ریاستی بیانیے کا سوال ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایک جدید جمہوری ریاست کا بنیادی مقصد اور مرکزی نکتہ اس ریاست کے عوام کی فلاح و بہبود ہوتی ہے۔ لہٰذا اس ریاست کا آئین، نظم و نسق، بیانیہ، سب عوامی مفاد کے لئے ہی بنائے جاتے ہیں یا بنائے جانے چاہئیں۔ دنیا کی تمام ترقی یافتہ اقوام خواہ ان کا بیرونی دنیا کے ساتھ رویہ جیسا بھی ہو کم از کم اپنے عوام کی فلاح و بہبود سے غافل نظر نہیں آتیں۔ کیونکہ عوام کسی ریاست کی بنیادی اینٹ یا اکائی ہوتے ہیں۔ اگر یہ کمزور ہوجائیں تو ریاست کمزور ہوجاتی ہے۔

مگر یہ سب دیکھنے کے بعد جب نظر اپنے گھر کی طرف جاتی ہے تو اسے ریاست سے زیادہ ایک وہ کردار پاتی ہے جسے جناب وسعت اللہ خان صاحب نے ایک بخشو کے نام سے موسوم کرکے دریا کو کوزے میں بند کردیا ہے۔ قائداعظم محمد علی جناح کی تمام تر جدو جہد کا مقصد برصغیر کے ان مسلمانوں کی سیاسی و معاشی فلاح و بہبود نظر آتا ہے جو اقلیت تھے۔ اور ایک اکثریت کے استبداد کا شکار تھے۔ ایک اقلیت کے جائز سیاسی حقوق کا تحفظ اصل ترجیح تھی۔

ان حقوق کے انکار کے نتیجے میں مجبوراً تقسیم ہند جیسی بند گلی میں دھکیل دیا گیا۔ بہرحال اس بند گلی میں دھکا دینے والے کون کون تھے یہ تحریر اس بحث کے لئے نہیں۔ مگر دیکھا جائے تو یہ حقیقت تاریخ کے اوراق سے واضح ہے کہ جب پاکستان کا قیام عمل میں آگیا تو اسی دن سے اس ملک کو ایک عوام فلاحی مملکت بنانے کی بجائے ایک بخشو نما ریاست بنانے کے ایجنڈے پر چند نادیدہ مگر طاقتور ہاتھوں نے عمل شروع کردیا۔ قائداعظم کی اگست کی مشہور زمانہ تقریر، جس میں ریاست پاکستان کے اصل بیانئے کو واضح کیا گیا تھا اور اکثریت اوراقلیت کی تفریق کو ختم کرنے کا اعلان کرکے سب کو برابر کے شہری کہہ کر ریاست کے آئین کے لئے عوامی فلاح و بہبود کی اصل سمت متعین کردی گئی تھی۔

مگر اس تقریر کے ساتھ ہی اس خفیہ ہاتھ نے اس تقریر کو سنسر کرنے اور اسے غائب کرنے کی کوشش شروع کردی۔ گویا ابتداء سے ہی یہ کوشش تھی کہ ریاست پاکستان کو عوامی فلاح و بہبود کے راستے پر جانے نہیں دینا۔ بلکہ آغاز سے ہی اس سے کوئی اور ہی کام لینے مقصود نظر آتے تھے۔ لہٰذا ایسے ریاستی بیانیے بنانے کا آغاز کردیا گیا جو ہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ کا مصداق تھے۔ ان مخفی کارروائیوں کا ایک نتیجہ قرارداد مقاصد کی صورت میں پہلی بار سامنے آیا۔

جس میں اسلام کے نام کو استعمال کیا گیا اور ایک لایعنی بیانیہ مذہب کے نام پر عوام کو گمراہ کرنے کی صورت میں سامنے رکھ دیا گیا۔ دوسری طرف جو اصل ضرررساں قدم اٹھایا گیا وہ ایک بار پھر اقلیت اور اکثریت کی تفریق پیدا کرنے کا تھا۔ جب عوام کی تقسیم ان کے مذہب کی بنیاد پر کردی گئی تو دراصل یہی ان کی فلاح و بہبود کو انسانیت کی مشترکہ اکائی سے علیحدہ کرکے مذہبی تقسیم اور تفریق سے جوڑ کر ریاست کی نظریاتی بنیادوں پر پہلا وار تھا۔

صاف ظاہر تھا کہ جب مذہب کو ریاست کے بیانیے میں شامل کیا گیا تو کسے قوت دینا مقصود تھا۔ کیا مسلمانوں کو؟ یا اسلام کو؟ جی نہیں بلکہ ان مولانا حضرات کو جو اسلام کے نام پر اپنی اجارہ داری رکھتے ہیں۔ محلاتی سازشیں بھی کارفرما رہیں۔ پھر اس کے بعد جمہوریت اور جمہوری قدروں کی پامالی کا سلسلہ بھی اس کے ساتھ ہی شروع ہوگیا۔ پھر رفتہ رفتہ جمہور اور جمہوریت کمزور ہوتے گئے اور کچھ ایسے عناصر اور ادارے طاقتور ہوتے گئے جن کے طاقتور ہونے سے عوام کو کوئی فائدہ نہ ہوا۔ بلکہ جن کے طاقتور ہونے سے ریاست کے بخشو کا کردار ادا کرنے کے راستے ہموار ہوتے گئے۔

ملک کی معیشت بھی گویا اپنے پیروں پر کھڑے نہ ہونے دی گئی بلکہ نوٹ دکھا کر موڈ بنانے سے ہی وابستہ کردی گئی۔ ابتدا ء سے ہی ہماری قوم کو جو تعلیم دی گئی اس کے ماخذ سرکاری نصاب تعلیم، دینی مدرسے اور ریاستی اور سیاسی بیانیے ہی رہے۔ ان سب بیانیوں میں اگر نہیں تھا تو عوام اور ریاست کو درست سمت میں لے جانا نہیں تھا۔ کبھی اسلام کا نام استعمال کرکے غیر ریاستی عناصر کو طاقتور کیا گیا۔

اور ان کو بیرونی طاقتوں کی آپس کی لڑائی میں ہتھیار بنا کر استعمال کیا گیا۔ کبھی جمہوریت کو اسلام مخالف نظام سے تعبیر کیا گیا۔ کبھی ریاست کے آئین کو کاغذ کا ٹکڑا کہا گیا تو کبھی اسی آئین کو کسی ایک طبقے کوکافر قرار دینے کے لئے جزوی صحیفہ قرار دے دیا گیا۔ جب کبھی بیرونی ہاتھوں کو کچھ زیادہ ضرورت پڑگئی تو آمریت قائم کروا دی گئی اور جب آمر اثاثے سے بوجھ میں تبدیل ہوگیا تو سیاستدانوں کو طاقت کی گولیاں کھلا دی گئیں اور جمہوریت کے نام پر ایک تماشا چلا دیا گیا۔

بیرونی طاقتوں کے اثاثے مضبوط ہوتے گئے اور ریاست اور عوام کمزور ہوتے گئے۔ حقیقی نظریہ پاکستان کی جگہ دوقومی نظریہ پاکستا ن اور نظریہ ضرورت جیسے نظریوں نے لے لی۔ نصاب تعلیم میں مطالعہ پاکستان اور اسلامیات کو لازمی کرکے اس میں ریاست کی مضبوطی اور عوامی فلاح و بہبود کی تعلیم دینے کی بجائے ایک بخشو ریاست کو پروان چڑھانے والا بیانیہ ہی پڑھایا گیا۔ جس میں جمہوریت، ریاست کی ذمہ داریاں، عوام کے حقوق، عوام اور ریاست کا رشتہ، سچی تاریخ اور سچی دینیات پڑھانے کی بجائے وہ سب پڑھایا گیا جس سے نہ عوام آج تک نہ جمہوریت کا مطلب سمجھ سکے، نہ ریاست کی ذمہ داریوں سے آگاہ ہوئے، نہ عوام کے بنیادی حقوق اور ان کی اہمیت جان سکے، نہ مذہب کی اصل روح سے آشنا ہوسکے اور نہ ہی مذہبی اور معاشرتی آزادیوں سے بہرہ ور ہوسکے۔

اب یہ صورت ہے کہ عوام اور ریاست کی فلاح و بہبود پر مبنی حقیقی اور سچے ریاستی بیانیے کے لئے آواز اٹھانے والے کے لئے دو ہی راستے ہیں، طاقتور حلقوں سے خود پر کافر کا لیبل لگوائیں یا غدار کا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply