ادھوری محبت کے نام آخری خط


ہم دوہری اذیت کے گرفتار مسافر

پاؤں بھی شل ہیں، شوق سفر بھی نہیں جاتا

”اجالا! تمہارا پیمان وفا اب تلک یاد ہے مجھے، اب تک تمہارے اس دلاسے کے سہارے شب و روز گزارتا ہوں کہ ساتھ نہیں چھوٹے گا“

آج کتنا وقت بیت گیا، تمہیں دیکھے ہوئے، تم سے بات کیے ہوئے۔ تم سے لڑے ہوئے تو صدیاں بیت گئیں، تمہارے لوٹ کے آنے کے سب خواب کرچیاں بنی میرے سینے میں چبھتی ہیں۔

سانس لیتا ہوں تو یوں لگتا ہے کوئی آزردہ پیڑ ٹوٹ کے گرنے والا ہے۔ جب میں کبھی سوچتا ہوں تو خود سے سوال کرتا ہوں کہ کاش میں نے تمہیں روک لیا ہوتا، جانے نا دیا ہوتا، مگر پھر خود کو تسلی دے لیتا ہوں کہ جانے والے کو کون روک سکتا ہے؟ تقدیر تو اٹل ہے، برحق ہے۔

جدائی کے ان سالوں میں کافی کچھ بدل گیا ہے۔ وہ کہتے ہیں نا کہ ”تمہارا خیال میرے آس پاس رہتا ہے، کوئی ملال میرے آس پاس رہتا ہے“ لیکن میں خود کو نہیں سدھار پایا۔ میرے اوقات کار، میرے رنگ ڈھنگ وہی ہیں، جو تمہارے ہونے سے تھے، اب بھی ویسا ہوں جیسا تم چھوڑ کر گئی تھی لیکن اب فرق صرف اتنا سا ہے کہ پہلے میں خود کے لئے ہنستا تھا اب دوسروں کے لئے ہنستا ہوں۔ مجھے یہ ماننے میں کوئی عار نہیں کہ تمہاری کمی آج بھی محسوس ہوتی ہے۔ کاش یہ ترک تعلق، ترک محبت کی بھی نوید ہوتا۔

اب تو اپنا شہر بھی بدل گیا ہے، جن ٹوٹی سڑکوں پر تمہیں غصہ آتا تھا، ان کی جگہ کارپٹ روڈ بن گئے ہیں، ساتھ گرین بیلٹس بھی لگ چکی ہیں۔ میں تمہیں کہتا تھا نا کہ یہ سب ٹھیک ہو جائے گا، تم نہیں مانتی تھی۔

وہ کہتے ہیں نا کہ وقت کہ ساتھ انسان کو بدلنا پڑتا ہے، خود کو میں بدلنے کی کوشش کر رہا ہوں۔ وہ ساری چیزیں / باتیں چھوڑ دی ہیں جو تمہیں پسند نہیں تھیں۔ شروع شروع میں مشکل ہوا تھا لیکن اب عادت سی ہو گئی ہے۔ جو کتابیں تم نے recommend کی تھیں، وہ ساری پڑھ لی ہیں۔ کبھی بھی تم مجھ سے فراموش نہیں ہوتی۔ ہر روز آنگن میں اترتی دھوپ کے ساتھ ہی دو کپ چائے کا لطف میں تنہا اٹھاتا ہوں، تمہیں فرض کر کے تم سے بات کرتا رہتا ہوں۔ اب تو لڑائی بھی نہیں کرتا۔ تمہیں میری بڑھی ہوئی شیو نہیں پسند تھی، تو اب ہفتے میں دو بار شیو بنا لیتا ہوں۔

مجھے آج بھی تمہیں لانگ ڈرائیو پر نا لے جانے کا افسوس ہے۔ آج جب بھی ڈرائیو پر نکلتا ہوں تو تم بے تحاشا یاد آتی ہو، کیسے تم سمجھاتی کہ ایسے گاڑی چلایا کرو۔ وہ جگہ جہاں ہم دونوں پاپڑی چاٹ کھایا کرتے تھے، اب تمہارے بنا وہاں جا نہیں پاتا۔ دوست جب اسرار کرتے ہیں تو ہر دفعہ بہانہ بنا لیتا ہوں۔

تمہارے ساتھ بیتے پل آج بھی یاد آتے ہیں، بات کرنے کے لئے ہمیں کیا کیا پاپڑ بیلنے پڑتے تھے۔ مجھے آج بھی یاد ہے کہ تم کیسے اپنے ہاسٹل روم سے باہر آ کر مجھ سے فون پر بات کیا کرتی تھی۔ رات سے صبح ہو جاتی تھی لیکن ہماری باتیں ختم نہیں ہوتی تھیں۔

جب سے تم گئی ہو، چیزیں پہلی جیسی نہیں رہیں۔ اب تو لکھنے کو بھی دل نہیں کرتا۔ لکھتا تو ہوں لیکن وہ بات نہیں جو پہلے تھی۔ میں جب بھی لکھتا تھا، سب سے پہلے تمہیں بھیجتا تھا، تم پسند کرتی تو میں شائع کرواتا تھا۔ اب جب کبھی لکھنے کو دل کرے تو بے دلی سے لکھ لیتا ہوں اور بھیج دیتا ہوں۔

جو تم نے ہاسٹل سے خط لکھے تھے، انہیں فائل میں رکھ کر محفوظ کر لیا ہے۔ صرف تمہاری سالگرہ پر فائل کھولتا ہوں ایک خط پڑھنے کی کوشش کرتا ہوں لیکن پڑھ نہیں پاتا۔ تم کہتی تھی نا کہ ہم ان خطوط کو کتابی شکل دیں گے۔ شاید تم یہ بات بھی بھول گئی ہو۔ کبھی کبھی سوچتا ہوں کہ تم یہ فائل بھی لے گئی ہوتی۔

ان سات سالوں میں، میں جدائی کی وجہ نہیں جان سکا، تمہارا مقصد کچھ اور تھا اور میرے ارداے کچھ اور۔ ہمیں یہ بھی معلوم تھا کہ جس راستے پر ہم نکل پڑے ہیں اس کی منزل کوئی نہیں، تو ہم اس راہ پر چلے ہی کیوں؟ تم تو سمجھدار تھی، تمہیں تو سب معلوم تھا تو تم نے کیوں نہیں روکا؟

مجھے لگتا تھا کہ اس جدائی کی وجہ میں ہوں۔ لیکن کہیں نا کہیں قصوروار شاید ہم دونوں تھے۔

مجھے تم سے کوئی شکوہ نہیں، لیکن جو بات مجھے ازیت دیتی ہے وہ تمہاری خاموشی ہے۔ اگر تم جانے کا فیصلہ کر چکی تھی تو میں تمہیں کبھی نہیں روکتا۔ بس تم سے ایک ہی گلہ ہے کہ تم ہمارے لئے اسٹینڈ تو لیتی۔ تم نے کہا تھا تم سب سے لڑ جاؤ گی۔ تم نے جانا تو تھا ہی۔ کم از کم میرا دل رکھنے کے لئے ہی اپنے الفاظ کا پالن رکھ لیتی۔

پتا نہیں کیوں، لیکن مجھے اتنا یقین ہے کہ تم نے بھی میرے خط محفوظ کر کے رکھے ہیں۔ تم اب بھی انہیں پڑھتی ہو گی۔

مجھے اس بات کی خوشی ہے، تم نے وہ راستہ چنا جو تمہارے نزدیک تمہارے لیے ٹھیک ہے۔ شاید میں نے تم سے محبت بھی اسی خوبی کی بنیاد پر کی تھی۔ کہ تم بھی میری طرح اپنی ضد کی پکی تھی۔ جو فیصلہ کر لیتی تھی اس پر قائم رہتی تھی۔

میں تمہیں ہمیشہ کہتا تھا، اس دنیا میں دو دلوں کا ملاپ ممکن نہیں۔ تم ہمیشہ مجھ سے اس بات پر لڑتی تھی۔ لیکن دیکھو، میں صحیح تھا۔ اگر تم اپنے اس فیصلے سے خوش ہو تو میں بھی خوش ہوں۔ مجھے یقین ہے تم اپنے اس فیصلے پر مطمئن ہو۔

یہ آخری خط ہے جو میں تمہیں لکھ رہا ہوں۔ میں بہت تلملایا ہوں فرسودہ روایات پہ، مگر میں ان کو بدلنے کی سکت نہیں رکھتا، اب اس کے بعد مجھ میں مزید لکھنے کی ہمت نہیں۔ ہو سکے تو پڑھ لینا۔ اور ہاں۔ مجھے جواب مت دینا۔ تم نہیں لکھ پاؤ گی۔ یہ یادوں کا بوجھ بڑا وزنی ہوتا ہے۔ میں نہیں چاہتا کہ تم مزید یہ بوجھ اٹھاؤ۔

اگر کبھی میری یاد آئے۔ تو وہ پاپڑی چاٹ کھا لینا۔ اور مسکرا لینا۔ تم ہمیشہ کی طرح، مجھے اپنے پاس پاؤں گی۔ لیکن ہم بات نہیں کر پائیں گے۔

”تم نے تو کہا تھا کہ بے فکر رہنا، ساتھ نہیں چھوٹے گا“

فقط۔ تمہارا اور صرف تمہارا۔

Facebook Comments HS

ڈاکٹر شافع صابر

ڈاکٹر شافع صابر سر گنگا رام ہسپتال لاہور میں، آرتھوپیڈک سرجری میں پوسٹ گریجویٹ ٹریننگ کر رہے ہیں

shafay-sabir has 70 posts and counting.See all posts by shafay-sabir