جھیل سکو گاگ اور جنگلی پھولوں کا دیس(سفر نامہ کینیڈا 4 )۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

15 جولا ئی 2019 ء کا ناشتہ سکوگاگ جھیل Lake Scugog پر کرناتے پایا تھا۔ سکو گاگ جھیل کا ساحل پورٹ پیری Port Perryکہلاتا ہے۔ جو وھٹبی (Whitby) سے بیس منٹ کی کار مسافت پر ہے۔ ہمارے میزبان خالد سہیل صاحب نے بتایا کہ ان کی زندگی میں کچھ کردار ایسے ہیں جو ان کی زندگی کے سفرمیں ان پر اثر انداز ہوئے۔ ان کرداروں میں ایک کردار ایساہے جو انسان نہیں ہے۔ اور وہ کردار ہے : جھیل سکوگاگ۔ اس جھیل سے ڈاکٹر صاحب کا ادبی رشتہ ہے۔ انھوں نے بتایا: ”میں نے اس جھیل کے کنارے ایک شاہ بلوط کے درخت کے نیچے بیٹھ کر کئی کہانیاں، نظمیں اور کتابیں لکھی ہیں۔

اس پُرسکون اور قدرے کم سن جھیل کی خاص بات جھیل کنارے پارک میں نصب ایک مجسمہ ہے۔ یہ مجسمہ مشہور ماہر معالج ڈیوڈ پامیر David Palmer کا ہے۔ جو پیشے کے لحاظ سے کائرو پریکٹک تھے۔ کائروپریکٹک Chiropractic ایک طریقہ علا ج ہے، جس میں ہاتھوں کی مدد سے شکستہ یا نیم شکستہ ہڈیوں کو دوبارہ برابر کیا جاتا ہے۔ عام زبان میں پہلوانی طریقہ علاج۔ یعنی بغیر سرجری کیے اترے ہوئے ہڈیوں کے جوڑ دوبارہ بحال کرنا۔ اس کے علاوہ گردن اور کمر کے درد کا علاج اورکمر کے مہروں کی سیدھائی ہاتھ کی مالش سے درست کرنا وغیرہ۔ دیوڈ پامیر کو اس طریقہ علاج کا بانی سمجھا جاتا ہے۔ پامیر 18 ستمبر 1845 ؁ ء کو پورٹ پیری Port Perry کے مقام پر پیدا ہوئے۔ ان کے مجسمے کے نیچے ان کا مشہور قول کنندہ ہے : ’مجھے زندگی میں کبھی بھی کوئی ایسا کام کرتے ہوئے عار محسوس نہیں ہوئی، جس سے کسی انسان کا قرب کم ہوتا ہو۔ ”

( ”I have never considered it beneath my dignity to do anything to relieve human suffering۔ “ )

ڈیوڈ پامیر 20 اکتوبر 1913 ؁ء کو وفات پا گئے اور پورٹ پیری میں ہی دفن ہیں۔ ان لمحات میں ہمیں راولپنڈی میں باڑہ بازار کی بغل میں موجود رنگساز استاد ریاض یاد آئے۔ جو راولپنڈی میں کائرو پریکٹک طریقہ علاج میں اپنا ثانی نہیں رکھتے۔ استاد ریاض جوڑوں اور کمر کی درد سے بیکل افراد کو نہ صرف ڈاکٹروں کی بھاری بھرکم فیس سے بچاتے ہیں، بلکہ تکلیف دہ سرجری سے بھی محفوظ رکھتے ہیں۔ مگرہم تو ٹھہرے نا قدرے لوگ۔ مجسمہ اورحوصلہ افزائی تو کجا۔

مریض اپنا کام کروا کر اپنی راہ لیتے ہیں۔ کسی کو کبھی یہ تک پوچھنے کی توفیق نہیں ہوتی کہ ”حضور آپ کے اپنے شب و روز کیسے گزرتے ہیں؟ “ ہم جدید طب اور میڈیکل سائینس کے خلاف نہیں۔ مگر فیزیو تھراپی اور کائرہپریکٹک کی اہمیت سے انکار بھی ممکن نہیں ہے۔ اس طریقہ علاج کے ماہرین کی حوصلہ افزائی ہونی چاہیے۔

سکو گاگ جھیل کے کنارے واقع ایک ریسٹورنٹ کے باہر دھوپ میں بیٹھ کر ناشتہ کیا۔ اس دوران ہم لوگ وہاں کے باشندوں کی بود و باش اور طرز زندگی بارے گفتگو کرتے رہے۔

سہ پہر 2 بجے ہمارا انٹرویو طے تھا۔ جو نامور آرٹسٹ شاہد شفیق نے ریکارڈ کیا۔ یہ انٹرویو ہمارے میزبان ڈاکٹر سہیل نے لیا جو ان کے کلینک کی لائبریری میں ایک خوشگوار اور آرام دہ ماحول میں ریکارڈ ہوا۔ شاہد شفیق ایک ملنسار، ہونہار اور توانائی سے بھرپور نوجوان ہیں۔ وہ کیمرے کی بیٹریاں اور لائٹس براجمان کرتے ہوئے کسی بھی موضوع پر سیر حاصل گفتگو کر سکتے ہیں۔ درویشوں کا ڈیرہ ا ور Dervishes Inn کا فرنٹ اور بیک کو رCover بھی شاہد رفیق نے ہی ڈیزائن کیا ہے۔

شام کو کھانے کی دعوت ہمیں شاعرہ ثمینہ تبسم نے دے رکھی تھی۔ اس کے لیے قریب سات بجے، ٹورنٹو کے مضافات میں بریمٹن Bramton پہنچے۔ محترمہ ثمینہ تبسم ایک معلمہ ہیں اور ٹورنٹو میں 15 سال سے مقیم ہیں۔ کینیڈا ہجرت سے قبل وہ پاکستان میں مختلف تعلیمی اداروں سے وابستہ رہنے کی وجہ سے شعبہ تعلیم کے علوم و رموز پر خاصی دسترس رکھتی ہیں۔ اس کے علاوہ وہ ایک باکمال شاعرہ بھی ہیں۔ ہم نے اپنی دونوں کتابیں ثمینہ صاحبہ کی خدمت میں پیش کیں۔ خوب باتیں ہوئیں۔ ثمینہ تبسم کی شاعری، خالد سہیل کی دلچسپ گفتگو، مئے ناب، سلاد، مچھلی اور بھیڑ کی گرل کے ساتھ یہ شام بھی بہت یادگار رہی۔

اگر ہم سے پوچھا جائے کہ ہمارے وطن اور کینیڈا میں فرق ایک فقرے میں بیان کریں تو یہ کہیں گے ”وہاں قانون کی حکمرانی ہے اور یہاں قانون پر حکمرانی ہے۔ “

کینیڈا میں حکومت اور پولیس کہیں نظر نہیں آتی ہے مگر قانون ہرجگہ نظر آتا ہے۔ ہمارے ہاں حکومتی مشینری، وزیر، مشیر اور قانون نافذ کرنے والے ادارے جا بجا نظر آتے ہیں۔ مگر قانون نظر نہیں آتا۔ ہمارا قانون ان کی خدمت و مدارت کرتا کرتا اب اتنا لاغر ہو چکا ہے کہ اس کو جس طرف چاہیں موڑ لیں۔

زندہ قومیں قانون اور انصاف کے بل بوتے پر زندہ رہتی ہیں۔ ان کا ضابطہء حیات ان کی سرزمین کا قانون ہوتا ہے۔

شمالی امریکا ایسے دیشوں میں سے بڑے سے بڑا حکومتی عہدیدار بھی قانون سے بالاتر نہیں ہے۔ وزیر اعظم سے لے کر سینیٹری ورکر تک قانون کے دائرے کے اند رہ کر کام کرتے ہیں۔

3 کروڑ 5 لاکھ نفوس پر مشتمل کینیڈا رقبے کے لحاظ سے دنیا کا دوسرا بڑا ملک ہے۔ یہ براعظم شمالی امریکہ کے ایک بڑے حصے پر محیط ہے۔ بحر اوقیانوس سے لے کر بحر منجمد شمالی تک پھیلے کینیڈا کی زمینی سرحدیں امریکہ کے ساتھ جنوب اور شمال مغرب کی طرف سے ملتی ہیں۔ برطانوی اور فرانسیسی کالونی بننے سے قبل کینیڈا میں قدیم مقامی لوگ رہتے تھے۔ جن کوAboriginal کہا جاتا ہے۔ یہ لوگ ٓج بھی موجود ہیں اور اپنی مخصوص حرکات و سکنات کی وجہ سے دور سے پہچانے جاتے ہیں۔

رنگ و نسل کے اعتبار سے یہ قدیمی باشندے ایشیائی لگتے ہیں۔ حکومت سے معقول وظیفے، رہائش اور دیگر بہترین سہولتوں کی فراہمی کے باوجود یہ لوگ نالاں و ناراض سے نظر آتے ہیں۔ ان کے چہرے پر عیاں بے چینی یہ کہتی نظر آتی ہے : ”ہم قدیم قبائلی طرز زندگی خوش تھے اور اس میں ہی رہنا چاہتے تھے ان بدیسیوں نے ان کے ملک میں آکر ترقی و خوشحالی کا ڈھول کیوں ڈالا؟ ہمیں بے آرام کیوں کیا؟ “ اقبال کے اس شعر کے مصداق:

طرز کہن پہ اڑنا، آئین نو سے ڈرنا

منزل یہی کٹھن ہے، قوموں کی زندگی میں

اگلے روز ٹورنٹو سے مزید شمال مغرب کی جانب بذریعہ ہوائی جہاز کیلیگری Calgary کے لیے روانہ ہوئے۔

کیلگری، صوبہ البرٹا Alberta کا شہر ہے۔ اور ”جنگلی پھولوں کا دیس“ کہلاتا ہے۔ کیونکہ یہاں جنگلی پھول فراوانی سے کھلتے ہیں۔ یہاں کے لوگ بہت نرم خو، نفیس اور دھیمے مزاج کے حامل ہیں۔ وقت کا پہیہ ذرا آہستہ چلتا ہے۔ کسی کو کسی کام کی جلدی نہیں ہے۔ ۔ شہر کے وسط میں ایک خوبصورت اور شفاف دریا۔ بو ریور Bow River بہتا ہے۔ ہوائی سفر قریب چار گھنٹے کا تھا۔

ہم نے کیلگری ائیر پورٹ سے بس لینے کا فیصلہ کیا جو ہمیں ایک ا ٓدھ ڈالر میں ائیرپورٹ سے مرکز شہرDown Town لے آئی۔ جہاں پر ہماری بیٹی کا گھر ہے۔ کیلیگری میں جولائی میں ہم نے دسمبرر کے مزے بھی لیے۔ کیونکہ درجہ حرارت ان دنوں بارہ سے پندرہ ڈگری سنٹی گریڈ تھا۔

ہماری پرانی عادت ہے کہ کسی شہر میں داخل ہوتے ہی اس کی بڑی لائبریری کا رخ کرتے ہیں۔ یوں عادت کے پہلے دن ہی کیلگری پبلک لائبریری پہنچے۔ نئی تعمیر شدہ لائبریری چار فلور پر مشتمل اور فن تعمیر کا نادر نمونہ ہے۔ لائبریری کے اندر آپ کو کتاب تلاش کرنے کے لئے کسی کی مدد کی ضرورت نہیں۔ جگہ جگہ نصب ڈیسک ٹاپ کے سامنے سمارٹ کرسی پر بیٹھ کر اپنی مطلوبہ کتاب تلاش کر لیں۔ اور شیلف پر جا کر وصول کر لیں۔ مکمل سکوت، مکمل سکون اور مکمل خاموشی۔

ھمارے اندر اچانک اپنی The Incredible Pakistani Short Stories اور Dervishes Inn کیلگری عوامی لائبریری کے شیلف پر دیکھنے کی تمنا عود کر آئی۔ اس تمنا کو لے کر پوچھتے پوچھتے لائبریری سپروائزر کے پاس پہنچے۔ لائبریری سپروائزر نے گرم جوشی سے استقبال کیا اور جب ہم نے ان سے اپنا تعارف بطور ایک مترجم اور لکھاری کروایا تو ان کا چہرہ خوشی سے اور بھی کھِل اُٹھا۔ جس سے ہمیں بخوبی اندازہ ہوا کہ مغرب میں لکھنے والوں کو کس قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔

وہ ہمیں بیٹھنے کا تو نہیں کہہ سکتے تھے کیونکہ کینیڈا، امریکہ اور دوسرے مغربی ممالک میں، کام کرنے کی جگہ پر مہمان نوازی کے لیے کوئی کرسی نہیں ہوتی۔ انہوں نے فوراً کمپیوٹر آن کیا اور کچھ ریسرچ کرنے کے بعد مجھے اپنا تعارفی کارڈ دیتے ہوئے ہدایت کی کہ ہم اپنی گزارش ان کی ای میل کے ذریعے کریں۔ لائبریری خود کوئی کتاب مفت یا قیمتاً نہیں لے سکتی۔ یہ کام لائبریری کا محکمہ کتب کرتا ہے۔ اور ایک کمیٹی ہے جو کتابوں کا انتخاب کرتی ہے۔ یوں ہر کتاب لائبریری میں نہیں رکھی جا سکتی۔

ہم نے اس پر عمل کیا اور ساری تفصیلات برقی چٹھی میں لکھ بھیجیں۔ اور جواب کا انتظار کیاکئے۔ مگر زیادہ انتظار نہ کرنا پڑا۔ اگلے روز ہماری بیٹی کو لائبریری اپنا کام تھا۔ ہم نے فکشن سیکشن دیکھنا شروع کیا اور یہ جان کر خوشی ہوئی کہ وہاں پر ہمارے پسندیدہ ادیبوں کی کتب موجود تھیں۔ ان میں خوشونت سنگھ، ایلف شفق، خالد حسینی، آرون دھتی رائے اور باپسی سدھوا سرفہرست ہیں۔ اس کے علاوہ محمد الیاس کا ناول ’پروا اردو سیکشن میں رکھا دیکھ بے حد خوشی ہوئی۔ اور یہ اندازہ ہوا کے مشرق کے نامور لکھاریوں کی بھی مغرب میں کتنی توقیر اور قدر و منزلت ہے۔

اس اثناء میں ہماری ملاقات لائبریری سپروائزر سے ہو گئی۔ انہوں نے پُرتپاک مصافحہ کیا اور معذرت کی کہ گزشتہ روز ان کا آف ڈے تھا اس لئے ہمارا برقی مکتوب نہیں دیکھ سکے اور آج صُبح انہوں نے کلیکشن ڈیپارٹمنٹ میں سیلیکٹرز کو خط لکھ دیا ہے۔ وہ دونوں کتابوں کو دیکھ کر بہت خوش ہوئے۔ ہمیں اگلے روز ان کا برقی خط بھی موصول ہو گیا جس میں انہوں نے ہمیں نوید سنائی کہ ہماری دونوں کتب ان کی لائبریری کے فکشن سیکشن کی زینت بن چکی ہیں۔

وہیں سے ٹرین لے کر یونیورسٹی آف کیلیگری پہنچے۔ جہاں ہماری ایک ادبی دوست اور ہماری ہمشیرہ کی قائد اعظم یونیورسٹی کے زمانے کی ہم جماعت ڈاکٹر سائرہ بانو اپنی دو بیٹیوں اور شوہر نامدار اظہر ڈار کے ساتھ رہائش پذیر ہیں۔ انہوں نے اس یونیورسٹی سے بین الاقوامی امور میں پی ایچ ڈی کر رکھی ہے۔ اور اب یونیورسٹی آف کیلیگریUniversity of Calgary اور ماؤنٹ رائل یونیورسٹی Mount Royal University میں پڑھاتی ہیں۔ فکشن شوق سے پڑھتی ہیں۔ ان کو ہم نے دونوں کتب پیش کیں۔ سائرہ بہت خوش ہوئیں اور ہماری کتب یونیورسٹی آف کیلگری کی لائبریری میں رکھوانے کا عہد بھی کیا۔ اس سے قبل وہ ہماری کتاب ٹریس پاسTrespass کیلگری پبلک لائبریری میں رکھوا چکی ہیں۔ ان کے بقول اس کتاب کو وہاں کے قارئین نے بہت سراہا ہے۔

کافی دنوں بعد لنچ میں گھریلو، پاکستانی چکن کڑھائی، تندوری چپاتی کے ساتھ بہت بھلی معلوم ہوئی۔ اس کے ساتھ اس خوبصورت جوڑے کی گزشتہ دس سالہ محنت و کاوش کی کامیاب کہانی سے محظوظ ہوتے رہے۔

یہ ایک اور خوبصورت دن تھا۔ واپسی سفر میں دریائے بو (Bow) بہت خوبصورت منظر پیش کر رہا تھا۔ جب اظہر بھائی مجھے واپس بیٹی کے گھر چھوڑنے آ رہے تھے تو بتا رہے تھے کہ یہاں سیر کرنے کا یہ بہترین موسم ہے جون، جولائی اور اگست میں کیلگری بہت پُر رونق مناظرپیش کرتا ہے۔ لوگ دریائے بو، پر ٹراؤٹ مچھلی کا شکار کرتے اور کشتی رانی کرتے نظر آئے۔ دریا کا پانی بہت شفاف اور نیلا تھا۔ اظہر بھائی نے بتایا کہ کیلگری میں Calgary Stampede کے نام سے ہر سال جولائی میں ایک میلہ لگتا ہے۔ اس میں گھوڑوں کا مارچ، زرعی نمائش، رقص و سرور، محفل موسیقی اور مزاحیہ سٹیج شوز منعقد ہو تے ہیں۔

اگلا دن دریائے بو میں کشتی رانی اور مچھلی شکار کا تھا۔ ہم کوئی ٹراوٹ تو نہ پکڑ سکے۔ مگر کشتی رانی بہت پر لطف رہی۔

کوئی سیاح کیلگری میں موجود ہو اور بینف Banff اور جھیل لوئیز Lake Louise کی سیر نہ کرے تو بات کچھ بنتی نہیں ہے۔ اس خواب کی تعبیر کے لئے اگلے روز ہم بینف کے لیے بذریعہ کار روانہ ہوئے۔ بینف Banff، کیلگری سے 75 میل مغرب میں واقع ایک دشوار گزار پہاڑی علاقہ ہے۔ جھیل لوئیز سردیوں میں جمی رہتی ہے۔ ہمیں ان دنوں صاف شفاف اور پگھلی ہوئی ملی۔ میلوں پر پھیلی جھیل لوئیز شمالی پہاڑوں سے جا ملتی ہے۔ یوں سیر کو آئے لوگ بیک وقت، کشتی رانی، مچھلی کا شکار اور کوہ پیمائی کر سکتے ہیں۔

ینف Banffیوں تو ایک چھوٹا سا خوبصورت اور خاموش سا قصبہ ہے مگر اس کی خاص بات اس کے اندرمیں واقع پتھر وں سے بنا ایک آٹھ منزلہ، سو سال پرانا بینف سپرنگ مانٹ ہوٹل ہے۔ ہماری بیٹی نے بتایاکہ برفانی پہاڑوں کے دامن میں چیڑ اور دیودار کے گھنے جنگل میں گھرے اس تنہا ہوٹل کی روداد بہت دلچسپ ہے۔

تقریبا سوا سو سال پہلے ان دشوار گزار پہاڑوں کے اندر و اندر ریل کی پٹڑی بچھائی گئی۔ جب ریل کی پٹڑی بچھائی جا رہی تھی تو کایگروں اور مزدوروں کو ایک آرا م دہ رہائش کا مسئلہ درپیش تھا۔ ان عجیب و غریب لوگوں نے سب سے پہلے ایک سرائے نما عمارت تعمیرکی۔ جو سنگ و خشت اور لکڑی کو استعمال میں لا کر بنائی گئی تھی۔ بعد میں سیاح بھی آ کر یہاں ٹھہرنے لگے اور وہ چھوٹی سی سرائے ارتقائی منازل طے کرتی ہوئی ایک شاندار ہوٹل کی شکل اختیار کر گئی۔ آج یہ ایک آٹھ منزلہ فایؤ سٹار ہوٹل ہے۔

سو سال پہلے بنے اس ہوٹل میں آج تک ذرہ بھر نقص دیکھنے میں نہیں آیا۔ حالانکہ ان برف زدہ پہاڑیوں کے دامن اور جنگل میں گھرے اس ہوٹل کی تنہا عمارت نے کتنے زلزلے، ماحولیاتی تبدیلیاں اور قدرتی آفات نہ سہی ہوں گی؟ ہم نے ہوٹل کے تہ خانے میں موجود گفٹ شاپس سے چھوٹے موٹے یادگاری تحفے خریدے۔ زمینی منزل کی لابی میں ایک پیانو بجانے والی خوب رو خاتون سے فرمائش کر کے بلبل ایران، مادام گوگوش کا مشہور نغمہ : ”من آمد ام، کہ عشق فریاد کنند۔ ۔ ’۔ ‘ کی دھن بھی سنی۔

ہم کافی دیر تک پورے ہوٹل میں گھوم پھر کر اس کو چشم حیرت سے دیکھا کیے۔

اس دن ہم اپنی تہذیب کے نرگسیت زدہ (زاہد حامد) قسم کے دانشوروں کے سہانے خوابوں بارے میں دل ہی دل میں مسکراتے رہے، جو اپنی ہوائی قوت ایمانی کے بل بوتے پر ایسی قوموں کو فتح کر نے کی باتیں کر کے سادہ لوح عوام کو بے وقوف بناتے ہیں۔

(جاری ہے ) ۔ ِِِِِِ

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply