والدین اور اساتذہ کی ذمہ داریاں (خط نمبر 14 )

مقدس مجید صاحبہ!

میری نگاہ میں ایک انسانی بچہ پیدا کرنا اور اس کی صحیح تربیت کرنا دنیا کا مشکل ترین کام ہے۔ امریکہ کے صدر بننے سے بھی زیادہ مشکل کیونکہ صدارت سے تو آپ چار یا آٹھ سال کے بعد فارغ ہو جاتے ہیں لیکن بچے کی ذمہ داری اور تعلق ساری عمر رہتا ہے۔

میں آپ سے متفق ہوں کہ وہ مرد اور عورتیں جن کے کندھے یہ بھاری بوجھ نہیں اٹھا سکتے انہیں یہ ذمہ داری نہیں اٹھانی چاہیے۔

میری نگاہ میں وہ والدین جو ذمہ دار والدین ہوتے ہیں وہ
اپنے بچوں کی خفیہ صلاحیتوں کو پہچانتے ہیں
ان صلاحیتوں کی پرورش کرتے ہیں
اور
اپنے بچوں کو ذمہ دار شہری بننے میں مدد کرتے ہیں
انہیں عاقل و بالغ انسان بناتے ہیں

اور عاقل و بالغ انسان ایک آزاد و خود مختار انسان ہوتا ہے۔ وہ خود سوچتا ہے اور اپنی زندگی کے بارے میں فیصلے کرتا ہے۔ ایسے والدین اپنے بچوں کے سوالوں کا خیر مقدم کرتے ہیں اور ان کے ساتھ ایک صحتمندانہ مکالمہ کرتے ہیں۔

اس کے مقابلے میں غیر ذمہ دار والدین بچے کو ہمیشہ بچہ رکھتے ہیں اور اس سے تابعداری اور فرمانبرداری کی توقع رکھتے ہیں۔ وہ بچوں کی اپنی آزادانہ سوچ کو پنپنے نہیں دیتے۔ بچوں کے سوالوں کو بے ادبی اور گستاخی قرار دیتے ہیں۔

ان رشتوں میں والدین اور بچوں کا رشتہ مرتے دم تک PARENT۔ CHILDرشتہ ہی رہتا ہے وہ کبھی ADULT۔ ADULT رشتہ نہیں بن پاتا۔

یہی حال غیر ذمہ دار اساتذہ کا ہے۔ وہ بھی سکول کالج اور یونیورسٹی میں شاگردوں کے سوالوں کا خیر مقدم نہیں کرتے۔

ایسے طالب علم جب مغربی یونیورسٹیوں میں داخلے کے لیے درخواست بھیجتے ہیں اور اس کے ساتھ اپنے پروفیسرز کا ریفرنس لیٹر بھیجتے ہیں تو اس خط میں تعریف کے طور پر لکھا ہوتا ہے

HE IS THE MOST OBEDIENT STUDENT

ایسے اساتذہ نہیں جانتے کہ مغربی دنیا میں ایسے طلبا و طالبات کو داخلہ نہیں ملتا کیونکہ مغرب کے اساتذہ تابع فرمان شاگردوں کی بجائے ایسے شاگرد تلاش کرتے ہیں جو اپنی جداگانہ اور آزادانہ سوچ رکھتے ہوں تا کہ وہ نئے مضامین اور موضوعات پر نئی تحقیق کر سکیں اور سائنس طب اور نفسیات کی دنیا میں نئے آسمان تلاش کر سکیں۔

مسلمانوں کی دنیا میں یہ تابعداری و تابع فرمانی اور اندھے ایمان کا ہی نتیجہ ہے کہ پچھلے ایک ہزار سال سے مسلمانوں نے سائنس اور نفسیات میں ترقی کرنی چھوڑ دی ہے۔

مقدس مجید صاحبہ!

میری نگاہ میں کسی بھی ملک اور قوم کے لیے ناگزیر ہے کہ اس میں ایسے والدین اور اساتذہ ہوں جو بچوں اور نوجوانوں کے ساتھ صحتمند مکالمہ کریں ان کے سوالوں کا جواب اور ان کے مسائل کا مل کر حل تلاش کریں۔ اس مکالمے سے بچے والدین سے اور اساتذہ بچوں سے سیکھیں گے۔ سیکھنے کا عمل دو طرفہ ہوتا ہے۔ جیسے میں آپ سے سیکھ رہا ہوں اور آپ مجھ سے سیکھ نہیں رہی ہیں یہی ایک صحتمند مکالمے کا کمال ہے۔

مقدس مجید صاحبہ!

غیر ذمہ دار والدین اور اساتذہ برسوں اور دہائیوں بعد اپنی اگلی نسل کے سامنے نادم اور شرمندہ ہوتے ہیں۔

میں نے جب ساری دنیا کے تخلیقی بچوں کی سوانح عمریاں پڑھیں تو مجھے اندازہ ہوا کہ دنیا میں نجانے کتنے ادیب شاعر اور دانشور تھے جن کے روایتی اساتذہ نے ان بچوں کی خفیہ صلاحیتوں کو نہ پہچانا اور والدین سے کہا کہ آپ کے بچے سست اور ناکام ہیں اور زندگی میں کبھی کامیاب نہیں ہوں گے ایسے اساتذہ میں چارلز ڈارون ’البرٹ آئن سٹائن‘ کرشنا مورتی اور والٹ وٹمین کے اساتذہ بھی شامل ہیں جنہیں بعد میں ندامت کا سامنا کرنا پڑا۔

مقدس مجید صاحبہ!

میرا خیال ہے کہ شادی کرنا بچے پیدا کرنا اور ان کی صحیح تربیت کرنا اتنے اہم کام ہیں کہ ہمیں ان کے لیے سکولوں کالجوں اور یونیورسٹیوں میں خاص کورسز اور سیمینارز کا اہتمام و انتظام کرنا چاہیے۔

دنیا میں ہر کام کی ٹریننگ دی جاتی ہے۔ اس ٹریننگ کے بغیر نہ آپ ٹیچر بن سکتے ہیں نہ ڈاکٹر نہ LAWYER لیکن والدین بننا ایک ایسا کام ہے جو بغیر ٹریننگ اور تربیت کے کیا جاتا ہے۔

شاید یہی وجہ ہے کہ دنیا میں نجانے کتنی شادیاں ناکام رہتی ہیں اور جلد ہی جدائی اور طلاق کی نوبت آ جاتی ہے۔

آپ یہ بتائیں کہ پاکستان میں طلاق کے بارے میں لوگوں کے کیا رویے ہیں اور ان کے بچوں اور خاندانوں پر کیا نتائج مرتب ہوتے ہیں؟

آپ کا ادبی دوست
خالد سہیل
یکم جون 2021

Comments - User is solely responsible for his/her words