ہی ڈیٹ پروہاں اپنی عزت گنوا بیٹھی۔ 0196 میں وہ سولہ سال کی عمر میں اپنے بہتر مستقبل کے لئے وہ لندن منتقل ہو گئی۔ مینڈی نے جب لندن میں رہنے کا فیصلہ کیا تو پہلے ہی دن اسے ”مریز“ نامی کیبرے کلب میں ڈانسر کی جاب مل گئی یہیں اس کی ملاقات کرسٹائی کیلر سے ہوئی جو وہاں ٹاپ لیس شوگرل کے طور پر پہلے ہی کام کر رہی تھی۔

اس کے چند ماہ بعد ہی مینڈی لندن کے ارل کورٹ میں نئی کار ”منی“ کی لانچنگ تقریب میں ماڈلنگ کر رہی تھی۔ اس کو اسی پونڈ مہینہ کی تنخواہ پر ملازم رکھا گیا تھا۔ لیکن اسے ماڈلنگ پسند نہیں آئی اور وہ دوبارہ کلب کی دنیا میں لوٹ گئی۔ یہاں اس کو بہت سارے امیر امیر بوڑھے ملے جو اس پر رالیں ٹپکاتے تھے انہی میں ایک ارب پتی والٹر فلیک بھی تھا جو لندن کے پراپرٹی ڈیلر کا پارٹر تھا۔ وہ کیلر کے ساتھ بھی رقم کے عوض راتیں گزارتا تھا۔

ڈڈلی کا ایک امیر نواب بھی اس پر عاشق ہو گیا۔ اس نے ایک موقع پر مینڈی پرگلاب کے پھولوں کی بارش کر دی۔ نقد رقم کے علاوہ اسے گلابی شیمپیئن کا تحفہ دیا۔ اسے اپنی نئی جیگوار کار میں لانگ ڈرائیو پر لے گیا۔ اس کا ایک اور عاشق نیویارک کا کروڑپتی تاجر ”رابرٹ شئرووڈ“ بھی تھا جس نے اسے کہا کہ وہ واپس برمنگھم چلی جائے وہ اس کا سارا خرچہ اٹھائے گا۔ مینڈی نے لندن کی چکاچوند اور پر تعیش زندگی کی خاطر اس کی تجویز مسترد کردی اور وہ لندن کی اعلی سوسائٹی کی رونق بن کر رہ گئی۔

اس مضمون کا دوسرا حصہ اگلی قسط میں چند دنوں بعد۔

اس مضمون کی تیاری میں 1991 میں چھپی کتاب
Scandal: Inside stories of Power, Intrigue and Corruption
سے مدد لی گئی ہے

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *