کیا میرے پاس تم ہو، ایک ناکام ڈرامہ تھا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میں نے اِس ڈرامے کی ایک دو اقساط چلتے پھرتے دیکھیں۔ جس روز آخری قسط آنی تھی ہم کسی کے ہاں مہمان تھے۔ اُن کی فیملی مع میری فیملی کے یہ ڈرامہ دیکھ رہے تھے۔ پن ڈراپ سائلنس تھی۔ میں صوفے پر بیٹھا موبائل پر فیس بک چیک کر رہا تھا۔ فیس بک پر میرے دوست نوٹیفکیشن بند ہونے کی وجہ سے ماتم کر رہے تھے۔ اِس دوران ڈرامہ ختم ہو گیا۔ پھر فیس بک اور میزبان کے گھر کا ماحول دیکھ کر اندازہ ہوا کہ کوئی درگھٹنا گزر گئی ہے۔ فیس بک پر دانش کی موت کا ماتم جاری تھا۔ رائٹر کے بارے میں شدید غم وغصہ دکھایا جا رہا تھا۔

میرے ادیب دوست شروع دن سے اِس ڈرامے بارے اپنے تحفظات سے آگاہ کر رہے تھے۔ انھیں رائٹر کے انداز تحریر سے شدید اختلاف بھی تھا۔ چند ایک نے تو اُسے ڈرامہ رائٹر تک ماننے سے انکار کر دیا تھا۔

میرے دوست میری اس عادت سے واقف ہیں کہ میں کسی بھی کتاب یا رائٹر کو پڑھے بنا اپنی رائے دینا مناسب نہیں سمجھتا۔ میں خواتین رائٹر کے پاپولر فکشن بارے بھی ان کی تحاریر پڑھے بنا رائے دینا گناہ سمجھتا ہوں۔

اب آتا ہوں اِس ڈرامے کی جانب۔ حقیقت سے آنکھیں چرائے بنا۔ سچائی کو مانتے ہوئے اور کھلے دل کے ساتھ۔

دوستو ہم اور آپ کیوں لکھتے ہیں، کیوں شاعری کرتے ہیں؟ اِس لیے نا، کہ ہمیں زیادہ سے زیادہ قاری پڑھ سکیں، ہماری تحریر گھر گھر، کلی کلی اور کوچہ کوچہ پڑھی جائے اور لوگ ہمارے افسانے، ہمارے ناول پڑھ کر آئیں بھریں، ہم اُن کے دل و دماغ کو اپنے قابو میں رکھتے ہوئے اپنی تحریر ان کی روح تک اتارنے میں کامیاب ہو جائیں۔ ہماری لکھی شاعری ہر عاشق کے مسیج، ہر خط ہر تحریر کا حصہ ہوں۔ ہر نوجوان ہمارے شعر گنگنائے۔ ہمارے سیاسی تجزوں پر عمران خان، نواز شریف، مریم نواز شریف اور ایران امریکہ اپنی سیاست اور خارجہ پالیسی ترتیب دیں۔

ہر لکھاری یہی چاہتا ہے کہ اس کی تحریر عوام کے دل جیت لے، اس کی تحریر میں لکھے جذبانی مکالمے زبان زدعام ہوں، ہر آنکھ اس کی منظر کشی کا نظارہ کرے اور ہر مردم اپنی چشم تر کرے تو اس کے لکھے جذباتی سین پڑھ کر۔

فیس بک ٹیوٹر اور میڈیا پر اِس کی تحریر کے چرچے ہوں۔ اِس کی کتاب کا ہر طرف چرچا ہو اُس کی شاعری پر پروگرامز ہوں اور اُس کے اشعار پر نیوز کاسٹر ہیڈ لائنز ترتیب دیں۔

دوستو۔ اگر ہم احساس کمتری اور پروفیشنل جیلیسی سے ذرا اوپر ہو کر دیکھیں تو کیا خلیل الرحمان قمر کی تحریر نے یہ تمام منزلیں باآسانی طے نہیں کیں؟ کیا وہ دنیا بھر میں بستے پاکستانیوں اور اردو سمجھنے والوں کے دل دھڑکنانے میں کامیاب نہیں ہوا؟ کیا اِس نے ملک کی ایک بڑی آبادی کو اپنی تحریر سے رلا نہیں دیا؟

جب سے یہ ڈرامہ آن لاین ہوا ہے سوشل میڈیا، مین میڈیا اور اخبارات میں اِس ڈرامے کے چرچے نہیں؟

اگر ایسا ہی ہے تو مجھے اور آپ سب کو یہ ماننا ہوگا کہ ڈرامہ بہت کامیاب رہا۔ ڈرامہ نویس نے بہت کامیابیاں سمیٹیں، ہر دل ہر آنکھیں کو اپنی تحریر سے متاثر کیا۔

ڈرامے کا ایسا اختتام دکھانا رائٹر کا کمال ہے اگر وہ اس کا عام روایتی اختتام کرتا تو اگلے دن لوگ اس ڈرامے کو بھول چکے ہوتے۔

مگر لکھاری نے کمال ہوشیاری سے اپنے آپ کو، اپنی تحریر کو بڑے عرصے تک زندہ رکھنے کا کامیاب تجربہ کیا۔ اب بڑے بڑے لیڈرز، علماء اور ادکاروں کے ساتھ اس ڈرامے کے کلپ جوڑ کر ٹرولنگ کی جا رہی ہے۔ یہ ڈرامہ ایک زندہ ڈرامہ ہے جو اگلے کئی برسوں تک لوگوں کو اپنے لکھاری کی یاد دلاتا رہے گا۔ اِس کے جملے کئی برس تک زبان زد عام رہیں گے۔

میں بے دلی سے دیکھی چند اقساط پر اِس کی ادبی سماجی اور دنیاوی پرتیں کھولنے یا تنقید کرنے کا پروگرام نہیں رکھتا۔ بس اس کسوٹی پر اس ڈرامے کو پرکھتا ہوں کہ اِس ڈرامے نے Game of throne سے زیادہ ریٹنگ لی اور پاکستان بھر میں بلکہ پوری دنیا میں پوری توجہ سے دیکھا گیا۔ برسوں بعد اس ملک کے روڈ کسی ڈرامے کی آخری قسط کی وجہ سے سنسان ہوئے۔ لوگوں نے اپنے کاروبار بند کیے، میٹنگز منسوخ ہوئیں گھومنے پھرنے کے پروگرامز کینسل ہوئے، اُس لیے میں کھلے دل سے خلیل الرحمان قمر کو اِس کامیابی پر مبارک باد دیتا ہوں بے شک اُس نے اپنی تحریر سے انسانوں کے دل تسخیر کیے۔

اس لیے میرے ادیب دوستو، آئیں ہم آگے بڑھ کر انھیں مبارک باد دیں کیونکہ بہت برسوں بعد ہم کٹی لاشوں، اجڑے دیاروں اور بم دھماکوں سے برباد شہروں کی ہیڈ لائنز دیکھنے کے بجائے ہم نے ایسا ڈرامہ دیکھا جس نے یہ احساس دلوایا کہ ابھی ہمارے دل کسی کا درد محسوس کر سکتے ہیں۔ ابھی ہماری آنکھیں کسی اور کی تکلیف دیکھ کر آنسو بہا سکتی ہیں۔ دانش مر چکا مگر ابھی ہم زندہ ہیں۔

سو سو لاشے اٹھانے پر، مہنگائی بھوک افلاس اور مادہ پرستی سے پتھر ہوئے دل، پھر سے دھڑکانے، بے نور اور طوطا چشم آنکھوں کو پھر سے محبتوں کے آنسو لوٹانے پر اے خیل الرحمان قمر تمہیں بہت بہت مبارک ہو۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *