پاکستان میں بیٹھے لوگ انٹرنیٹ کے ذریعے بیرون ممالک سے پیسے کس طرح کماتے ہیں؟

عمیر سلیمی - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایمن سروش، پاکستانی فری لانسرز

پاکستان میں نوجوانوں کے لیے نوکریوں کی کمی کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے۔ ایسے میں کئی لوگ انٹرنیٹ کی مدد سے ذریعۂ معاش کے متبادل راستے اپنا رہے ہیں۔

ایمن سروش ان لوگوں میں سے ہیں جو انٹرنیٹ کے ذریعے گھر بیٹھے ہزاروں ڈالرز ماہانہ کماتے ہیں۔ وہ ’وقت اور جگہ کی قید سے آزاد ہیں‘ اور خود اپنی مرضی سے اپنے کام کا تعین کرتی ہیں۔

انھوں نے 10 سال قبل اپنی نوکری چھوڑ کر آن لائن پیسے کمانا شروع کر دیے تھے۔ لیکن یہ کیسے ممکن ہے؟

ایمن ایک فری لانسر ہیں، یعنی وہ پاکستان میں رہتے ہوئے دنیا کے کسی بھی کونے میں موجود اپنے کلائنٹ کے لیے کام کر سکتی ہیں اور اس کے لیے انھیں کسی دفتر میں جانے کی ضرورت نہیں ہے۔ انھیں گھنٹوں کے حساب سے پیسے ملتے ہیں اور وہ بھی امریکی ڈالرز میں۔

ٹیکنالوجی کی زبان میں فری لانسنگ سے مراد انٹرنیٹ پر کسی بھی ملک میں موجود ایک فرد یا کمپنی کے لیے کام کے عوض پیسے وصول کرنا ہے۔

پاکستان میں لوگ انٹرنیٹ کے ذریعے پیسے کئی طریقوں سے کما سکتے ہیں۔ اس حوالے سے ایک طریقہ ای کامرس یعنی آن لائن کاروبار ہے جبکہ دوسرا طریقہ کونٹینٹ یعنی ایسا مواد لکھنا، تصاویر یا ویڈیوز بنانا جو لوگوں میں مقبولیت حاصل کر سکے۔

اسی طرح فری لانسنگ ایک تیسرا ذریعہ ہے جو پاکستان کے نوجوانوں میں تیزی سے پذیرائی حاصل کر رہا ہے۔ ایمن کے مطابق: ’ایک اچھا انٹرنیٹ اور لیپ ٹام موجود ہو تو آپ کہیں سے بھی فری لانسنگ کر سکتے ہیں۔‘

آمنہ کمال پاکستان کے فری لانسنرز کی ترتیب کرنے والے ایک حکومتی ادارے ڈیجی سکلز سے منسلک ہیں۔ وہاں وہ ہر عمر کے لوگوں کو اس حوالے سے تربیت دیتی ہیں۔

وہ بتاتی ہیں کہ: ’ایک زمانے میں کام کرنے کا طریقہ مختلف ہوتا تھا۔ پہلے پڑھائی کے بعد لوگ نوکریاں تلاش کرتے تھے۔

’اب یہ بدلتا جا رہا ہے اور لوگوں کو جسمانی طور پر کسی دفتر میں موجود ہونے کی ضرورت نہیں بلکہ وہ ورچوئلی (یعنی عدم موجودگی میں کمپیوٹر کے ذریعے) کام کر سکتے ہیں۔

پاکستان میں فری لانسنگ کی مارکیٹ کتنی بڑی ہے؟

2018 کی ایک رپورٹ میں ورلڈ بینک اور فری لانسنگ کی ویب سائٹس کے ڈیٹا کا حوالہ دیتے ہوئے یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ پاکستان میں 60 ہزار سے زیادہ فری لانسرز موجود ہیں۔ تاہم یہ محظ ایک محتاط اندازا ہے۔

اس کے بعد 2019 کی ایک رپورٹ میں پاکستان کی فری لانسنگ مارکیٹ کا جائزہ لیا گیا تھا۔ ’دی گلوبل گِگ اکنامی انڈیکس‘ کے نتائج کے مطابق پاکستان میں فری لانسنگ کی آمدنی میں 2018 کے مقابلے 42 فیصد اضافہ دیکھا گیا تھا۔

اس صنعت میں نمایاں ترقی کی بدولت دنیا کے 10 بڑے ممالک میں پاکستان چوتھے نمبر پر آیا تھا۔ اس فہرست میں امریکہ پہلے نمبر پر تھا جبکہ انڈیا ساتویں اور بنگلہ دیش آٹھویں نمبر پر تھا۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان میں فری لانسنرز میں اضافے کی وجہ نوجوانوں کی بڑی تعداد ہے۔

’پاکستان میں 70 فیصد آبادی 30 سال سے کم عمر کی ہے۔ تکنیکی اعتبار سے تعلیم کے فروغ نے پاکستان کے نوجوانوں کو گِگ اکانمی میں حصہ لینے میں مدد کی ہے۔‘

آن لائن ادائیگیوں کی سروس پیونیئر سے منسلک محسن مظفر کے مطابق پاکستان میں انٹرنیٹ کی رسائی اور فور جی کی مدد سے اب پاکستانی فری لانسرز دنیا بھر سے کام حاصل کر سکتے ہیں جس کی مثال پہلے نہیں ملتی۔

فری لانسنگ کی اس رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 57 فیصد سے زیادہ فری لانسرز 25 سے 34 سال کے ہیں۔

ورلڈ بینک کی دسمبر 2018 کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکہ، انڈیا، بنگلہ دیش، اور فلپائن کے ساتھ ساتھ پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جہاں فری لانسنگ کے ذریعے کام کرنے والوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔

فری لانسنگ میں کیا کیا کام کیا جا سکتا ہے؟

ویسے تو فری لانسنگ میں آپ ہر ممکن (اور جائز) کام کر سکتے ہیں۔ تاہم اس شعبے میں تجربہ رکھنے والی ایمن بتاتی ہیں کہ ’فری لانسنگ میں آپ ڈیٹا انٹری کر سکتے ہیں۔

اگر آپ کو لگتا ہے کہ آپ لکھنے میں اچھے ہیں تو کسی کی ویب سائٹ، بلاگ یا فیشن پر تحریر لکھ سکتے ہیں۔

’سپریڈ شیٹس، ایم ایس ورڈ یا آفس سے متعلق کوئی کام، بنیادی گرافک ڈیزائنگ یا سوشل میڈیا پوسٹ بنانے کا کام اس وقت فری لانسنگ میں کافی چل رہا ہے۔‘

ایمن کے مطابق اس وقت فری لانسنگ کی ڈیمانڈ جن شعبوں میں ہیں ان میں ڈیجیٹل مارکیٹنگ بھی ہے۔ ’اس میں سوشل میڈیا مارکیٹنگ اور ایفلیٹ مارکیٹنگ آ جاتی ہیں۔ ’

وہ بتاتی ہیں سافٹ ویئر اور ایپ بنانے کے کام کی پاکستان سمیت دنیا بھر میں کافی طلب ہے اور اسے پورا کرنے کے لیے نوجوان اس قسم کے ہنر سیکھ سکتے ہیں تاکہ مستقبل میں نوکریاں تلاش کرنے کے بجائے ان کے پاس ایک تبادل ذریعہ آمدن موجود ہو۔

ایمن سروش
ایمن سروش

فری لانسرز کس طرح پیسے کماتے ہیں؟

ڈیجی سکلز کی ٹرینر آمنہ کمال نے بی بی سی کو بتایا کہ: ’کمپیوٹرز کی مدد سے لوگ ایسی صلاحیتیں سیکھ سکتے ہیں جن کی بدولت اب یہ ضروری نہیں کہ وہ کسی ایک کمپنی یا ملک میں کام کریں۔‘

’ان چند سکلز (صلاحیتوں) میں گرافک ڈیزائن، ویب سائٹ بنانا، ایس ای او (سرچ انجن اوپٹیمائزیشن)، ڈیجیٹل مارکیٹنگ، سوشل میڈیا، ای کامرس اور تصانیف لکھنا شامل ہے۔‘

فری لانسر ایمن سروش بتاتی ہیں کہ اس نوعیت کے بنیادی ہنر سیکھ کر انٹرنیٹ کے ذریعے پیسے کمائے جا سکتے ہیں کیونکہ ’فری لانسنگ کے لیے کچھ ایسی ویب سائٹس موجود ہیں جہاں آپ اپنا اکاؤنٹ بنا کر کام ڈھونڈ سکتے ہیں۔‘

پاکستان میں اکثر فری لانسرز فائیور ( Fiverr) اور اپ ورک ( Upwork) سمیت ایسی کئی ویب سائٹس پر کام تلاش کرتے ہیں۔ یہاں اپنی پروفائل بنانے کے بعد لوگوں کی جانب سے فراہم کردہ ضروریات پر پورا اترنا ہوتا ہے۔

کام مکمل ہونے پر یہ ویب سائٹس کام دینے والے سے پیسے وصول کرتی ہے، اپنی کٹوتی کرتی ہے اور کام کرنے والے کو پیسے ادا کر دیتی ہے۔ لیکن بعض لوگ اعتماد بحال ہونے پر تیسرے فریق کو شامل نہ کرتے ہوئے باہمی سطح پر لین دین کر لیتے ہیں۔

فری لانسنگ میں کتنے پیسے کمائے جا سکتے ہیں؟

لوگ فری لانسنگ میں کتنے پیسے کما سکتے ہیں، اس حوالے سے ایمن نے بتایا کہ اس کا انحصار ایک شخص کی صلاحیت، ہنر مندی، کام کی نوعیت اور وقت کے دورانیے پر ہوتا ہے۔

وہ بتاتی ہیں کہ: ’جب کام کے عوض پیسے ڈالرز میں ملتے ہیں تو اس کی قدر کافی زیادہ ہوتی ہے۔‘

اس بات سے آمنہ کمال بھی اتفاق کرتی ہیں۔ ’فری لانسنگ کا ایک فائدہ یہ ہے کہ آپ روپے میں نہیں بلکہ ڈالر میں پیسے کماتے ہیں۔۔۔ جب لوگ باہر سے پیسے کماتے ہیں تو اس سے انفرادی اور ملکی فائدہ ہوتا ہے۔’

آمنہ نے بتایا کہ ملک میں نوکریوں کی کمی ہے اور انٹرنیٹ پر فری لانسنگ کے ذریعے پیسے کمانے کا طریقہ ایک متبادل کے طور پر نوجوانوں کے لیے موجود ہے۔ انھوں نے اس پہلو کی طرف بھی روشنی ڈالی کی بعض لوگوں نے فری لانسنگ کی مدد سے اپنی خود کی کمپنیاں قائم کر لی ہیں۔

ایمن کے مطابق ’مختلف ویب سائٹس پر ایک کام کے لیے چند ڈالرز سے ریٹ بڑھتا بڑھتا ہزاروں ڈالرز تک بھی جا سکتا ہے۔’

لیکن کیا انٹرنیٹ پر پیسے کمانا اتنا ہی آسان ہے؟

پاکستان سمیت کئی ممالک میں لوگ اپنی صلاحیتیں استعمال کر کے انٹرنیٹ پر پیسے کمانا چاہتے ہیں۔ لیکن یہ بہت مشکل ہے کہ کوئی شخص فوراً اس میں کامیاب ہوجائے۔

تاہم آمنہ پرامید ہیں۔ وہ بتاتی ہیں کہ: ’ہمارے کام کرنے کی صلاحیت ایک وسیلہ ہے۔ پاکستان میں ایسے باصلاحیت لوگ موجود ہیں جو یہاں بیٹھے بیٹھے اپنے ہنر اور کام سے باہر کی دنیا سے پیسے کما سکتے ہیں۔‘

آمنہ کے مطابق پاکستانی لوگ اپنے ملک کے علاوہ پوری دنیا کے فری لانسرز سے مقابلہ کر رہے ہوتے ہیں۔ اس لیے ان کے لیے ضروری ہے کہ وہ وقت پر معیاری کام کریں تاکہ اپنی اچھی پروفائل بنا سکیں۔

’اچھے فری لانسر کے اندر صلاحیتیں ہونے کے ساتھ ساتھ ضروری ہے کہ وہ سب سے منفرد کام پیش کریں اور وقت کی پابندی کریں۔ اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ انٹرنیٹ پر ان کی پروفائل مضبوط ہو جائے گی اور مختلف کلائنٹس ان سے بار بار کام لیں گی جو کہ پیسے کمانے کا ایک مستقل ذریعہ بن جائے گا۔‘

دوسری طرف فری لانسرز کے مطابق پاکستان میں بیرون ممالک سے پیسوں کی ادائیگی کے بھی کچھ موجود مسائل ہیں کیونکہ پے پال کی سروس ملک میں تاحال متعارف نہیں کرائی گئی۔

تاہم فری لانسرز پیسے وصول کرنے کے لیے اس کے متبادل طریقے استعمال کر رہے ہیں۔

ایمن سروش نے بتایا کہ: ’اس وقت سب سے اہم مسئلہ ادائیگیوں کا ہے جن کا سامنا پاکستان میں فری لانسر کر رہے ہیں۔ اس کمی کو دور کرنے کے لیے ہمارے پاس کچھ متبادل بھی ہیں جن کے ذریعے آپ اپنی ادائیگیاں وصول کرسکتے ہیں۔‘

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 14741 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp