عمران خان کے دفاع میں ایک تحریر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اگر پاکستان ہمارا ملک ہے تو اپنے ہی ملک کے رہنماؤں اور باشندوں کو ہمہ وقت اڑنگی دینے اور دھول چٹانے سے کیا فائدہ ہو گا۔ کسی کو شیطان اور کسی کو فرشتہ سمجھنے کی لاحاصل مشق میں ہم نے بہت وقت گنوایا ہے۔ سامنے کا سبق یہ ہے کہ کسی فرد یا واقعے سے امیدیں باندھنے کی بجائے حقائق، مسائل، وسائل اور امکانات پر معروضی طریقے سے غور و فکر کر کے قوم کو مشکلات سے نکالنے کا کوئی نقشہ مرتب کرنا چاہیے۔ عمران خان صاحب کی حکومت کا رنگ و روغن اتر چکا۔ یہ زوال عصر کا وقت ہے۔ غلام مشعلیں لے کر دوڑتے پھرتے ہیں۔ صفوں میں تزلزل کے آثار ہیں، کرائے پر لئے گئے مرہٹہ لڑاکے بات بات پر آنکھیں نکالتے ہیں۔ کسی کو گھرکی دی جاتی ہے تو کسی کی للو پتو کی جا رہی ہے۔ اہل بصیرت ایسے وقت میں چراغ گل کر دیتے ہیں کہ جسے سر کی سلامتی چاہیے، میر لشکر کے خیمے سے نکل لے۔ یہاں الٹی گنگا بہہ رہی ہے۔ کوتوال سے کہا جا رہا ہے کہ مورچوں کی نگرانی سخت کر دی جائے۔ دیکھیے، گورو نانک کی نگری سے آنے والے اعجاز دست سنیاسی کی زنبیل میں دھرے نسخے تو اقتدار کی چڑھتی جوانی کو شاداب کیا کرتے ہیں۔ عالم ضعف میں معجون شباب ارادوں کو تقویت دینے کی بجائے اعضائے رئیسہ کو مختل کر دیتا ہے۔

وزیر اعظم نے ڈیووس کی خنک فضا میں تجویز کیا ہے کہ قوم اخبار پڑھنا اور ٹیلی ویژن دیکھنا بند کر دے تو سب ٹھیک ہو جائے گا۔ کمک پر بیٹھے لشکری ٹرانسپر ینسی انٹرنیشنل کی توپوں میں کیڑے پڑنے کی بد دعائیں دے رہے ہیں۔ یہ تو برے آثار ہیں فانیؔ… 20 جنوری 2018 کو اسی موقر اخبار میں دست بستہ گزارش کی تھی کہ ’عمران خان ابھی میرے وزیر اعظم نہیں بن سکتے‘۔ حسب توقع ٹھٹھا کیا گیا۔ 17 ستمبر 2019 کو حکومت کا ایک برس مکمل ہونے کے بعد پھر عرض گزاری کہ ’عمران خان کیوں ناکام ہو رہے ہیں؟‘۔ یہ صدا بھی کار زیاں ٹھہری۔ اب وہ پانی بہ ملتان گئے۔ اب اگر کسی کو خیال ہو کہ معیشت، سیاست اور ریاست کا یہ ملبہ عمران خان پر ڈال کر خود ہاتھ جھاڑ لئے جائیں تو مشت بعد از جنگ کا پرچہ ترکیب استعمال کچھ اور ہے۔ خرابی عمران خان، ان کی جماعت اور ان کے رفقا میں نہیں، یہ عہد عبور تو ایک قدیمی عارضے کی ایسی پیوند کاری تھی جس کی ترکیب میں سبز ہونا نہیں لکھا تھا۔ آئیے۔ آج کی محضر کے کچھ اشارے دیکھیں۔

ہینلے پاسپورٹ انڈیکس نے 107 ممالک کے پاسپورٹ کی درجہ بندی کی ہے۔ پاکستان کو مسلسل تیسرے برس بھی اس فہرست میں 104 درجے پر رکھا گیا ہے۔ ہم سے نیچے صرف تین ممالک ہیں، عراق، افغانستان اور شام نیز یہ کہ ہمیں صومالیہ سے برابری کی عزت ملی ہے۔ ان چاروں ممالک میں جنگ کے شعلے بھڑک رہے ہیں۔ سوچنا چاہیے، ہم کس سے لڑ رہے ہیں؟ 15 جنوری کو امریکی عدالت نے پانچ پاکستانی شہریوں پر ممنوعہ برآمدات کا نیٹ ورک چلانے کی فرد جرم عائد کی ہے۔ الزامات کی تفصیل بیان کرنے کا یارا نہیں۔ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے پیرس اجلاس کے بعد وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور نے امید ظاہر کی ہے کہ پاکستان جون 2020 تک گرے لسٹ سے نکل جائے گا۔ حماد اظہر جدید تعلیم یافتہ سیاست دان ہیں۔ یقیناً سمجھتے ہوں گے کہ کسی ملک کی اس گرے لسٹ میں بار بار جلوہ گری سے بیرونی سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے۔ سرمایہ کاری کی اچھی کہی۔ ڈیووس میں محترم وزیر اعظم نے اپنے ملک کے داخلی معاملات کی جو تصویر کشی کی، وہ بذات خود سرمایہ کاری کے مقصد سے منعقد ہونے والے اس اجتماع کی تاریخ میں ایک طرفہ تماشا ٹھہری۔

بین الاقوامی ریٹنگ ایجنسی فچ (Fitch) نے پاکستان کو مائنس بی درجہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ B درجے میں آنے والے ممالک کے فی کس جی ڈی پی کی اوسط 3470 ڈالر ہے۔ پاکستان 1382 ڈالر کے فی کس جی ڈی پی کے ساتھ اس اوسط حد سے بہت پیچھے ہے۔ اس کی کچھ تفصیل بھی بتائی گئی ہے، شرمساری مانع ہے کہ وہ اسباب لکھے جائیں۔ جاری مالیاتی خسارے میں کمی پر وزیر اعظم بہت نازاں ہیں۔ یہ نہیں بتاتے کہ یہ بہتری برامدات میں اضافے سے نہیں ہوئی، درآمدات میں کمی کی مرہون منت ہے۔ یعنی اقتصادی سرگرمی ماند پڑ گئی ہے۔ آئی ایم ایف اور دوست ممالک سے قرض اور امداد کے باوجود پاکستان کو قرضوں کی ادائی اور دیگر اخراجات کے لئے بیرونی ذرائع سے قریب 20 ارب ڈالر درکار ہوں گے۔ ورلڈ بینک کا کہنا ہے کہ رواں مالی برس میں اقتصادی ترقی کی شرح 2.4 فیصد رہے گی۔ بینکاری کے شعبے سے خبر ہے کہ رواں ماہ یعنی جنوری 2020 میں CPI یعنی مہنگائی کی شرح 13.6 فیصد کو پہنچ گئی جو پچھلے نو برس کی بلند ترین شرح ہے۔ لاکھوں افراد بے روزگار ہو گئے ہیں۔

اب فرمائیے کہ کیا خرابی کی ان صورتوں کا ذمہ دار عمران خان ہے۔ نہیں بھائی، اس شریف انسان کا قصور محض یہ ہے کہ سیاسی عمل کی مبادیات اور جمہوریت کی حرکیات نہیں سمجھتا اور وزیر اعظم کے منصب کی خواہش پال لی۔ عمران خان کی اس معصوم خواہش کی تکمیل کے لیے جو تعمیراتی نقشہ بنایا گیا، اس سے سیاست کا جغرافیہ مسخ ہو گیا ہے۔ اس فصل پر برگ و بار لانے کے لیے محکمہ زراعت نے جو ہل چلایا، اس سے 22 کروڑ چیونٹیوں کے گھروندے تباہ ہو گئے ہیں۔ حکومت کی عمل داری مجروح ہوئی ہے، انتظامی مشینری مفلوج ہو گئی ہے، ریاست کی ساکھ گر گئی ہے۔ عمران خان کی جماعت اور ان کے حامی بدستور ہمارے ہم وطن اور اس قوم کا اثاثہ ہیں۔ بارہ صفحے کی ایک دستاویز کہیں رکھی ہے جسے دستور کہتے ہیں۔ اس دستور کے 280 آرٹیکل قوم کی امانت ہیں، انہیں بازیاب کیا جائے۔ ہم غریب، نیم خواندہ اور پسماندہ لوگ سہی، لیکن ہم پھاوڑا چلانا جانتے ہیں، لکڑی اور لوہے کا کام کر لیتے ہیں، جوتے بنا لیتے ہیں، کپڑا بن لیتے ہیں، ہم 75 برس پہلے ووٹ سے یہ ملک بنا سکتے ہیں تو ووٹ سے یہ ملک چلا بھی لیں گے۔ عمران خان پر تبرے کا ہمیں شوق نہیں، ہم تو اپنی چھت تلے پلنے والی نسلوں کے لئے عزت کا ٹکڑا مانگتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *