خلیل الرحمن قمر آپ نے عورت کو اچھی اور بری عورت کی بحث کی تکرار میں لا کھڑا کیا ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عورت کے معاشرتی اور تہذیبی تصور کے بارے میں صدیوں سے بہت کچھ لکھا اور فلمایا جاچکا ہے۔ لیکن کیا ہم کبھی اس متوازن وقت کے دھارے میں آئیں گے جہاں عورت صرف محبت کے توسط اور ملکیت کے حوالے سے نہ پہچانی جائے بلکہ اس کی اپنی پہچان ہو۔ عورت ہمیشہ اپنی ذات قربان کرتی رہی کبھی ماں کے روپ میں، کبھی بیوی کے ناتے، کہیں بہن کے رشتے سے اور کبھی بیٹی کے مقام پہ۔ ہمارا سماج کبھی اس خاص قسم کی عورتوں کو جو اپنے بارے میں سوچنا شروع کرتی ہیں انہیں پسند نہیں کرتا۔

جب تک عورتوں کے کام مردوں کے مفادات کو خطرے میں نہ ڈالیں وہ خوش دلی سے ان کی تعریف کرتے رہیں گے۔ مگر جہاں وہ اپنی ذات کی بات کریں وہاں مسئلہ شروع ہوجاتا ہے۔ پچھلے پچاس سالوں میں حالات ذرا بھی نہیں بدلے بلکہ اور بھی زیادہ بگڑ چکے ہیں۔ لیکن انہی حالات میں کچھ ایسی عورتیں بھی ہیں جو اپنے کام اور اپنے بارے میں سوچتی ہیں۔ ایسی عورتیں استانیاں ہیں، طبیب ہیں، آرٹسٹ ہیں، ماہر تعلیم ہیں، انجینئرز ہیں، آرکیٹکیٹ ہیں۔

ایسی تمام عورتیں باوجود کٹھن حالات کے اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت بھی کرتی ہیں اور نوکری کے تقاضے بھی پورے کرتی ہیں۔ مردوں کی اجارہ داری میں عورتوں کے بنیادی حقوق ہمیشہ تجریدی قسم کے ماحول کے پس منظر میں رہے۔ آج کل ایک مشہور و معروف ڈرامہ نگار خلیل الرحمن قمر کے ایک ڈرامے کا چرچاہر طرف ہے۔ خود موصوف نے بے جا اشتہار بازی کر کے اس کی کھلم کھلا تشہیر کی۔ غرور اور گھمنڈ سے بھرے لہجے میں مختلف انٹر ویوز میں فرماتے ہیں کہ ان کو نہ صرف الہام اور وجدان ہوتا ہے بلکہ چُست ہوتا ہے۔

صرف اتنا ہی نہیں یہ بھی کہا کہ انہیں مرزا غالب اور علامہ اقبال کی طرح اپنے شعر دوبارہ چُست نہیں کرنے پڑتے۔ واہ سبحان اللہ! صاحب! آپ نے کوئی نظریہ پیش کیا ہے کہیں تو بتائیے؟ اسی ڈرامے کی آخری قسط میں بھی اس نے مرد کو بیچارہ، لاچار، اور وفادار دکھا دیا اور عورت کو بے وفا اور رذیل شبیہہ میں ڈھالا۔ شہوار جو ڈرامے کا منفی ٹھرکی کردار تھا اس کو نہ کوئی گالی پڑی نہ جُوتا۔ وہ تو مزے سے بیوفائی اور بیوی کے ہوتے ہوئے اس کی غیر موجودگی میں محبوبہ کے مزے اُٹھاتا رہا۔

میں اپنے ارد گرد بہت سی ایسی عورتوں کو ضرور جانتی ہوں جو اپنے شوہروں کی بے وفائی کا شکار ہیں۔ نہ صرف یہ کہ انہوں نے کئی سالوں ان کے کالے کرتُوتوں پر پردے ڈالے بلکہ ان کے مظالم اور طعنے بھی سہے۔ ان میں کچھ تو ایسی عورتیں ہیں جو ماہر تعلیم ہیں۔ جب وہ اپنے شوہر کے ساتھ حج اور عُمرے کو گئیں تو شوہر نے اس پر اپنا پیسہ خرچ نہیں کیا حتیٰ کہ ٹکٹ تک اس عورت نے اپنی جیب سے لی۔ ایسے مرد کو کیا کہیں گے؟ کیونکہ فطرتاً مرد کو اگر برتری حاصل ہے تو اس لیے کہ وہ بیوی اور بچوں کے لیے کما کر لاتا ہے اور جو مرد اپنی بیوی کے حج یا عمرے جیسے مقدس فریضے کی بجائے دوسری عورتوں پر پیسہ لگائے وہ مرد نہیں بلکہ مردود کہلایا جائے۔

خلیل الرحمن قمر کہتا ہے کہ عورت فطرتاً وفادار اور حیا دار ہوتی ہے۔ میں بے وفا عورت کو عورت ہی نہیں مانتا۔ وہ اپنے اس ڈرامے کی استانی ہانیہ کے کردار کو آئیڈل کہتا ہے۔ مجھے جاننا یہ تھا کہ ایک استاد جس کا کام بچوں کے کردار کی تعمیر ہے۔ اس کا اپنا کردار یہ دکھایا ہے کہ وہ اپنے طالب علم کے باپ کو برملا نہ صرف پسند کرتی ہے بلکہ منگنی کی انگوٹھی بھی خود لے جاتی ہے۔ خلیل الرحمن قمر کہتا ہے کہ میں نے عورت کی تذلیل نہیں کی۔ غلط!

آپ نے عورت کو اچھی اور بری عورت کی بحث کی تکرار میں لا کھڑا کیا ہے۔

خلیل الرحمن قمر کہتا ہے میں نے عورت کو غیرت کے نام پہ قتل سے بچایا۔ غلط!

کیا آپ کو نہیں معلوم جائیداد اور پیسے کی لالچ میں بے گناہ عورت پہ جھوٹا الزام لگا کر غیرت کے نام پر قتل کیا جاتا ہے۔

خلیل الرحمن قمر کہتا ہے مرد سے انکار نہیں ہوتا۔ غلط!

اگر ایسا ہوتا تو اللہ ربّ العزت حضرت یوسف ؑ کی مثال قائم نہ کرتا۔

خلیل الرحمن قمر کہتا ہے میں نے منطق کے ساتھ دانش کو امیرہوتے دکھایا۔ غلط!

اگر وہ اتنا ہی عقلمند تھا تو بیوی کے ہوتے ہوئے فلیٹ بیچ کر پیسہ بنا لیتا۔

خلیل الرحمن قمر کہتا ہے وہ bonding میں بیوفائی کی معافی نہیں دیتا۔ غلط!

ڈرامہ کا کردار شہوار تو آسودگی سے بچ نکلتا ہے۔

خلیل الرحمن قمر نے اپنے ڈرامے کی بے وفا اور بے حیا عورت کو مکمل طور پر ناکام دکھایا یعنی نہ وہ اچھی ماں ہے نہ اچھی بیوی۔ جس بات کو خلیل الرحمن قمر اپنی ذاتی تذلیل سمجھ رہے ہیں دراصل وہی counter questions ہیں۔ وفا کہتے کس کو ہیں؟ وفا کس چڑیا کا نام ہے؟ وفا کی تعریف ہر آدمی کے نزدیک اپنی ہے۔ خلیل الرحمن قمر کو اس کے گھمنڈ اور بیہودہ باتیں کرنے پر معاشرے اور خدا دونوں کی طرف سے سزا ضرور ملے گی۔ ایک بیان میں موصوف فرماتے ہیں اگر عورتیں بالکل برابری میں مرد کی طرح ہوجانا چاہتی ہیں تو آئیں پانچ عورتیں مل کر ایک مرد کو ریپ کریں۔

اس کی صفائی میں کہتے ہیں میرا مطلب تھا کہ یہ گھٹیا ایکٹ آپ نہیں کر پائیں گی یہ مرد ہی کرتے ہیں۔ یعنی اس بات کا مطلب ہے مردوں کے پاس ریپ کرنے کا اجازت نامہ ہے۔ تُف ہے اس بات پر۔ طوائفوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے فرمایا کہ ان عورتوں کو امتیاز کیا گیا اچھی عورتوں اور بری عورتوں سے علیحدہ کرنے کے لیے۔ ان کا علاقہ ریڈ لائٹ کے نام سے بنایا گیا۔ پوچھنا یہ ہے کہ بازار میں عورت کو بٹھانے والا کون ہے؟ آپ مرد ہیں جناب!

یاد رکھیں دنیا میں عورت تب بکتی ہے جب اس کا کوئی خریدار موجود ہو۔ افسوس سے یہ کہنا پڑتا ہے اکیسویں صدی میں داخل ہو کر بھی ہم قحبہ خانوں کو ختم نہیں کرسکے بلکہ نکاح متہ کے پردے میں من چاہی عیاشیاں کرنے سے گریز نہیں کرتے۔ خلیل الرحمن قمر کہتا ہے خدا اپنے گناہ گاروں کو معاف کر دیتا ہے لیکن محبت معاف نہیں کرتی۔ پوچھنا یہ تھا صاحب کہ کیا یہ اصول بھی صرف مرد پہ لاگو ہوتا ہے۔ موصوف فرماتے ہیں کہ کوئی ڈر ہوتا ہے آپ کے اندر جو آپ کو ہر روز یہ کہنا پڑتا ہے ”میرے پاس تم ہو“!

۔ تو جناب یہ لائن خود ہی بتا رہی ہے کہ دانش کو اپنی ذات پر بھروسا نہیں تھا وہ جانتا تھا کہ مہوش کی آنکھوں میں سجے خوابوں کو تعبیر نہیں دے سکتا۔ اسے معلوم تھا وہ اپنی بیوی کے لیے تارے توڑ کے نہیں لاسکتا۔ لہٰذا وہ اسے بار بار باورکرواتا ہے کہ میرے پاس وسائل تو نہیں لیکن میرے پاس تم ہو۔ ہمارے سماج میں ہر آتی اور جاتی سانس کے ساتھ عورت کو چھوڑ دینے کے خوف کی لہریں عورت کے نتھنوں سے ہوتی ہوئی اس کے رگ و پے میں سرایت کر جاتی ہے۔

خلیل الرحمن قمر کہتا ہے شادی شدہ عورت جب Cheat کرتی ہے تو نظریں جھکاتی نہیں بلکہ ڈٹ کر بات کرتی ہے کیونکہ اسے کسی دوسرے مرد پر بھروسا ہوتا ہے۔ سوال اُٹھتا ہے وہ بھروسا اسے اس کا خاوند کیوں نہیں دیتا۔ میں اپنے ارد گرد ایسی بہت سی عورتوں کو جانتی ہوں جن کے شوہر نہ صرف تنہا بلکہ اپنے رشتے داروں کو باراتی بنا کر بیوی اور بچوں کو چھوڑ کر بڑے ہوٹلوں میں باقاعدہ دوسرے ولیمے کی دعوتیں اُڑاتے ہیں۔ اس پر طرہ یہ کہ نظریں جھکتی نہیں بلکہ آنکھوں میں بیوفائی کی چمک کا گھمنڈ سجائے پہلی بیوی کو کہتے ہیں تم مجھے سنبھال نہیں سکیں۔ ایسے محبت کے گناہ گاروں کے لیے آپ کی ڈکشنری میں کیا الفاظ ہیں۔ عورت کو خطرہ سمجھنے کی بجائے اس سے نفرت کو ہوا برد کر کے سماج میں اسے اس کا اصل مقام دلوانے کی تحریر کا بستہ کھولنا چاہیے۔ صاحب!

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *