اور اگر عورت کو شادی کے بعد کسی سے محبت ہو جائے تو؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کیا یہ ایسا سوال ہے جس پہ سوچا نہیں جا سکتا؟ یا ایسا معاملہ ہے جو ہمیں اپنے ارد گرد درپیش دکھائی نہیں دیتا؟ کیا ہم میں سے کسی عورت کے ساتھ یہ حادثہ پیش نہیں آ سکتا؟ یا ایسا ہم میں سے کسی کے ساتھ کبھی ہوا نہیں؟ کیا گارنٹی ہے کہ نکاح یا شادی سے عورت کے قلب و نظر پہ ایسے قفل پڑ جاتے ہیں کہ ایسا ہو نا ممکن نہیں رہتا؟

ہم ایسے سوالوں سے نظریں کیوں چراتے پھرتے ہیں؟ ہمیں شادی شدہ عورت سے متعلق ایسی باتیں اخلاق سے گری ہوئی کیوں محسوس ہوتی ہیں؟ اور یہ معیار کون قائم کرتا ہے؟ مرد قائم کرتا ہے یا خود عورت؟ اور اگر اس کا جواب ’دین‘ ہے تو کیا ہم دین کے مطابق زندگیاں گزار رہے ہیں جو اس ایک معاملے میں دین کی پاسداری کریں گے؟ اور سوچئے اگر یہ معاملہ کسی بے دین کے ساتھ پیش آ جائے تو؟ تو حکم کون جاری کرے گا؟ عورت ایک بار کسی سے شادی کر لے تو پھر موت تک اسے اسی مرد سے کیوں محبت کرتے رہنا ہے؟ اسے وفاداری سے کیوں نبھاتے رہنا ہے خواہ اس کا شوہر اس کی وفا کا حقدار ہو ہی نا؟

کیا عورت اپنی ازدواجی زندگی میں کسی کمی کے باعث کسی دوسری طرف مائل نہیں ہو سکتی؟ کیا کبھی تلخیاں سہتے سہتے کوئی ہلکا سا تازہ دم جھونکا دل میں کسی سہمے ہوئے ارمان کو جلا نہیں بخش سکتا؟ کیا ہمارے معاشرے کا کھلا میل ملاپ اور سوشل انٹریکشن صرف مرد کو ہی کسی اور طرف مائل کر سکتا ہے، عورت کو نہیں؟ کوئی کمزور لمحہ کیا عورت پہ نہیں آ سکتا؟ کیا جذبا ت سے مغلوب ہونے کی سرشت صرف مرد میں ہے؟ ایسا بھی تو ہو سکتا ہے نا کہ عورت بھی مرد کی طرح کسی مقام پہ یوں سوچنے لگے کہ اسے تو اپنا من چاہا میت اب ملا ہے؟ اگر ایسا کچھ بھی کسی عورت کی زندگی میں ہو جائے تو پھر وہ کیا کرے؟

کیا ان سب سوالوں کے جواب میں کچھ نئے سوال کھڑ ے نہیں ہوتے؟ ان جوابوں میں ایک بڑا سوال یہ نہیں کہ کیا کبھی عورت اپنی خواہشوں کو بے مہار چھوڑنے کی آزادی محسوس کر سکتی ہے؟ کیا عورت فطری طور پہ خود کو پابند محسوس نہیں کرتی ان اصولوں کا جو مہذب معاشرہ اس پہ عائد کرتا ہے؟ مہذب معاشرہ؟ کون سا مہذب معاشرہ؟ کیا یہ پابندیاں صرف اسلامی معاشرے میں عائد ہوتی ہیں عورت پر؟ کیا دیگر معاشرے ان اصولوں کے پابند نہیں؟ کیا مغربی عورت شادی کے بندھن میں رہتے ہوئے کسی دو سرے مرد کے ساتھ علی الاعلان محبت کرنے کے لئے آزاد ہے؟ غور سے دیکھیں تو کیا یہ معاملہ مذہب اور روایات سے آگے بڑھ کر عورت کی ’فطرت‘ سے راہنمائی لیتا دکھائی نہیں دیتا؟

کیوں اسے سمجھنے سے صرف نظر کیا جائے کہ عورت ان سوالوں کے بین بین کیسی شان سے چلتی چلی جا رہی ہے صدیوں سے؟ کیا یہ عورت کی عظمت کی دلیل نہیں؟ تو پھر اس بات سے بھی صرف نظر کیوں کہ عورت اپنی شادی شدہ زندگی میں رہتے ہوئے لاکھ ایسی ذہنی الجھنوں سے گزرے، کوئی قدم اٹھانے سے قاصر کیوں رہتی ہے؟ بندھن کی حرمت کو قائم کیوں رکھتی ہے؟ کیا فیمینزم کے نام پہ شور مچانے والی خواتین خود بھی انھیں اصولوں کو نبھاتی نہیں چلی آ رہیں؟

تو پھر اب وہ کیا چاہ رہی ہیں؟ کیا وہ نفسیاتی طور پہ صحتمند معاشرے کی بقا کے قاعدے کو آگے منتقل نہیں کرنا چاہتیں؟ انھیں اچانک ایسا کیوں لگنے لگا ہے کہ جن اصولوں کی پاسداری کر کے انھوں نے خود کو نفسیاتی، روحانی اور معاشرتی بحرانوں سے بچائے رکھا، ان کی بیٹیوں کو یہ اصول سیکھنے کی ضرورت نہیں؟ آج کی عورت خود اپنی بیٹی کو بغیر تربیت کے میدان جنگ میں کیوں اتار رہی ہے؟ کیا ان اصولوں سے نا بلد عورت اپنی شخصیت توڑنے کے ساتھ ساتھ معاشرہ تباہ نہ کر ڈالے گی؟ کردار کی جو قوت عورت کے سر پہ تاج کی صورت سجائی گئی، اسے خود اپنے جذبات کے پیروں تلے روند کر عورت ملکہ سے فقیر نہ ہو جائے گی؟ فطرت کے خلاف جانا بھی کبھی قدرت نے قبول کیا ہے؟

کیا عورت کے بطن سے نکلے رشتوں کی ڈوریں، جسم سے بندھی نال سے زیادہ مضبوط نہیں؟ کیا عورت ان ڈوروں کو کاٹ کر جی سکتی ہے؟ کوشش بھی کرے تو کیا یہ ڈوریں اسے اپنی طرف کھینچ کھینچ کر اسے پھندہ نہیں لگا دیتیں؟ کیا وہ جیتے جی مر نہیں جاتی؟ تو پھر کیا بے وقت اور بے محل سر اٹھانے والی محبت کو سینے میں ہی دفن کر دینا اس کا واحد حل نہیں؟ اس سے کہیں زیادہ سہل نہیں کہ عورت درد بھی سہے اور گالی بھی کھائے؟ کیا خود غرضانہ خوشی، خوشی رہتی بھی ہے؟

یا ایسی خوشی اپنے ہی آنگن کی مٹی کو تھور زدہ نہیں کر ڈالتی؟ کیا آج عورت کی یہ سمجھنے کی صلاحیت کمزور پڑتی جا رہی ہے کہ اس کے غلط فیصلے سے ہونے والے اجتماعی نقصان کی قیمت اس کی انفرادی خوشی کی حیثیت سے کہیں زیادہ ہے؟ کیا یہ سودا مہنگا نہیں؟ یا یہ دنیا نفع اور نقصان کے اصولوں کے تابع نہیں؟ محبتوں اور رشتوں میں بھی کیا یہی اصول کار فرما نہیں ہوتے؟

کیا آج کی تعلیم یافتہ عورت نہیں جانتی کہ اس کے پاس راستہ بدلنے کا اختیار بھی ہے؟ کیا وہ طریقہ کار واضح نہیں؟ تو پھر جھگڑا کیسا؟ بحث کس بات کی؟ اگر ایک بندھن میں ہوتے ہوئے اپنا من چاہا راستہ چننا عورت کے لئے اتنا آسان ہوتا تو وہ سہولت سے چن نہ لیتی؟ خوشیاں مناتی نہ پھرتی؟ کیا عورت ایسا کر سکی؟ نہیں نا؟ کیا کبھی گھر چھوڑ کے جانے والیاں معتبر ہوئیں؟ نہیں ہویئں نا؟ روتا چھوڑ کر جانے والیوں کو ان کی اولاد نے عمر بھر معاف کیا؟

نہیں کیا نا؟ جس کے لئے اپنا بسا بسایا گھر چھوڑا اس نے بھی موقع ملتے ہی منہ پر تھوک نہیں دیا کیا؟ تو پھر کیا بار بار ایسے تجربوں کی ضرورت ہے؟ تو کیا بار بار اس بحث سے کچھ حاصل ہے؟ آج کی عورت کے لئے اس کو فطرت کا اصول سمجھ لینا محال کیوں؟ کیا کبھی آگ اپنی فطرت سے مکری؟ بہتا پانی کبھی اپنے راستوں سے پلٹا؟ تو پھر عورت کو اپنی فطرت کو مان لینے میں عار کیسی؟

اسے نا ممکن کیوں سمجھا جائے کہ شادی شدہ عورت محبت کے امتحان میں نہیں پڑ سکتی؟ البتہ ایسا مسئلہ درپیش آ جائے تو کیا عورت بہت آسانی سے اس مسئلہ کو حل کرنے کی فطری صلاحیت نہیں رکھتی؟ اپنی خواہش کی قربانی دے کر خود سے وابستہ لوگوں کو ٹوٹنے سے بچا نہیں لیتی؟ کیا یہ زمانہ کبھی سمجھ پایا کہ عورت اپنی خواہش اور طلب کس طرح خاموشی سے پی جاتی ہے؟ ایسی محبتوں کے درد کا آنسو تک کبھی کسی کو اس کی آنکھ سے بہتا دکھائی دیا؟ کیا یہ ایک عورت کی طاقت اور عظمت نہیں؟ ہاں البتہ یہ ضرور سوچئے کہ ان قربانیوں کی نفی یا تردید کی جائے تو ایسی عورت کراہتی کیوں ہے؟ یہ تجربے کوئی سہل ہیں؟ کیا یہ مرحلے آسان ہیں؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *