’وہ کون سا انجکشن ہے جو لگتے ہی نرسیں حوریں لگنا شروع ہو جاتی ہیں؟‘

منزہ انوار - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عمران

Reuters
پاکستانی سوشل میڈیا پر نظر دوڑائیں تو لگتا ہے کہ صارفین اسی بیان کے انتظار میں تھے

پاکستانیوں کی حوروں میں دلچسپی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ لیکن حوروں کا ذکر ہو اور وہ بھی وزیرِاعظم کے منھ سے؟ سوشل میڈیا پر نظر دوڑائیں تو لگتا ہے کہ صارفین اسی بیان کے انتظار میں تھے۔

قصہ کچھ یوں ہے کہ گذشتہ شب کراچی میں شوکت خانم کینسر ہسپتال کی ایک تقریب سے خطاب میں وزیرِ اعظم عمران خان اُن دنوں کا احوال سنا رہے تھے جب سنہ 2013 میں الیکشن مہم کے دوران وہ فورک لفٹ سے گر کر وہ زخمی ہوئے اور بہت زیادہ تکلیف میں تھے۔

وزیرِ اعظم عمران خان نے بتایا کیا کہ اُس وقت شوکت خانم کے ڈاکٹر عاصم انھیں ایسا انجکشن لگایا جس سے نہ صرف ان کی تکلیف ختم ہو گئی بلکہ دنیا ہی بدل گئی ’وہاں جو نرسیں تھیں وہ مجھے حوریں نظر آنا شروع ہو گئیں۔‘

’میں نے سوچا کچھ مسئلہ ہی نہیں ہے مجھے۔۔ تقریر بھی کر دی میں نے ٹی وی پر۔۔ وہ مجھے یاد ہی نہیں میں نے کیا کہا۔ جب اس انجکشن کا اثر زائل ہوا تو پھر مجھے تکلیف شروع ہو گئی اور میں نے اس (ڈاکٹر عاصم) سے زور لگایا کہ خدا کے واسطے وہ ٹیکہ پھر سے لگا دو۔۔ میں نے اسے دھمکایا بھی کہ میں تمھیں چھوڑوں گا نہیں لیکن اس نے مجھے ٹیکہ نہیں لگایا۔‘

عمران

Getty Images
’پانچ سال جیسے گزارے ہیں، اگلے پانچ سال آپ نہیں برداشت کر سکیں گے۔ عمران خان تو برداشت کر لے گا آپ نہیں برداشت کر سکیں گے‘

’عمران خان تو برداشت کر لے گا آپ نہیں برداشت کر سکیں گے‘

وزیرِ اعظم عمران خان سنہ 2013 میں ہسپتال کے بستر سے کی گئی جس تقریر کا حوالہ دے رہے تھے اس میں انھوں نے کہا تھا ’میں اپنی زندگی کے 17 سال پاکستان کے لیے لڑا ہوں۔۔ جو میں کر سکتا تھا میں نے کیا ہے۔ اب میں چاہتا ہوں کہ اگر آپ اپنی اپنی ذمہ داری لیں۔‘

’پانچ سال جیسے گزارے ہیں، اگلے پانچ سال آپ نہیں برداشت کر سکیں گے۔ عمران خان تو برداشت کر لے گا آپ نہیں برداشت کر سکیں گے۔‘

اس تقریر میں ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ 11 مئی (الیکشن کے دن ) کو آپ نے اپنی حالت بدلنے کے لیے نکلنا ہے۔۔ آپ نے یہ نہیں دیکھنا تحریکِ انصاف کا کون سا امیدوار کھڑا ہے۔ آپ نے بس تحریکِ انصاف کو ووٹ دینا ہے۔

سوشل میڈیا پر ردِعمل

پاکستان میں سوشل میڈیا پر وزیرِ اعظم عمران خان کا شوکت خانم کی تقریب سے خطاب وائرل ہے اور جہاں کچھ لوگوں کو ملک کے وزیرِ اعظم سے ایسے بیان کی توقع نہیں تھی وہیں ایسے صارفین بھی ہیں جو اس صورتحال پر دلچسپ تبصرے کر رہے ہیں۔

صحافی ارشد شریف وزیرِ اعظم عمران خان کے بیان پر تنقید کرتے ہوئے کہتے ہیں ’کیا وزیرِاعظم یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ نرسیں جنسی خواہشات پورا کرنے کا ذریعہ ہیں؟‘

وہ یہ بھی پوچھتے نظر آئے کہ پاکستانی وزیرِ اعظم نے زخمیوں اور بیماروں کی تیمارداری کرنے والے نرسوں کے مقدس پیشے کو ’حوریں‘ بنا دیا ہے؟

جواد بٹ دیگر ٹوئٹر صارفین نے پوچھتے نظر آئے کہ برائے مہربانی کوئی بھائی رہنمائی فرما دے۔ وہ کون سا انجکشن ہے جس کے لگنے سے نرسیں حوریں نظر آنا شروع ہو جاتی ہیں۔ اور یہ کہاں سے ملتا ہے۔

وزیرِ اعظم کے اس بیان کے بعد کلیم احمد نامی صارف کو پریشانی ہے کہ ’کہیں اب ایسا نہ ہو کہ مولوی حضرات سمیت سب حوریں دیکھنے شوکت خانم پہنچ جائیں۔‘

اور رائے وحید کھرل یہ جاننا چاہتے ہیں کہ ’یہ ٹیکا ہر مریض کو لگایا جاتا ہے یا یہ سہولت صرف عمران خان کے لیے ہے؟‘

اس صورتحال پر استہزائیہ انداز اپناتے ہوئے رابی آفتاب نامی صارف کہتی ہیں کہ اب حوروں کو پانے کے لیے فوت ہونا ضروری نہیں، ایک انجکشن ہی آپ کو دنیا میں نہ صرف حوروں سے ملاقات کرائے گا بلکہ قبر جیسا سکون بھی دے گا ’دکھ درد غائب اور حوروں سے ملاقات۔۔ ڈاکٹر عاصم زندہ باد۔‘

اور صحافی عمر چیمہ وزیرِاعظم عمران خان کے بیان پر مزے لینے والوں سے کہتے نظر آئے ’حوروں والے ٹیکے کا مذاق اڑانے والوں کو ہوروں والا ٹیکہ بھی لگ سکتا ہے ذرا بچ کے۔‘

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 16583 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp