ہمارا وزیراعظم ہینڈسم تو ہے


یہ اُن دنوں کی بات ہے جب ہم یہ سمجھ رہے تھے کہ نواز شریف کی حکومت نے پاکستان کو دیمک کی طرح چاٹ لیا ہے اور پاکستان کا ہر ادارہ کرپشن کی بھینٹ چڑھ چکا ہے۔ اور اب ایک ہی صورت پاکستان کو دیوالیہ ہونے سے بچا سکتی ہے اور وہ یہ ہے کہ نواز شریف کو وزارتِ اعظمیٰ کی کرسی سے ہٹا کر اڈیالہ جیل کی ہوا کھلائی جائے اور پاکستان میں حکومت کو تبدیل کر کے تبدیلی لائی جائے۔ اور ہم جیسے جوان کمیونٹی یہ سمجھ رہی تھی کہ تبدیلی لانے کے لئے عمران خان سے اچھا کوئی دوسرا آپشن ہو ہی نہیں سکتا۔

لہذا پاکستانیوں کو تبدیلی کا مزا چکھانے کی خاطر ہم نے قسم اٹھائی کہ آئندہ جنرل الیکشن میں ہم سب دوست مل کر عمران خان کی پارٹی کو ووٹ دیں گے چاہے امیدوار کوئی بھی ہو۔ اور دوسروں کو بھی عمران خان کی پارٹی کے امیدوار کو ووٹ دینے کے لئے کنونس کرنے لگے۔ خدا خدا کر کے نواز شریف کی حکومت ختم ہو گئی اور وہ جیل کی ہوا کھانے اڈیالہ جیل پہنچ گئے۔ ہم نے سکون کا سانس لیا اور الیکشن کی تیاری کرنے لگے۔

الیکشن سے ایک دن پہلے میں اپنے دوستوں کے ساتھ راولپنڈی میں تھا۔ اپنا کام ملتوی کر کے فوراً اپنے حلقے پہنچا اور الیکشن کی صبح صاف ستھرے کپڑے پہن کر اس دعا سے گھر سے نکلا کہ اللہ پاک عمران خان کو جتوا کر پاکستان میں حقیقی تبدیلی لے آئے۔ قصہ مختصر ہم ووٹ کاسٹ کرنے اپنے مقررہ سکول پہنچ گئے اور ووٹ ڈالنے والوں کی لائن میں لگ گئے اور تھوڑی ہی دیر میں ووٹ عمران خان کی پارٹی کے امیدوار کوکاسٹ کر لیا اور فاتحانہ انداز میں عمران خان زندہ باد کا نعرہ لگا لیا۔

اب جلدی سے گھر پہنچ کر گھر والوں کو بھی کنونس کر لیا آخر کار چھوٹے بھائی کو کنونس کر کے اسے بھی عمران خان کے امیدوار کو ووٹ ڈلوانے پر مجبور کر دیا۔ سکول کے باہر کھڑے ہو کر ہر ووٹ ڈالنے والے کو کنونس کرتے رہے کہ اگر حقیقی ترقی اور تبدیلی چاہتے ہو تو ووٹ پی ٹی ائی کو ہی دینا۔ بہرحال الیکشن کا ٹائم ختم ہو گیا اور شام کو نتیجہ آنے کا بے چینی سے انتظار کرنے لگ گئے۔ اللہ کے فضل سے عمران خان کی پارٹی جنرل الیکشن جیت گئی اور اب ہم مطمئن ہو گئے کے اب پاکستان میں تبدیلی لانے سے کوئی بھی نہیں روک سکتا اور پاکستان اب بہت ترقی کرے گا۔

خان صاحب کے بطورِ وزیر اعظم حلف لینے کے لئے ہم نے سو رکعات نوافل بھی پڑھ لئے تھے اور کلو کلو مٹھائیاں بھی احباب میں بانٹ لی تھی۔ یہ تھا ہمارا جنون تبدیلی سرکار کے لئے۔

خان صاحب کے بطورِ وزیر اعظم پاکستان تقاریر اور پریس کانفرس سن کر ہمیں پکا یقین تھا کہ پاکستان میں تبدیلی لانا بس کچھ ہی دنوں کی بات ہے اس کے بعد ان شاءاللہ یہاں دودھ اور شہد کی نہریں بہنا شروع ہو جائیں گی۔ اب خان صاحب کو تبدیلی لانے سے سوائے اللہ پاک کے کوئی نہیں روک سکتا۔ ہم حلقہ احباب میں بڑے فخر سے اٹھتے بیٹھتے تھے اور اکثر تبدیلی کا ذکر کرتے رہتے تھے جس سے ہمارے ن لیگی دوست چھڑ جاتے تھے۔

اسی طرح تبدیلی کا راگ الاپتے ہوئے تین مہینے گزر گئے لیکن ہمیں تبدیلی محسوس نہیں ہوئی۔ میں نے سوچا پچھلے حکمرانوں نے ملک کو اس بیدردی سے لوٹا ہے شاید نوے دن کم ہے تبدیلی لانے کے لئے۔ ہمیں کم از کم سال دینے چاہیے تبدیلی سرکار کو۔ سال بھی گزر گیا لیکن تبدیلی ہے کہ منہ ہی نہیں دکھا رہی۔ اور خان صاحب کے لارے بھی ختم نہیں ہو رہے۔ تبدیلی کے لئے تاریخ پہ تاریخ دیتے جا رہے ہیں اور بیوقوف عوام مہلت پہ مہلت دیتے جا رہے ہے۔ فی الحال ہم خان صاحب کے تقاریر پہ گزارا کر رہے ہیں اور ن لیگی دوست ہمیں اس بات پر چھیڑ رہے ہیں کہ تبدیلی کہاں ہے اور ہم اس بات پر خوش ہو رہے ہیں کہ تبدیلی نہ سہی ہمارا وزیراعظم ہینڈسم تو ہے اور ہاں تقریر بھی اچھی کر لیتا ہے وہ بھی بغیر پرچی کے۔

Facebook Comments HS