پولیس دور حاضر کا وہ سرکاری یتیم ہے جس کا والی وارث کوئی نہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کیڈٹ کالج میں یوں تو ہم نے بڑے شوق سے داخلہ لیا تھا اور ہزاروں درخواست گزاروں کو پیچھے چھوڑتے ہوئے ایڈمیشن ہونے پر اپنی ہی خوشی تھی، لیکن یہ خوشی چند دن میں ہی رفو چکر ہو گئی کیوں کہ کالج میں زندگی وہ نہیں تھی جو کالج کی داخلہ گائیڈ یعنی پراسپیکٹس میں دکھائی گئی تھی، ہمیں بھی کالج کی پراسپیکٹس میں وہی کچھ دکھایا گیا تھا جو آج کل عہد وفا میں پی ایم اے کے بارے میں دکھایا جاتا ہے۔

کیڈٹ کالج میں سب سے زیادہ اکتا اور تھکا دینے والی چیز صبح کی پریڈ تھی، فجر کی نماز کے آدھا گھنٹہ بعد کالج کر مرکزی پریڈ گراؤنڈ میں حوالدار حمیم خان پورے زور سے گلے میں لٹکی وصل بجاتے اور ساتھ ہی سٹاف غلام محمد کی کڑک دار ”دوڑے چل“ کی آواز آتی، اور پھر پورے کالج میں ہوسٹلز سے بھاگتے ہوئے کیڈٹس کی ایڑیوں کی موسیقی گونجتی اور چند سیکنڈز میں پورا کالج مرکزی پریڈ گراؤنڈ میں جمع ہو جاتا، کاؤنٹ ڈاؤن شروع ہوتا اور سٹاپ کی آواز کے ساتھ ہی لیٹ آنے والے جوان الگ لائن بنا کر اپنے انجام کے بارے میں سوچنا شروع کر دیتے،

یہ روزانہ کا معمول تھا، لیکن ڈیلی پریڈ صرف ایڑیوں کی آواز یا لیفٹ رائٹ لیفٹ ہی نہیں تھی بلکہ یہ نظم و ضبط کی ایک مکمل مشق ہوتی تھی، سب سے پہلے کیڈٹس اپنی اپنی کلاس کے حساب سے فال ان ہوتے، کلاس کمانڈرز گنتی کر کے سٹاف کو رپورٹ کرتے غیر حاضر کیڈٹس کی غیر حاضری کی وجوہات بتائی جاتیں اور پھر معمول کی کارروائی شروع ہوتی، سٹاف ہر لائن میں جا کے ایک ایک کیڈٹ کی ڈریس انسپکشن کرتے، بوٹ کی پالش سے لے کر سر پر پہنی ہوئی ٹوپی پر لگا بیچ چیک ہوتا، شرٹ کی سلوٹیں، پینٹ کی سیٹنگ اور ٹوپی کا ترچھا پن تک، ایک ایک چیز پر غور کیا جاتا اور اس کے بعد باقاعدہ پریڈ شروع کی جاتی۔

یہ کام دن میں تین دفعہ ہوتا، صبح پریڈ کے وقت، ناشتے کے بعد پڑھنے کے لئے اکیڈمک بلاک جاتے ہوئے اور شام کو سپورٹس کے لئے جاتے ہوئے بھی سپورٹس کٹ اور جوگرز چیک ہوتے، یہ الگ بات ہے کہ دوپہر اور رات کے کھانے میں بھی یہ معمول دہرایا جاتا جن کے لئے الگ الگ ڈریس کوڈ تھا کبھی ٹائی اور کبھی ویسٹ کوٹ ٹھیک نہ ہونے پر میس میں داخلہ بند ہو جاتا اور پھر کینٹین کے پاپڑوں پر گزارا کرنا پڑتا،

ہم اس معمول کے عادی تھے لیکن انسان تھے کبھی کبھی اکتا جاتے کیوں کہ پریڈ، پی ٹی، ناشتہ، دویہر کا کھانا، کھیل کے میدان اور رات کے کھانے کے لئے الگ الگ ڈریس کوڈ تھے جس پر سختی سے عمل درآمد کیا جاتا تھا اور نہ کرنے کی صورت میں گھر کا منہ دیکھنا نصیب نہ ہوتا تھا، یعنی ویک اینڈ بند۔

ہم جب بھی اپنی اکتاہٹ کا ذکر کرتے ہوئے کہتے کہ یہ فوج میں پریڈ کا کیا کام ہے تو ایک ہی جواب ملتا ”ڈسپلن“

” صاحبان زندگی نظم و ضبط سے بنتی ہے، ڈسپلن زندگی میں نکھار لاتا ہے آپ کی شخصیت سنوارتا ہے اور آپ کو معاشرے میں سر اٹھا کر چلنے کے قابل بناتا ہے“ سٹاف حمیم ہمیں ہمیشہ ایک ہی جواب دیتے

”آپ کو آنے والی زندگی میں اس کی اہمیت پتہ لگے گی“ وہ اپنی بات مکمل کرتے اور ہم منہ اٹھا کر ہوسٹل کی طرف چال پڑتے۔

جب تک وہاں رہے اس نظام کو کوستے رہے کہ ہم تو پڑھنے تشریف لائے تھے یہ پریڈ اور ڈریس انسپکشن جیسی لغویات کا ڈسپلن سے کیا تعلق، لیکن جیسے جیسے زندگی گزرتی گئی سٹاف حمیم کی ایک ایک بات سچ لگنے لگ گئی۔

لاہور میں جب بھی کوئی میچ ہوتا ہے مجھے سٹاف حمیم کی پریڈ اور ڈسپلن والی بات شدت سے یاد آتی ہے، آپ سب لوگ اسٹیڈیم میچ دیکھنے جاتے ہیں لیکن میں روڈ پر جاتا ہوا سیکورٹی پر تعینات پولیس اور فوجی جوانوں کو دیکھتا ہوں، میچ ہی لاہور میں وہ واحد موقع ہوتا ہے جب رینجرز اور پولیس کے جوان اکٹھے روٹ پر تعینات ہوتے ہیں اور ان کی معاونت کے لئے آرمی اور ملٹری پولیس کے جوان تعینات ہوتے ہیں۔

اگر آپ کو موقع ملے تو آپ غور کیجئے گا آپ بھی میرے مشاہدے سے اتفاق کریں گے، رینجر اور پولیس کا جوان گو کہ ایک ہی ڈیوٹی کر رہا ہوتا ہے لیکن ان کی وردی کا رنگ ہی نہیں سب کچھ ہی مختلف ہوتا ہے۔

ایک طرف رینجر کا جوان ہوتا ہے جس کو بہترین گاڑی ڈیوٹی کے مقام پر چھوڑ کر جاتی ہے جبکہ اس کے ساتھ والا پولیس والا بیچارہ کہیں سے بائیک پر لیفٹ لے کر وہاں آتا ہے۔

رینجر یا ملٹری پولیس کے جوان کی وردی بہترین استری ہوئی ہوتی ہے، بوٹ چمک رہے بوتے ہیں اور بہترین شیو بنی ہوتی ہے جبکہ میری پنجاب پولیس کا جوان دھول مٹی میں اٹا ہوتا ہے اور شکل سے ہی لگتا ہے وہ ڈیوٹی نہیں کسی عذاب پر جا رہا ہے۔

ایک طرف رینجر کا جوان خوش دلی سے چاک و چوبند ہو کر رائفل پکڑ کر روڈ پر کھڑا ہوتا ہے دوسری جانب میرے پولیس کے جوان گلے میں رائفل لٹکائے بے دلی سے ادھر ادھر دیکھ رہے ہوتے ہیں کہ کب ڈیوٹی ختم ہو کب جان چھوٹے۔

رینجر یا فوج کے کیپٹن میجر رینک کے افسران لمحہ با لمحہ گاڑیوں سے اتر کر جوانوں پاس آتے ہیں جبکہ ہماری پی ایس پی کلاس کالا چشمہ لگائے گاڑیوں میں بیٹھ کر ہی حکم چلانے پر اکتفا کرتے ہیں۔

مجھے ڈیوٹی پر مامور پولیس اور فوج کے جوانوں میں کسی گورنمنٹ سکول اور مہنگے پرائیویٹ سکول کے بچوں جیسا فرق نظر آتا ہے۔

ایک طرف فوجی جوان بہترین گاڑیوں پر آتے ہیں بہترین صاف اسلحہ سے لیس ہوتے ہے ایک گاڑی ہمہ وقت ٹھنڈا پانی اور کھانا پہنچاتی ہے، ڈیوٹی کے اوقات کا پتہ ہوتا ہے اور وقت ختم ہوتے ہی وہاں دوسرا جوان آجاتا ہے اور سربراہ وقفے وقفے سے چکر لگا کر حالات معلوم کرتا ہے۔

جبکہ دوسری طرف پولیس ساتھ شاہدرہ کے کسی پسماندہ سرکاری سکول والا حال ہوتا ہے، ڈھنگ کی گاڑی نہ اسلحہ، بددلی سے ہوتی ڈیوٹی اور اس کے اوقات بھی نہ معلوم، کھانے کے لئے بریانی کے ڈبے کا انتظار اور پینے کا پانی اپنی ہمت سے لانا ہے لیکن اس کے باوجود سربراہوں کی جانب سے صرف ڈانٹ اور گالیاں۔

پولیس کو دیکھ کر کہیں سے نہیں لگتا کہ پولیس کی بھی پریڈ ہوتی ہے، مان لیا فنڈز کی کمی ہے کیا تربیت اور ڈسپلن کے لئے بھی فنڈز درکار ہیں، کیا اچھا کھانا اچھا یونیفارم بھی لمبا چوڑا بجٹ مانگتا ہے؟

حقیقت میں مجھے لگتا ہے کہ ہمارے حکمران اور پی ایس پی کلاس صرف یس سر نو سر والے روبوٹ تھانوں میں تعینات کر رہے ہیں جن بیچاروں کی اپنی کوئی زندگی ہی نہیں، آپ کسی بھی تھانے میں چلے جائیں آپ کے چودہ طبق روشن ہو جائیں گے، پولیس والوں کے دفتروں میں ہی چار پائیاں لگی ہوئی ہہیں کسی نے بیڈ رکھا ہوا ہے اور کسی نے تفتیشی کے کمرے میں ہی کپڑے لٹکائے ہیں۔

تھانے اور پولیس والوں کے حلئے سے کہیں نہیں لگتا یہ بیلٹ فورس ہے اور کبھی ان کی پریڈ بھی ہوتی تھی، مجھے لگتا ہے پولیس میں شخصیت کی بہتری کا سرے سے کوئی نظام ہی نہیں ہے۔ نہیں یقین تو پی ایم اے تو بہت دور کبھی پولیس ٹریننگ کالج سہالہ کے انڈر ٹریننگ افسر اور فوج کے کسی ادارے کے زیر تربیت ایک سپاہی کو دیکھ لیں آپ کو سمجھ آ جائے گی ادارہ کیا ہوتا ہے اور غفلت کس بلا کا نام ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ حکمران اور پی ایس پی کلاس شاید عام پولیس والے کی حالت بدلنے کو تیار ہی نہیں اور ایک نچلے رینک کے پولیس والے نے بھی یہ سب قسمت سمجھ کر قبول کر لیا ہے۔

اب شاید نچلے درجے کے پولیس ملازمین نے بھی حالات سے سمجھوتہ کر لیا ہے اور وہ اس کے خلاف آواز اٹھانے کو تیار ہی نہیں ہیں۔

پولیس اب دور حاضر کا وہ سرکاری یتیم ہے جس کا شاید والی وارث کوئی نہیں ہے پی ایس پی کلاس کو من چاہی پوسٹنگ چاہیے اور اس کے لئے وہ کچھ بھی کر سکتے جبکہ نچلے بیچارے پس پس کر صرف وقت گزاری کر رہے ہیں اور ایسے میں پولیس سے کسی بھی قسم کی اچھی کارکردگی کی امید رکھنا دیوانے کے خواب سے زیادہ نہیں ہے

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
توقیر احمد گجر کی دیگر تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *