کیا منظور پشتین غدار اور ملک دشمن ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گزشتہ دنوں پی ٹی ایم کے نو جوان رہنما منظور پشتین کو پشاور سے کئی ساتھیوں کے ہمراہ گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ان کی گرفتاری کی وجوہات کی تفصیلات ابھی سامنے نہیں آ سکیں۔ محسن داوڑ اور علی وزیر نے ان کی گرفتاری پر ردعمل دیتے ہوئے انہیں فی الفور رہا کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

پشتون تحفظ موومنٹ ایک پر امن، محب وطن اور آئین و قانون کی بالادستی پر یقین رکھنے والی سماجی حقوق کی تنظیم ہے جس کے دو رکن قومی اسمبلی کے ممبر بھی ہیں۔ 2014 میں اس کا قیام عمل میں آیا تو نام محسود تحفظ تحریک تھا۔ جنوری 2018 میں نقیب اللہ محسود کے ماورائے عدالت پولیس مقابلے میں بیہیمانہ قتل کے بعد کیے کیے جانے والے احتجاجوں میں اس تحریک کو عروج ملا اور اس کا نام بدل کر پشتون تحفظ موومنٹ رکھا گیا۔ اس تنظیم نے کراچی، پشاور، اسلام آباد اور بنوں میں احتجاجی جلسوں اور دھرنوں کا انعقاد کیا۔

کراچی کے جلسے میں تو اسی ہزار سے زائد افراد نے شرکت کی تھی اور ایک گملا بھی نہیں ٹوٹا تھا۔ غالباً اسلام آباد کے جلسے میں عمران خان نے بھی نہ صرف شرکت کی تھی بلکہ پی ٹی ایم کے مطالبات کی بھرپور حمایت بھی کی تھی۔ پی ٹی ایم کے مطالبات بڑے سادہ اور بنیادی انسانی حقوق کے عین مطابق ہیں۔ مثلاً وفاق کے زیر اہتمام قبائلی علاقوں میں فرنٹئیر جرم کا خاتمہ، لاپتہ افراد کی بازیابی اور ان پر قانون کے مطابق عدالت میں مقدمہ چلانا، سکیورٹی چوکیوں پر قبائلیوں کی ذلت کا خاتمہ اور دہشت گردوں کی تلاش کی آڑ میں پشتون خاندانوں کو ہراساں کرنے کے سلسلے کا قلع قمع۔

مگر افسوس کہ ہمارے مقتدر اداروں نے پی ٹی ایم، اس کے سربراہ، علی وزیر، محسن داوڑ اور دوسرے اراکین پر بھارتی ایجنٹ ہونے اور اپنی سکیورٹی فورسز پر مسلح حملوں کے علاوہ دہشت گردوں کے ساتھ ساز باز جیسے الزامات لگائے۔ پی ٹی ایم والوں پر یہ الزام بھی لگایا جاتا ہے کہ جلسے جلوسوں میں وہ ملک کی مسلح افواج، سپہ سالار اور ایجنسیوں پر بھی زبان طعن دراز کرتے ہیں۔ ان پر یہ بھی الزام ہے کہ وہ بھارت اور افغانستان کی خفیہ ایجنسیوں سے پیسے لے کر ملک میں بد امنی پھیلاتے ہیں۔ مگر آج تک ایسے الزامات کسی فورم پر ثابت نہیں کیے جا سکے۔

ہم سمجھتے ہیں کہ اگر پی ٹی ایم والے اس طرح کی سرگرمیوں میں ملوث ہیں تو ہمارے ادارے شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کروائیں تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو مگر خدارا غداری اور ملک دشمنی کی فیکٹریاں بند کی جائیں۔ ہم منظور پشتین کو زیادہ نہیں جانتے نہ کبھی ملاقات کا موقع ملا لیکن ان کے بارے میں اتنا ضرور جانتے ہیں کہ وہ ملک کو دولخت کرنے کی سازش اور سانحے میں ملوث نہیں تھا۔ وہ کارگل کا فتنہ کھڑا کر کے اپنے جوانوں کی پچیس سو لاشیں چھوڑ کر واپس نہیں بھاگا تھا۔ اس نے سیاہ چن کے محاذ پر بھارت کا قبضہ مستحکم نہیں کیا تھا۔ اس نے میمو گیٹ سکینڈل بنا کر اپنی فوج کو بدنام نہیں کیا تھا۔

ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ اس نے اپنے محب وطن جنرلوں کے بارے میں کبھی یہ بیان بھی نہیں دیا کہ دو ہزار بندے دیکھ کر ان جنرلوں کا پیشاب خطا ہو جاتا ہے۔ کیا منظور پشتین نے کبھی یہ الزام لگایا کہ جنرل جب پاور میں ہوتے ہیں تو یہ کسی کتے کو بھی اقتدار کی کرسی پر بٹھا سکتے ہیں؟ کیا منظور پشتین نے فوج پر یہ الزام لگایا کہ وہ الیکشن چوری کرتی ہے؟ کیا اس نے غیر ملکی دورے کے دوران میں یہ اعلان کیا کہ طالبان ہماری فوج نے بنائے تھے؟ کیا منظور پشتین نے کبھی یہ اعتراف کیا کہ اس کے بنائے گئے ہسپتال میں زخمی طالبان کا علاج کیا گیا تھا؟

اگر منظور پشتین نے ایسے بیانات نہیں دیے تو خدارا اس کے اور اس کی تنظیم کے خلاف اس طرح کی کارروائیاں بند کی جائیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *