مرد کو کیسا ہونا چاہیے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

انسان فطری طور پر ایک مزاج پر ہی پیدا ہوتا ہے۔ اس کو رونا آتا ہے۔ اُس کو بھوک لگتی ہے۔ اُس کو ٹھنڈ کا احساس ہوتا ہے۔ اُسے گرمی محسوس ہوتی ہے۔ اُس کے اندر درد محسوس کرنے کی حس موجود ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ خوشی، غم، محبت اور نفرت کے احساسات بھی ہوتے ہیں۔ اُس کے اندر یہ جسمانی اور ذہنی احساسات فطرتی طور پر موجود ہوتے ہیں۔

ان تمام احساسات کو بہت سے عناصر کی مدد سے زیادہ، کم حتیٰ کہ بظاہر ختم بھی کیا جا سکتا ہے۔ ان عناصر میں معاشرہ ایک اہم عُنصر ہے۔ معاشرہ ہمارے اردگرد کی ایک اجتماعی سوچ کا نام ہے۔ اس کے علاوہ معاشرے سے پیدا ہونے والے بہت سے اہم عناصر میں سے ہمارا اپنا مثبت یا منفی رویہ ہے، جو ان احساسات پر اثرانداز ہوتا ہے۔

کسی بھی احساس کواپنے شعور تک لانے کے لئے اُس احساس سے گزرنا بہت ضروری ہے۔ اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ کیا آپ احساس کے موازنہ کرنے کا شعور رکھتے ہیں یا نہیں۔ کیونکہ یہ فطرت کا قانون ہے کہ کوئی بھی چیز کامل نہیں ہو سکتی۔ ہر چیز کو تقابلی طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔

کسی بھی معاشرے میں ایک جیسے احساسات کے ساتھ پیدا ہونے والوں کی صنف کی بنیاد پر مختلف رویوں سے پرورش کرنا درست نہیں ہے۔ اور صنف کی بنیاد پر احساسات کی تفریق بھی درست عمل نہیں۔

یہاں میری مراد مرد کی سوچ کی پرورش کے لئے بنائے گئے غیر فطری اصول ہیں۔ جس کی روح سے وہ معاشرے کی عمارت کا ایک سخت ستون ہے۔ اور اس میں پتھر والی خصوصیات ہونا لازم ہیں۔ اس کے مزاج میں سختی ہونا ضروری ہے۔ اس کے ساتھ تعلق بنانے والے کو سختی کا سامنا کرنے کے لئے تیار رہنا چاہیے۔ اس کا کام صرف سہارا دینا ہے یا کچل دینا ہے۔ اگر اُس نے یہ سختی نہ رکھی تو معاشرے کی عمارت زمین بوس ہو جائے گی۔ لحاظ اُسے اس خود ساختہ معاشرے کی عمارت کو بچانے کے لئے معاشرے کے بنائے گئے غیر فطری اصول پر کاربند رہنا ہے۔ اور معاشرے کی مضبوطی کے لئے نئے ستون کی تیاری کا کام بھی جاری رکھنا ہے۔ ان سب میں وہ اپنے حقیقی احساسات کو بھول جاتا ہے۔

لیکن حقیقی معاشرہ ایک صحرا کی مانند ہوتا ہے۔ جس کے ہر ذرے کی تاثیر ایک جیسی ہوتی ہے۔ اگر ہم فطرطتی بنیاد پر مرد کی پرورش کرے اُسے خوشی میں ہنسسنا، غم میں رونا، محبت میں اظہار کا کرنا، اختلاف میں برداشت کرنا اور دلیل دینا سکھایا جائے، تو یہ سوچ معاشرے میں مثبت تبدیلی لا سکتی ہے۔ اور معاشرے میں موجود بہت سی تناؤ کی صورتحال کو ختم کیاجا سکتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *