ہر کہانی کا ہیرو شاہ رُخ خان نہیں ہوتا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اس کہانی کا مرکزی کردار ”وہ “ہے۔ایک عام آدمی۔”وہ“مَیں بھی ہوسکتا ہوں ،آپ بھی اور سنجے مشرا بھی۔لیکن عام آدمی جینے کا ہنر پالے تو وہ عام نہیں رہتا۔عام آدمی وہی ہوتے ہیں جو زندگی جی نہیں ،ذمہ داری نبھارہے ہوتے ہیں۔

 ”وہ“کے مطابق،اُس کی شادی ایسی جگہ ہوتی ہے ،جہاں دونوں خاندان سماجی مرتبے میں برابر نہیں ہوتے۔شادی ہوجاتی ہے کیونکہ بیوی کی ماں کو لڑکایعنی”وہ“پسند آجاتا ہے۔آخرلڑکا پسند کیوں نہ آتا؟ شریف لوگ آسانی سے کہاں ملتے ہیں؟لو میرج نہ سہی ،مگر اس میرج میں پیار تو تھا۔چینی کا آدھا چمچ ہی سہی….“جب ”وہ “یہ سب بتارہا ہوتا ہے ، اُس کی بیوی چائے میں آدھا چمچ چینی ڈالتی پائی جاتی ہے۔

یہ صبح کا وقت ہے۔”وہ“بستر چھوڑ کر دفتر جانے کی تیاری میں لگا ہوتا ہے ،بیوی ٹفن تیار کررہی ہوتی ہے ،جبکہ بیٹی باہر، باپ کا انتظار کھینچ رہی ہوتی ہے ۔”وہ “ دفتر جانے سے پہلے بیٹی کو کالج چھوڑتا ہے۔

”وہ “روزانہ گھر سے نکلتے ہوئے پوچھتا ہے ” ٹفن ریڈی ہے؟“کچن سے جواب آتا ہے” ریڈی ہے“

”وہ“باہر کی اُور ہولیتا ہے ،بیوی پیچھے بھاگتی جاتی ہے اور کھانے کا ٹفن سکوٹر کے ہیندل سے لٹکادیتی ہے۔بیٹی سکوٹر کے پیچھے بیٹھ جاتی ہے ۔”وہ“چل پڑتا ہے۔دوپہر کو بیٹی اکیلی واپس آجاتی ہے ،”وہ “شام کو لوٹتا ہے ،بیوی دروازے پر ویلکم کرتی ہے ،اندر آکر لنگی دیتی ہے ،ساتھ ہی جمی ہوئی برف لادیتی ہے۔یہ روزانہ کا معمول ہے۔دِنوں کا پھیر جاری رہتا ہے ۔دیوار پر لٹکا کیلنڈر برسہا برس سے لٹکا پایا جاتا ہے ۔صحن کے بیچوں بیچ چولہے سے اُٹھنے والے دھویں کی گرد سے تاریخ دھندلاچکی ہوتی ہے۔

”وہ“ایک دِن دفتر سے آتے ہوئے، راستے سے چکن لیتا آتا ہے ، بیوی نے چاول بنائے ہوتے ہیں ، چکن بیوی کے حوالے کرکے کہتا ہے ” آج یہ بنا لو،چاول کل کھا لیں گے“گھر کے صحن میں سیڑھی پڑی ہوتی ہے ،” کہتا ہے” اس کو ہٹاﺅ،گھر کو کچھ صاف کرو ،فلاں صاحب لڑکی دیکھنے آرہے ہیں “بیوی پوچھتی ہے” کس کی لڑکی ؟“”اپنی اور کس کی ؟لڑکا اچھا ہے سرکای ملازم ہے ،بیٹی راج کرے گی،مَیں نے تو ہاں کردی ہے“”وہ“ بتاتا ہے۔اچانک دہلیز پر کھڑی لڑکی حیران ہو کر پوچھتی ہے” پاپا! آپ نے ہاں کردی ہے؟“جواب ملتا ہے” ہاں “لڑکی کی حیرانی برقراررہتی ہے” آپ نے مجھ سے پوچھا ہی نہیں؟ مجھے ابھی شادی نہیں کرنی“یہ سن کر۔”وہ“ کہتا ہے ” کب کرو گی شادی ،جب لڑکے ملنا بند ہوجائیں گے؟“دونوں ماں بیٹی ایک دوسرے کی طرف دیکھتی ہیں اور بیٹی کہتی ہے ” ممی ،بتاﺅ میری عمر کیا ہے ابھی؟“

”وہ“پہلے ہی بول اُٹھتاہے ”تمہاری عمر میں تمہاری ممی ماں بن گئی تھی“لڑکی کی ماں کہتی ہے ”وہ زمانہ اور تھا۔اب زمانہ بدل گیا ہے ،کم سے کم اس سے پوچھ تو لیتے ،ابھی یہ کالج جارہی ہے “۔”وہ“”ہم سے کسی نے پوچھا تھا؟نبھا رہے ہیں ناں !چوبیس سال سے۔ایک دوسرے کے ساتھ“پھر بیٹی کو مخاطب کرکے کہتا ہے ” یہ گھر سنبھالتی ہے ،مَیں دفتر جاتا ہوں۔اس نبھانے کو کہتے ہیں شادی،تم کو بھی یہ سب کرنا پڑے گا“بیٹی غصے سے اندر چلی جاتی ہے۔

بیوی پاس آکر سمجھانے کے انداز میں کہتی ہے” آج کل کے بچے ویسے نہیں ،گھر سے بھاگ گئی تو معلوم پڑے گا“”وہ “تعجب سے ”کیسے بھاگ جائے گی؟کھاتا ہوں ،پلاتا ہوں ،دن رات کمانے پر لگا رہتا ہوں ، پالا پوسا ہے ،بڑا کیا ہے ،پڑھارہا ہوں ،کیسے بھاگ جائے گی؟“پھر بیٹی کو آواز دے کر کہتا ہے ” بتاﺅ! اپنی ممی کو کہ تم بھاگ کر شادی نہیں کروگی؟“ بیٹی ،کوئی جواب نہیں دیتی۔

”وہ“غصے سے بیوی سے پوچھتا ہے” برف جمائی ہے کہ نہیں ؟“جواب ملتا ہے ”روز تو جماتی ہوں“

اس کے بعد”کہانی گھر “ کے تینوں کردار ایک دوسرے سے نالاں پائے جاتے ہیں۔

کئی دِن بعد بیوی بازار جاتی ہے اورشوہر کے لیے ٹی شرٹ خرید لاتی ہے۔یہ تیاری ایک شادی کی سالگرہ کی تقریب میں شرکت کے سلسلہ میں ہورہی ہوتی ہے۔ ٹی شرٹ دیکھ کر ”وہ“ تپ جاتا ہے اور” جھنجلا کر کہتا ہے کہ تقریب میں تم اکیلی چلی جانا“بیوی”ہم خود شادی کی سالگرہ کی تقریب نہیں مناتے ،لیکن دوسروں کی خوشی میں تو شریک ہوسکتے ہیں؟“

اسی اثناءمیں بیٹی برآمدے میں آتی ہے اور باپ کو شرٹ پہننے پر مجبور کردیتی ہے اور کہتی ہے کہ ”کمرے میں جاکر ممی کو دکھاﺅ“بیوی ناراض ہو کر کمرے میں آچکی ہوتی ہے۔

”وہ“ اندر آتا ہے اوربہانے سے متوجہ کرنے کی کوشش کرتا ہے،پھر پوچھتا ہے” کیسی لگ رہی ہے ،ٹی شرٹ؟ بیٹی تو کہہ رہی ہے لمبی ہے“دوسری طرف ناراضی بھری خاموشی چھائی رہتی ہے۔اسی اثناءمیں ٹیگ پر نظر پڑتی ہے ،جس پر قیمت درج ہوتی ہے ۔ پوچھتا ہے” کتنے کی ملی؟“جواب ملتا ہے ”ڈسکاﺅنٹ کے ساتھ دوسونناوے کی “”دوتین اور لے لیتی،اس قدر اچھی ہے“بیوی کے چہرے پر مسکراہٹ آجاتی ہے اور کہتی ہے ”بہت جچ رہی ہے ،ینگ لگ رہے ہیں“یہ سین کہانی کے کرداروں کے رویے بدل کر رکھ دیتا ہے۔

ایک دِن کہانی موڑلیتی ہے۔

 بیٹی ،اس خوف سے کہ اُس کی شادی زبردستی کردی جائے گی، چپکے سے پسند کی شادی کرلیتی ہے۔” وہ“ غصے میں آ کرایک تھپڑ جڑ دیتا ہے” ہم پر بھروسا نہیں تھا تم کو؟“بیٹی جواب دیتی ہے” بھروسا تھاکہ آپ میری شادی کسی انجان سے کردیتے ،آپ کے نزدیک تو اپنا فرض نبھانا سب سے زیادہ اہم ہے ۔ممی ،مَیں یہ گھر…. سب آپ کی ڈیوٹی ہے ،میری شادی بھی ڈیوٹی ہے ،آپ صرف اپنے بارے سوچتے ہیں ،چوبیس سالوں میں ممی کی فیلنگ نہیں سمجھ پائے تو میری کیسے سمجھتے؟پاپا! آپ کو معلوم ہے کہ ان چوبیس سالوں میں مجھے کیا یاد ہے؟آپ دونوں کے لڑائی جھگڑے اور ممی کا گھٹ گھٹ کر جینا۔آپ کو توممی کا برتھ ڈے کا نہیں پتا کہ کب ہوتا ہے؟“

رات پڑجاتی ہے۔رات کی تاریکی میں بیوی کی آواز اُبھرتی ہے۔

” تمہارے نزدیک، تم آفس جاتے ہو،مَیں گھر سنبھالتی ہو،اسی کو پیار اور احساس کہتے ہیں ؟یہ پیار اور احساس نہیں ،اس کو ذمہ داری اورکام کہتے ہیں جو آپ اور مَیں برسوں سے نبھارہے ہیں ۔پیارمیںتوایک دوسرے کو جاننا ،ایک دوسرے کی قدر کرنا اور ایک دوسرے کو سمجھنا ہوتا ہے،پیار ہوتا ہے کوشش،ایک دوسرے کو خوش رکھنے کی کوشش….“

”وہ“ کہتا ہے ” پھر تم کیوں میرے ساتھ رہ رہی ہو؟“جواب ملتا ہے”مَیں کہاں رہ رہی ہوں ؟ نبھارہی ہوں۔مَیں صرف آپ کی ذمہ داری نبھارہی ہوں ،چائے کی ذمہ داری ،ٹفن کی ذمہ داری،کپڑوں کی ذمہ داری،آپ کے لیے برف جمانے کی ذمہ داری“

”وہ “کہتا ہے ”تم اس طرح کرو مجھے چھوڑ دو“” بیٹی کو وداع کرکے ،چھوڑ دوں گی“جواب ملتا ہے۔

پھر ایسا ہی ہوتا ہے ،بیٹی کووداع کرکے ،بیوی گھر چھوڑ کر چلی جاتی ہے ۔” وہ“ اکیلا رہ جاتا ہے۔اکیلا پن سوچنے اور غور کرنے پر مجبور کرتا ہے۔ آہستہ آہستہ خیالات میں تبدیل ہوتے ہیں ۔”وہ“ایک دِن ذمہ داری اور پیار میں فرق کو جان لیتا ہے توبیوی کو منانے چل دیتا ہے ۔ بیوی پہلے ہی گھرآنے کو تیار بیٹھی ہوتی ہے۔بیوی کو سکوٹر پر بٹھا کر ریس دیتا ہے ، سکوٹرکا اگلا پہیہ ہوا میں اُچھلتا ہے اور ”وہ“ کہتا ہے:

”ہرکہانی کا ہیرو شاہ رُخ خان نہیں ہوتا،کبھی آپ کی طرح ،میری طرح ، عام آدمی بھی ہوتا ہے ،اپنی کہانی کا ہیرو“

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply