نواز شریف کے فواد حسن فواد اینڈ کو


عائشہ مخدوم سول سروسز کی انتہائی دیانتدار اور محنتی افسروں میں سے ایک ہے لیکن نواز شریف کی ”دیانتدار“ حکومت میں بھی اس کے ساتھ وہ کچھ ہو تا رہا جو عمران خان کی حکومت اسی طرح کے دیانتدار اور محنتی افسروں کے ساتھ کرتی چلی آرہی ہے۔

گویا حکومت کسی کی بھی ہو لیکن ہر اس افسر اور سرکاری اھلکار پر زمین تنگ کر دی جاتی ہے جو ناجائز حکم ماننے کی بجائے اصول اور ضوابط کو شعار بنائے۔

دو ہزار تیرہ کے آغاز میں عائشہ مخدوم سویڈن (سٹاک ہوم ) میں پاکستانی سفارت خانے میں ٹریڈ افسر کی حیثیت سے تعینات ہوئی تو آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا دیکھا ایکسپو اور بزنس پروموشن کے نام پر ذاتی کاروباری معاملات پیسے کا کھیل اور دوستوں، عزیزوں کے سیر سپاٹے کا بازار گرم تھا۔ اس گھناؤنے عمل میں سفارت خانے کے ذمہ دار لوگ پیش پیش تھے لیکن در حقیقت وہ اسلام آباد میں بیٹھے بعض طاقتور لوگوں کے ہمراز بھی تھے اور ہمرکاب بھی۔

عائشہ مخدوم نے معاملات کی تفصیلی جانچ پڑتال کی اور اس کی تہہ تک پہنچی تو اپنی اصول پسندی اور مزاج کے مطابق سختی کے ساتھ اسے میر ٹ اور اصول وضوابط کے دائرے میں لانا شروع کیا بزنس پروموشن پروگراموں اور ایکسپو سے غیر متعلقہ لوگوں کو الگ کر کے اسے متعلقہ لوگوں اور پروفیشنلز تک محدود کر دیا ساتھ ساتھ پیسے کی لین دین میں بھی شفافیت لے آئی لیکن اس کے ساتھ ہی عائشہ کے برے دن بھی شروع ہوئے۔

سٹاک ہوم میں معین پاکستانی سفیر سے لے کر وزیراعظم سیکرٹریٹ اسلام آباد کے طاقتور ترین بیوروکریٹ تک اس  کے دشمن بن گئے۔

کچھ دن بعد وزیراعظم کے پولیٹیکل سیکرٹری (آصف کرمانی ) بذات خود سویڈن تشریف لے گئے جہاں وہ معاملات کو ”راہ راست“ پر لانے کی کوشش کرنے لگے ساتھ ساتھ کلبوں اور شاپنگ کے ”مواقع“ بھی تلاش کرتے رہے۔

مشیر صاحب کو جلد ہی احساس ہوا کہ خاتون افسر کسی طور غلط حکم ماننے پر تیار نہیں تو اس نے فوری طور پر وزیراعظم کے پرنسپل سیکریٹری فواد حسن فواد کو پیغام بھیج دیا جس نے وقت ضائع کیے بغیر انکوائری کا حکم دیا۔

گریڈ بیس کے ایک بیوروکریٹ کے خلاف انکوائری تو ایک معمول کی بات تھی لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ ایک سینئر اور ذمہ دار سول سرونٹ کے خلاف انکوائری کوئی سینئر آفسر نہیں بلکہ ایک سیاسی آدمی (آصف کرمانی ) کررہا تھا جو وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری فواد حسن فواد کے ساتھ رابطے میں تھا۔

یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر کوئی تحفظات یا اندیشے تھے بھی تو پھر متعلقہ وزارتوں یعنی وزارت خارجہ اور کامرس ڈویژن کو کیوں تمام معاملے سے الگ رکھا گیا۔

سوال یہ بھی ہے کہ وزیراعظم فواد حسن فواد اور پولیٹکل سیکرٹری آصف کرمانی کیوں اس معاملے میں اتنی زیادہ دلچسپی لے رہے تھے۔

بہرحال کچھ دنوں بعد عائشہ مخدوم کو واپس اسلام آباد بلا لیا گیا (گویا راستے کی دیوار گرا دی گئی )

اس دوران ”انکوائری افسر“ نے اپنی انکوائری رپورٹ وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری کے سامنے رکھی، جس نے فوری طور پر اسے سیکرٹری کامرس ڈویژن کو اس پیغام کے ساتھ بھیجا کہ خاتون آفسر کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے، سیکرٹری کامرس ارباب شہزاد نے رپورٹ دیکھی تو اس میں نہ کرپشن کا ذکر تھا نہ بے ضابطگی کا نہ بے اصولی کا نہ میرٹ کی پامالی کا بلکہ رپورٹ کی تان اسی پر ٹوٹی کہ یہ افسر خود سر اور بد تمیز ہے لیکن سیکریڑی کامرس نے پھر بھی احتیاط کے طور پر عائشہ مخدوم کی پر سنل فائل منگوائی تو وہ اس کی ایمانداری اور کارکردگی پر حیران رہ گیا، خصوصًا اپنے پیشرو (سیکریٹری کامرس) کے اس خط پر جو کچھ عرصہ پہلے اس نے عائشہ مخدوم کی کارکردگی اور ایمانداری کے حوالے سے اس وقت کے وزیراعظم کو لکھا تھا۔

ظاھر ہے اس کے بعد انکوائری رپورٹ کے فائل کی جگہ ایک ڈسٹ بن ہی تھا اور سیکریٹری کامرس نے ایسا ہی کیا۔

لیکن اس تمام عرصے میں دیانتدار خاتون افسر اپنے شوھر (جوخود بھی ایک ذمہ دار آفسر ہے اور جس نے وحشت انگیز دنوں میں دہشت گردوں کا دم خم نکال کر رکھ دیا تھا ) اور بچوں سمیت کس عذاب سے گزرتے رہے وہ بھی فقط اس لئے کہ اس نے کرپشن اور بے ضابطگی کو روکنے کی جرات کی تھی اور تو اور فواد حسن فواد کے ایک خود ساختہ گاڈفادر اور لفظوں کے کاریگر بھی ایک منصف کی عزیزداری کا فائدہ اٹھا کر اس مظلوم آفسر کی درخواست کو ٹھکانے لگا چکا تھا لیکن اللہ تعالی واقعی انصاف کرنے والا ہے کیونکہ اس وقت کی وہ مظلوم خاتون آفسر اس وقت ایک ذمہ دار عھدے پر ہیں جبکہ سازشی اور متکبر ٹولہ نہ صرف در در ٹھوکریں کھا رہا ہے بلکہ ایک مذاق بھی بن کر رہ گئے ہیں کیونکہ ایک نے تو اپنی چند گھنٹے کی قید پر درجن بھر کالم بھی لکھے لیکن یہ نہیں بتایا کہ فوری رہائی کے اصل ”محرکات“ کیا تھے۔

Facebook Comments HS