پروردگار بول، کہاں جائیں تیرے لوگ؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میں ایک ماں ہوں، وہ ماں جسے ہمیشہ حسرت ہی رہی کہ کبھی ”گہری نیند“ کا تجربہ کر کے دیکھوں کہ ”سکون“ سے سونے والوں کے خواب بھلا کیسے ہوا کرتے ہیں؟ کبھی ایک وقت کا کھانا ”ایک ہی نشست“ میں کھا کر محسوس کروںکہ پروردگار نے جو نعمتیں زمیں پر اتاری ہیں وہ کتنی لذیذ اور خوش ذائقہ ہیں؟

کبھی دو گھڑی آرام سے بیٹھ کر یہ غور کروں کہ جب آفتاب ”طلوع“ ہوتا ہے تو اس کی کرنیں سنہری ہوتی ہیں یا ارغوانی؟ کبھی شام کے وقت ڈوبتے سورج کا نطارہ بھی کروں کہ معلوم ہو ڈوبتی کرنیں، ابھرتی کرنوں سے کتنی ”دلفریب“ ہوتی ہیں؟ کبھی چاندنی کی ٹھنڈک میں آسمان پہ چمکتے ستاروں سے پوچھوں کہ وہ کون سی خوشی ہے جو ان کی چمک کو ”مدھم“ نہیں ہونے دیتی؟

لیکن کیا کروں؟ ایک ماں ہوں ناں! جو سوتی ہے تو اس فکر کے ساتھ کہ صبح اپنے بچوں کو ”وقت“ پر سکول بھیجنے کے لئے کتنے ایسے کام ہیں جو رات کو ہی نپٹائے جا سکتے ہیں؟ جسے نیند میں بھی یہی فکر رہتی ہے کہ اس کے دائیں، بائیں جانب سوئے پھول ”بے دھیانی“ میں بیڈ کی سائڈ سے زمین پر نا لڑھک جائیں؟ صبح سویرے گھڑی کی سوئیوں سے مقابلہ کرتی، بچوں کے لئے لنچ باکسز تیار کرتی، دعائیں پڑھ پڑھ کے حفاطتی ”حصار“ کھینچتی، اپنے بچوں کا بچا کھاتی ماں کب ان ”عیاشیوں“ کی محتمل ہو سکتی ہے؟

سارا دن معمول کے کام نمٹاتی، معمولی سی ”دو ٹکے کی عورت“ کے بچے جب گھر سے باہر نکلتے ہیں تو ”معمول“ سے دھڑکتا دل ”غیر معمولی“ رفتار پکڑ لیتا یے۔ ہر آن لرز جاتا ہے، ہر سانس دعا کرتی ہے ”الہی خیر کی خبروں کے اجالے رکھنا“۔ روز نئے سرے سے سولی پہ لٹکتی ہے جب یہ سنتی ہے کہ گھر سے ہنستے کھیلتے جانے والی ”زینب“ پھر کبھی ہنسنے کے قابل نہیں رہی۔ جب یہ پڑھتی ہے کہ فرشتوں سی معصومیت لئے ”فرشتہ“ کو فرشتہ اجل ہی اٹھا لے گیا۔ جب یہ دیکھتی ہے کہ پریوں جیسی ”عوض نور“ جو جاتے ہوئے باپ کو کہہ کر جاتی ہے کہ پھر بات ہو گی، پھر بات کے قابل ہی نہیں رہتی۔ بچیوں پہ ہی کیا موقوف، یہاں تو لڑکے بھی محفوظ نہیں کہ اب یہاں ”قوم لوط“ کا بسیرا ہے۔

ہو سکتا ہے کہ بہت سے لوگوں کو اس بات سے اختلاف ہو کہ میں نے فقط ”ماں“ کا دکھ لکھا۔ یہ ایک ماں دکھ نہیں، ہر ماں کا ”درد“ ہے۔ پدر سری نظام میں جہاں مردوں کو اپنی مردانگی ثابت کرنے کے لئے ”ریپ“ کا سہارا لینے پڑے اور خود کو ”قوی“ دکھانے کے لئے عورت کو ”گینگ ریپ“ کا چیلنج دینا پڑے ایسے ”ذہنی معذور“ معاشرے میں مجھے صرف ماں کا دکھ ہی سمجھ آتا ہے، ماں کا درد ہی دکھائی دیتا ہے۔ کیونکہ یہاں حکمران اپنی ”حاکمیت“ کے چکر میں پڑے ہیں اور انہیں اس کے سوا کچھ دکھائی نہیں دیتا، کچھ سنائی نہیں دیتا۔ ان لوگوں کو معصوموں کی چیخیں کہاں سنائی دیں گی؟

اس دھرتی پہ اب ”انسان“ نہیں بستے، یہاں ہر سو ”بھیڑیئے“ دندناتے پھرتے ہیں۔ نجانے کون سی بھوک ہے جو ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتی؟ نا پیٹ کا دوزخ بھرتا ہے نا ہوس کی آگ بجھتی ہے۔ روز نئے پھول ”مسلے“ جاتے ہیں اور ہمارے حکمران اپنے ”مسئلے“ ہی نہیں سلجھا پاتے کہ دھیان کسی اور جانب جائے۔ یہ ننھے پھول جب خدا کے ہاں جاتے ہوں گے تو ان کے زخم دیکھ کر فرشتے بھی تڑپ جاتے ہوں گے۔ یہاں تو نا انسان باقی رہے ہیں نا انسانیت۔

انسان میرا درد سمجھ سکتے ہی نہیں

پروردگار! بول، کہاں جائیں تیرے لوگ

تجھ تک پہنچنے کو بھی وسیلہ ضروری ہے

پروردگار! کچھ بھی صحیح نہیں رہا

یہ کس کو تیرے دین کے ٹھیکے دیے گئے

پروردگار! ظلم پہ پرچم نِگوں کیا

ہر سانحے پہ صرف ترانے لکھے گئے

ہر شخص اپنے باپ کے فرقے میں بند ہے

پروردگار! تیرے صحیفے نہیں کھلے

کچھ اور بھیج! تیرے گزشتہ صحیفوں سے

مقصد ہی حل ہوئے ہیں، مسائل نہیں ہوئے

جو ہو گیا سو ہو گیا، اب مختیاری چھین

پرودگار! اپنے خلیفے کو رسی ڈال

جو تیرے پاس وقت سے پہلے پہنچ گئے

پروردگار! ان کے مسائل کا حل نکال

پروردگار! صرف بنا دینا کافی نئیں

تخلیق کر کے بھیج تو پھر دیکھ بھال کر

ہم لوگ تیری کن کا بھرم رکھنے آئے ہیں

پروردگار! یار، ہمارا خیال کر

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *