کیا ڈی این اے، اسلام کے خلاف سازش ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کچھ دن پہلے جب، سرمد سلطان کھوسٹ کی فلم ”زندگی تماشا“ پر پابندی کے حوالے سے ایک مضمون لکھا تو جہاں اس کو کئی لوگوں کی طرف سے سراہا گیا وہاں پر کچھ اسلام کے علمبرداروں کی طرف سے لعن طعن بھی کی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کی تحریریں لکھ کر میں اسلام کو بدنام کر رہا ہوں۔ تو ان سب مجاہدینِ ملت سے گزارش ہے کہ بالکل ایسی فضول اور حقائق سے عاری تحریروں سے اسلام بدنام ہوتا ہے۔

ہاں اسلام بدنام نہیں ہوتا جب گوجرانوالہ میں ایک چھ سال کا بچہ فیضان مدرسے میں قرآن پڑھنے جاتا ہے۔ مگر وہاں پر ایک مولوی کی جنسی ہوس کا نشانہ بن جاتا ہے۔ اور جب وہاں پر اس کے والدین اس کے ساتھ یہ ظلم ہوتا دیکھتے ہیں تب بھی اسلام بدنام بالکل نہیں ہوتا۔ اور جب اس واقعہ کی ویڈیو اور تصاویر سوشل میڈیا پر چلتی ہیں تو وہ بھی مجھ جیسے لوگوں کی اسلام کو بدنام کرنے کی ایک سازش ہی ہے۔

اسلام کے خلاف ایسی ہی ایک سازش مانسہرہ کے ایک مدرسے میں بھی ہوئی۔ جہاں پر ان کے معصوم قاری شمس الرحمٰن پر وہاں کے ایک بچے کی طرف سے الزام لگا دیا گیا کہ انھوں نے اس کے ساتھ سو سے زائد مرتبہ جنسی زیادتی اور تشدد کیا ہے۔ اب بھلا یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک ایسا شخص جس کی رگ رگ میں قرآن رچا ہوا ہو وہ اس طرح کی گھٹیا حرکت کرے گا۔ اس لیے ہمارے بہت پیارے مفتی کفایت اللہ، جی وہی جمعیت علماء اسلام (ف) والے میدان میں آئے۔

انھوں نے معصوم قاری شمس الرحمٰن کی بے گناہی کی گواہی دی اور کہا کہ دراصل جس نے جنسی زیادتی کی ہے اس کا نام بھی شمس الرحمان ہے مگر قاری شمس الرحمن نہیں ہے۔ انھوں نے یہ بھی فرمایا کہ سوشل میڈیا پر مدرسے اور قاری صاحب کو بدنام کرنے کے لیے جھوٹی مہم چلائی جارہی ہے۔ مجھے مفتی صاحب پر یقین ہو گیا تھا کیونکہ مجھے لگا کہ وہ اگر ہمارے جنرلوں اور فوج کے بارے میں سرعام میڈیا پر بیٹھ کر سچ بول سکتے ہیں تو اس معاملے میں بھلا کیوں جھوٹ بولیں گے۔

میری طرح شاید اور لوگوں نے بھی اس واقعہ پر شاید مفتی صاحب کی گواہی کو تسلیم کر لیا ہو تا۔ مگر بیڑہ غرق ہو کفار کے ایجاد کردہ اس کمبخت مارے ڈی این اے کا، جس نے سارا بھانڈا پھوڑ دیا اور یہ ثابت کر دیا کہ زیادتی کرنے والا کوئی اور نہیں بلکہ قاری شمس الرحمٰن ہی تھا۔ یہ کفارنے بھی ہمارے مذہب کے اتنے پیارے نام لیواوں کو بدنام کرنے کے لیے کس کس طرح کی ایجادات کر دی ہیں۔

اس لیے میری تمام علماء خاص طور پر مفتی کفایت صاحب سے گزارش ہے کہ سب سے پہلے وہ اس منحوس مارے ڈی این اے کے خلاف ایک فتویٰ جاری کریں کہ یہ غیر شرعی ہے۔ اس لیے وہ اس کی گواہی نہیں مانتے۔ اور اس پر پابندی عائد کی جائے کیونکہ اس سے اسلام کی بدنامی ہورہی ہے۔ اور اس سے مجھ جیسے فضول لوگوں کو بھی قاری شمس الرحمن جیسے پاکباز انسان کی ذات پر کیچڑ اچھالنے کا موقع مل جاتا ہے۔

جن کو بچانے کے لیے مفتی صاحب نے انھیں پناہ بھی دیے رکھی۔ اس کے ساتھ نا صرف وہ بچے کے گھروالوں کو بھی سمجھا رہے ہیں کہ کیس واپس لے لیں۔ بلاوجہ وہ لوگوں کی باتوں سے گمراہ ہو کر اپنی آخرت خراب کیوں کررہے ہیں۔ بلکہ ان کو مبینہ طور پر پیسوں کی پیش کش بھی کی ہے کہ پیسے لے کر خاموش ہو جائیں۔ یہی نہیں وہ جذبہ جہاد کو مدِنظر رکھتے ہوئے ان کو دھمکیاں بھی دے رہے ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اسلام کے ساتھ کتنے مخلص ہیں اور اس کو بدنامی سے پچانے کے لیے کس حد تک جاسکتے ہیں۔

اس سب کے لیے میں مفتی کفایت اللہ صاحب کو خراجِ تحیسن پیش کرتا ہوں کہ انھوں نے اسلام کی لاج رکھنے کے لیے سر دھڑ کی بازی لگا دی ہے۔ میری حکومتِ وقت سے درخواست ہے کہ مفتی صاحب کی ان خدمات کے عوض ان کو خصوصی ایوارڈ سے نوازا جائے۔ اس کے ساتھ ڈی این اے کا معاملہ اسلامی نظریاتی کونسل کے حوالے کیا جائے تاکہ آئیندہ کے لیے اس کی وجہ سے ناصرف اسلام کے خلاف ہونے والی سازش کا قلع قمع ہو سکے بلکہ اسلام کو بدنامی سے بھی بچایا جا سکے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *