آصف علی زرداری اور نواز شریف

آصف علی زرداری وہیل چیئر پر بیٹھ کر عدالت تک پہنچنا چاہتے ہیں، میاں نواز شریف فی الحال ملک واپس آ کر عدالت نہیں جانا چاہتے۔ یہاں دونوں شخصیات کا موازنہ نہیں، مگر دونوں کے انداز سیاست میں امتیاز کا اظہار ضرور ہے۔ آصف علی زرداری کافی کمزور ہو چکے ہیں اور چلنے پھرنے میں دقت محسوس کرتے ہیں، میاں نواز شریف صحت مند ہیں اور سیر و تفریح کرتے پائے جاتے ہیں۔ آصف علی زرداری ملک میں رہ کر

Read more

حریم شاہ: ایک ٹک ٹاکر

گزشتہ روز حریم شاہ سے متعلق ایک خبر نشر ہوئی، جس میں ٹک ٹاک اسٹار برہم دکھائی دی کہ اس کے بارے میں غیر مصدقہ اور من گھڑت باتیں عام کی جا رہی ہیں، مجھے یہ خبر پڑھ کر قطعی حیرت نہیں ہوئی۔ ایک ایسی ٹک ٹاکر جو من گھڑت خبروں کی تشہیر کی بنیاد پر ان رہنے کا ہنر رکھتی ہو، اس کو کیسی برہمی؟ تاہم حریم شاہ ایک بار پھر خبروں میں چھائی پڑی ہے، حالیہ عرصہ میں

Read more

ہمیں طویل خاموشی کی ضرورت ہے!

یہاں توہین و تضحیک سے جینا ہے تو بے شک جئیں جائیں، یہاں عزت سے جینا منع ہے، جن کے پیٹ بھرے ہیں، ان کے دماغ میں بھوسہ بھرا ہے اور دل انتہائی سخت ہیں۔ ایسوں کو زمین پر سانس لیتے جیتے جاگتے انسان کیڑے مکوڑے دکھائی دیتے ہیں، یہ پیڑوں پر بیٹھے پرندوں اور ان کے گھونسلوں سے کہاں واقف ہوں گے؟ پرویز خٹک صاحب فرماتے ہیں کہ پورے صوبے میں کوئی کچا گھر دکھا دیں، غربت ختم ہو

Read more

ہم دیکھ رہے ہیں!

آپ نے بجٹ سیشن میں گھروں میں بیٹھی ہوئی ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کو  ”بڑھ چڑھ“ کر جو گالیاں دیں، ہم نے سنی ہیں اور ہم آپ کا انداز سیاست دیکھ رہے ہیں۔ شیخ سعدی کو ایک شخص سے ملنے کی بڑی چاہ تھی۔ انھوں نے اس شخص کی فہم و فراست اور ذہنی بالیدگی کا بڑا تذکرہ سن رکھا تھا، مگر ملاقات نہیں ہو پا رہی تھی۔ ہر شخص سے وہ ان کا پوچھ چکے تھے، مگر قسمت ملوا

Read more

ریت کے ٹیلوں میں سکول جاتے بچوں کا مقدر

ہم منہ اندھیرے نکلے تھے، اس وقت ریت ٹھنڈی تھی، ہم تعداد میں کتنے تھے، صحیح معلوم تو نہیں، لیکن ہم تھے ضرور۔ ہم سورج ابھرنے تک کچھ سفر کرچکے تھے، جوں جوں سورج ہمارے سروں پر آتا جا رہا تھا، گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتا جا رہا تھا۔ ہمارے سروں پر پگڑ تھے، گردن اورمنہ کو بھی ڈھانپ رکھا تھا۔ جب سورج ہمارے سروں کے عین اوپر پہنچا تو ہم چند ایک ٹیلے پارکرچکے تھے۔ ٹیلوں پر چڑھنے کی تکلیف اور اترنے کی تکلیف کا احساس مختلف ہوتا، چڑھتے وقت سینے پر زور پڑتا اور اترتے وقت پیروں میں پہنی جوتیوں کے پچھلے حصے سے ریت اوپر پگڑپر آپڑتی، وہاں سے کھسک کر چند ایک ذرے گردن میں چلے جاتے۔

وہ پھریوں چبھتے ہیں جیسے کانچ کے ٹکڑے ہوں۔ ہوا گرم اورتیز، گرم ایسی کہ تنور کے شعلوں جیسی، آنکھوں پر پڑتی تو آنکھوں کے سامنے کے منظر دھندلاجاتے اور بینائی کمزور پڑجاتی۔ ہم وقفے وقفے سے اپنے ہاتھ کمر پر لے جاتے اور قمیص کو پکڑکر ہلاتے، قمیص گیلی ہو کر کمر سے چپک چکی ہوتی، پسینہ بدن کو ٹھنڈا کرنے کا جتن کرتا، مگر گرم ہوا پسینے کا جتن ضائع کردیتی۔ ہمارے جوتوں میں ریت داخل ہو کر ہمارے پاؤں زخمی کر رہی تھی، یہ ذرے پسینے سے ہم آہنگ ہو کر چبھ رہے تھے۔

Read more

مسلم لیگ نون کا المیہ اور جہانگیر ترین

دو ہزار اٹھارہ کے عام انتخابات سے ذرا قبل اور میاں نواز شریف کے لندن جانے کے بعد اور پھر پی ڈی ایم کے قیام کے ساتھ سیاسی و سماجی سطح پر پی ایم ایل این نے ایک مختلف سیاسی جماعت کا تاثر قائم کروایا۔ مسلم لیگ نون کی سیاسی تاریخ میں یہ ایک نیا موڑ تھا، مسلم لیگ نون کے مختلف سیاسی جماعت ہونے کے تاثر نے سیاسی ورکرز کے اندر رومانوی طرز کا تحرک پیدا کیا، شاید یہی

Read more

حلقہ این اے 249، کیا ہونے جا رہا ہے؟

آج کے ضمنی الیکشن کا جائزہ لینے سے قبل حلقہ کی ساخت اور حلقہ کی انتخابی تاریخ کو سمجھنا ازحد ضروری ہے۔ دو ہزار سترہ کی حلقہ بندی سے قبل دو ہزار دو سے دو ہزار تیرہ کے انتخابات تک، موجودہ حلقہ این اے 249 دو حلقوں این اے 239 اور این اے 240 کے حصوں پر مشتمل تھا۔ این اے 240 کا لگ بھگ چالیس فیصد حصہ اور این اے 239 کا ساٹھ فیصد حصہ، مل کر دو ہزار اٹھارہ کے الیکشن میں 249 بنا تھا۔ دو ہزار دو سے پیچھے یعنی انیس سو پچاسی سے انیس سو ستانوے تک یہ حلقہ این اے 184 کا نوے فیصد اور این اے 185 کا دس فیصد حصے پر مشتمل تھا۔

انیس سو ستتر کے الیکشن میں جو حلقہ 183 تھا، اب یہ مکمل این اے 249 ہے۔ اسی طرح انیس سو ستر کے الیکشن میں یہ 128 تھا۔ اب انتخابی تاریخ کا جائزہ لیتے ہیں۔ دو ہزار اٹھارہ کے انتخابات میں این اے 249 سے پاکستان تحریک انصاف کے فیصل واوڈا نے پاکستان مسلم لیگ نون کے رہنما شہباز شریف کو شکست سے دوچار کیا تھا۔ فیصل واوڈا کو یہ برتری لگ بھگ سات سو ووٹوں سے نصیب ہوئی تھی۔ دو ہزار تیرہ میں این اے 239 سے ایم کیو ایم کے سلمان مجاہد جیتے تھے جبکہ این اے 240 سے ایم کیو ایم کے خواجہ سہیل جیتے تھے۔

Read more

ہم نہیں سیکھیں گے!

یہ گھڑی موت کی ہے۔پاکستان اور بھارت کے عوام ایمبولینسوں میں ،ہسپتالوں کے مرکزی دروازوں اورکورونا وارڈ ز میں ،گھروں کے تاریک کمروں میں اور ہسپتالوں کی طرف دوڑتی ہوئی حالت میں مَر رہے ہیں اور بہت ہی بے بسی سے مَر رہے ہیں۔کہیں آکسیجن نہیں ،کہیں وینٹی لیٹر نہیں،کہیں ہسپتالوں میں خالی بیڈ نہیں،کہیں فارمیسی میں دوائیاں نہیں۔مگر میڈیکل سٹورز ماسک سے بھرے پڑے ہیں ،حتیٰ کہ گلی محلوں میں ماسک بیچنے والوں کی صدائیں گونجتی رہتی ہیں ،یہ

Read more

یہ حکومت کامیاب ہو سکے گی ؟

جولائی دوہزار اَٹھارہ کے عام انتخابات کے نتیجے میں قائم ہونے والی پی ٹی آئی حکومت کو اقتدار میں آئے تین برس کا عرصہ ہونے کو ہے۔اس مُدت میں کئی موڑ ایسے آئے ،جہاں حکومت کو یہ ثابت کرنا تھا کہ اِن پر عوام کے اعتماد کافیصلہ دُرست تھا۔مگر حکومت یہ ثابت کرنے میں ناکام رہی ۔ اس عرصہ میں حکومت عوام کے مسائل پر قابو پاتی، لیکن یہ اپنی توانائی اپنے لیے نئے مسائل پیدا کرنے پر صَرف کرتی

Read more

جہانگیر ترین کے پاس سیاسی غلطی کی گنجائش نہیں!

اس وقت سیاسی منظرنامے میں جہانگیر ترین گہرے نقوش کے ساتھ موجود ہیں۔جہانگیر ترین اپوزیشن جماعتوں خصوصی طورپر پاکستان مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلزپارٹی کے لیے اُمید کی کرن اور پاکستان تحریک انصاف کے لیے خطرے کی گھنٹی بن چکے ہیں۔تیس کے قریب صوبائی و قومی اسمبلی کے ارکان ،جو جہانگیر ترین کی طاقت ہونے کا احساس دلارہے ہیں ،ایک لحاظ سے عمران خان کے طرزِ حکومت و طرزِ سیاست میں بے پناہ خامیوں اور کمزوریوں کا اظہاریہ بھی

Read more

بے بسی کاگِدھ

عجیب دِن ہیں،بے بسی کا گِدھ ہمہ وقت ٹھونگے مارتارہتا ہے۔بے بسی نے خوف کو جنم دیا ہے،خوف بھی،وسوسوں میں لپٹا ہوا۔بے بسی میں وسوسے ہوتے ہیں اور وسوسے انسان کے دُشمن ہیں۔وباء کا اثرپھیلتا جارہا ہے،یہاں بہ ظاہر سال بھر پہلے وباء پھوٹی ،مگر بے بسی اور خوف سے تو یوں معلوم پڑتا ہے کہ اس ملک پر تہتر برس سے وبا کا قبضہ ہے۔ ہرلحظہ بے بسی اور خوف میں لپٹا ہوا۔یہ عجیب دِن ہر ایک کے لیے

Read more

کورونا کی تیسری لہر اور ہمارے روّیے

ہمارے ہاں کورونا وبا ء کا پہلا مریض چھبیس فروری دوہزار بیس کو سامنے آیا تھا۔یوں یہ وباء لگ بھگ تیرہ ماہ سے موجود ہے ۔پہلی لہر میں شدت مئی اور جون دوہزار بیس میں آئی تھی ،جولائی کا مہینہ بھی مشکل تھا۔ بعدازاں آہستہ بہ آہستہ اس کا زور ٹوٹنا شروع ہوا اور اگلے دوایک ماہ تو یوں محسوس ہوا کہ وباء پر مکمل قابو پایاجاچکا ہے ،مگر پھر دوسری لہر شروع ہوگئی ۔ دوسری لہر کو پہلی لہر

Read more

طارق بشیر چیمہ کا غصہ جائز ہے – ناقابلِ اشاعت کالم

طارق بشیر چیمہ کی فیملی کی طرف سے انسٹا گرام پر ایک ویڈیو جاری کی گئی، جس میں ان کی فیملی کو ویکسین لگائی جا رہی ہے۔ ویڈیو میں وفاقی وزیر کے علاوہ ایک اور شخص موجود ہے، جبکہ مختلف عمروں کی چند خواتین جن میں نوجوان لڑکیاں شامل ہیں، ایک ڈرائنگ روم میں بیٹھی ہیں جہاں دو نرسیں باری باری ان کو انجکشن لگا رہی ہیں۔ وہاں معروف اداکارہ عفت عمر بھی موجود ہیں۔ بعد میں یہ وضاحت کی گئی کہ ویکسین نہیں بلکہ ٹرائل ویکسین کا بوسٹر تھا، جو لاہور کی ایک یونی ورسٹی نے ٹیم بھیج کر لگائی۔

یونی ورسٹی ترجمان کے مطابق ”یونی ورسٹی نے ٹرائلز کے دوران کسی کے گھر جا کر ویکسین نہیں لگائی۔ نیز ویکسین کے تمام تر ٹرائلز ختم ہو چکے ہیں“ بعد میں یہ ویڈیو انسٹا گرام سے ڈیلیٹ کر دی گئی۔ وفاقی وزیر طارق بشیر چیمہ کی مختلف میڈیا سے اس ایشو پر بات ہوئی تو ان کا یہ موقف سامنے آیا ”ان کی ساس کی صحت خاصی تشویش ناک ہے، وہ کچھ دن قبل لاہور کے ہسپتال سے ڈسچارج ہو کر گھر شفٹ ہوئی، جن کے لیے گھر کا ایک کمرہ ہسپتال میں تبدیل کیا گیا، جہاں کورونا وائرس کی ویکسین لگائی گئی۔ خاندان کے دوسرے دو افراد کو بھی کورونا ویکسین لگائی گئی مگر جو ویکسین لگائی گئی وہ ابھی ٹرائل میں ہے۔ کورونا ویکسین صرف میری ساس کو لگائی گئی، باقی نظر آنے والی ویکسین انفلوئنزا کی ہے“

Read more

لکیر کھنچنا کیوں ضروری ہے؟

حالیہ سینیٹ انتخابات سے جمہوری اقدار بُری طرح پامال ہوئی ہیں۔مقامِ افسوس ہے کہ جمہوریت کی عزت پر وار خود کو جمہوری و سیاسی کہنے والوں کی جانب سے کیے گئے ہیں ۔یوسف رضا گیلانی کا سینیٹر بننا،صادق سنجرانی کا چیئرمین سینیٹ بننا اور پھر یوسف رضا گیلانی کا سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر بننا ،سب کا سب غیر جمہوری انداز سے ہوا۔ ہر طرف سے اپنی اپنی جیت کو یقینی بنانے کے لیے جو حربے استعمال کیے گئے ،وہ اس

Read more

مریم نوازشریف کو یہ بات سمجھنی چاہیے!

میاں نواز شریف کی بیٹی مریم نواز اور آصف علی زرداری کا بیٹا بلاول بھٹو زرداری ،میدانِ سیاست میں ہیں۔ آصف علی زرداری کہتے ہیں کہ میرا ایک ہی بیٹا ہے(یعنی کوئی خطرہ مول نہیں لیا جا سکتا) جبکہ مریم نواز کہتی ہے کہ میرے والد اگر واپس آتے ہیں تو اُن کی جان کو یہاں خطرہ ہے۔آصف علی زرداری اور اُن کی پارٹی مریم نواز کے خدشات کے جواب میں برملا کہتی ہے کہ سیاست کرنی ہے تو پھر

Read more

عمران خان بھی مایوس کریں گے!

پاکستانی وزرائے اعظم کی تاریخ میں،قوی اِمکان ہے کہ عمران خان ،اقتدار کی مُدت پوری کرنے والے پہلے وزیرِاعظم بن جائیں گے۔ جہاں عمران خان یہ اعزاز اپنے نام کریں گے وہاں قوم کو مایوس کرنے میں بھی باقی تمام وزرائے اعظم پر سبقت پالیں گے۔ عمران خا ن سے پہلے میاں نواز شریف سب سے زیادہ قوم کو مایوس کرچکے ہیں۔مایوسی کے ضمن میں میاں نواز شریف کے پاس یہ عذر ہے کہ وہ تینوں بار مُدتِ اقتدار پوری

Read more

زرداری ،مریم اور مولانا

سولہ مارچ کی سہ پہر پی ڈی ایم کا اجلاس ہوا۔اجلاس ختم ہوا تو پی ڈی ایم کے رہنما مولانا فضل الرحمن کی ہمرکابی میں پریس کانفرنس کرنے آئے۔پریس کانفرنس میں مولانا فضل الرحمن نے مختصراًگفتگو کے ذریعے یہ بتایا کہ پیپلزپارٹی پارلیمان سے استعفوں پر باقی نوجماعتوں سے اتفاق نہیں کرتی،نو جماعتیں استعفوں کے حق میں ہیں اور پیپلزپارٹی نے فیصلے کے لیے وقت مانگا ہے،لہٰذا تب تک لانگ مارچ ملتوی کیا جاتا ہے۔ یہاں اہم نکتہ یہ ہے

Read more

یوسف رضا گیلانی سینٹ چیئرمین کیوں نہ بن سکے؟

بارہ مارچ کے دِن سینٹ چیئرمین کے انتخاب میں ایک دلچسپ مقابلہ ہوا اوریوسف رضا گیلانی کے سات ووٹ مسترد ہوگئے۔ان سات ووٹ کے مسترد ہونے پر ،یوسف رضاگیلانی چیئرمین سینٹ کے عہدے سے محروم ہوگئے۔پی ڈی ایم جماعتوں کے متفقہ اُمیدوار کاچیئرمین سینٹ نہ بننا ،سیاسی سطح پر معمولی واقعہ نہیں ۔اس انتخاب کی ہارجیت نے سیاسی اُفق پر وسیع پیمانے پر اپنے اثرات مُرتسم کرنے ہیں۔یہی وجہ تھی کہ دونوں طرف سے فتح یابی کے تمام ’’حربے‘‘بروئے کار

Read more

تقریروں کا بوجھ

جب گزشتہ دنوں پی ٹی آئی کے ایک کارکن نے پاکستان مسلم لیگ نون کے سینئر رہنما احسن اقبال کی جانب جوتا اچھالاتو مجھے مارچ دو ہزار اٹھارہ میں جامعہ نعیمیہ لاہور میں سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف پر جوتا اچھالا جانے کا واقعہ یادآ گیا۔ واضح رہے کہ اس واقعہ سے چند روز پہلے خواجہ آصف پر ان کے اپنے حلقہ میں ایک سیاسی تقریب کے دوران سیاہی پھینکی گئی تھی۔ یہ دونوں واقعات، عام انتخابات سے لگ بھگ چارماہ قبل پیش آئے تھے۔

Read more

ست رنگے پرندے کے تعاقب میں

کہانی کار:رشید امجد۔ انتخاب و تجزیہ:احمد اعجاز ناشتہ کرتے ہوئے اچانک ہی خیال آیا کہ پچھلے ٹیرس پر پڑی چارپائی کو بنوانا چاہیے۔ محلے والے گھر سے اس نئے گھر میں منتقل ہوتے ہوئے اپنا بہت سا پرانا سامان وہیں بانٹ بونٹ آئے تھے، بس یہ ایک چارپائی کسی طرح ساتھ آ گئی۔ کچھ عرصہ پچھلے ٹیرس پر دھوپ میں بیٹھنے کے کام آئی، پھر زندگی کی مصروفیات بڑھیں تو دھوپ میں بیٹھنا بھی کبھی کبھار ہو گیا۔ چارپائی نواڑ

Read more

کیا محض پروفیسر، ادبی نقاد ہو سکتا ہے؟

یہ گزشتہ روز کی بات ہے بہت ہی محترم استاد اور نقاد، جو کہ بہا الدین زکریا یونی ورسٹی ملتان میں شعبہ اردو کے سربراہ بھی رہے، کی فیس بک پر یکے بعد دیگرے چار ادبی پوسٹ نظر سے گزریں۔ ایک پوسٹ کی تحریر اور نیچے دی گئی تصاویر نے مجھے زیادہ چونکایا ”تنقید کے نئے چراغ۔ ان ہی کے دم سے روشنی ہے“ اس میں سولہ ”نئے چراغوں“ کی تصاویر تھیں۔ میری کم علمی اور کوتاہ قامتی اپنی جگہ لیکن ان سولہ میں سے دو سے تین ”نئے چراغوں“ کے علاوہ میں کسی کو پہچان نہ پایا۔

Read more

تنقید کے نئے چراغ…

یہ گذشتہ روز کی بات ہے بہت ہی محترم اُستاداور نقاد ،جو کہ بہاﺅالدین زکریا یونی ورسٹی ملتان میںشعبہ اُردو کے سربراہ بھی رہے ،کی فیس بک پریکے بعد دیگرے چار ادبی پوسٹ نظر سے گزریں۔ایک پوسٹ کی تحریر اور نیچے دی گئی تصاویر نے مجھے زیادہ چونکایا”تنقید کے نئے چراغ….اِن ہی کے دَم سے روشنی ہے“اس میں سولہ ”نئے چراغوں“کی تصاویر تھیں۔ میری کم علمی اور کوتاہ قامتی اپنی جگہ لیکن اِن سولہ میں سے دوسے تین ”نئے چراغوں“کے

Read more

ڈسکہ میں کیا ہوا؟

یہ ایک مارکیٹ کے چوک کا منظر ہے۔سیاہ شلوار قمیص میں ایک نوجوا ن سڑک پر خون میں لت پت پڑا ہے،اُس کا کوئی دوست ،عزیز یا واقف کار بازو کو پکڑکر ایک طرف گھسیٹنے کی کوشش کررہا ہے،ساتھ ہی ایک چھوٹی گاڑی کھڑی ہے ،جس کا پچھلا دروازہ کھلا ہوا ہے ،شاید وہ ،زخمی شخص کوگاڑی میں ڈال کرہسپتال لے جاناچاہتا ہے،ساتھ ہی ایک پولیس والاموبائل پر کچھ دیکھ رہا ہے،علاوہ ازیں چند لوگ جنھوں نے شلوار قمیصیں،پہن رکھی

Read more

سینٹ انتخابات ،چنداہم پہلو

سینٹ انتخابات میں اصلاحات سے اُمیدواروں کے انتخاب تک دلچسپ مطالعا ت سامنے آرہے ہیں۔اصلاحات کے پردے میں خواہشات اور مجبوریاں انگڑائیاں لیتی محسوس ہوتی ہیں تو اُمیدوارں کے انتخاب کے ضمن میں معیار اور اہلیت سے زیادہ پسند یا ناپسند کی کارفرمائی ہے۔یوسف رضا گیلانی میدان میں آئے یا لائے گئے تو فرحت شہزادی نے بھی کاغذات جمع کروائے۔ فرحت شہزادی نے جیسے کاغذات نامزدگی جمع کروائے،لوگوں نے پوچھنا شروع کردیا کہ یہ فرحت شہزادی کون ہیں؟جب لوگوں کے

Read more

ووٹوں کی خریدوفروخت کیوں ہوتی ہے؟

سینیٹ انتخابات جیسے جیسے قریب آرہے ہیں، ووٹوں کی خریدوفروخت کی بحثیں بھی زور پکڑتی جا رہی ہیں، گزشتہ روز ایک ویڈیو بھی سامنے آئی جس میں کچھ سابق اور موجودہ اراکین خیبر پختونخوا اسمبلی مبینہ طور پر پیسے وصول کرتے پائے گئے۔ اس ویڈیو میں سابق اور موجودہ اراکین کے سامنے نئے نوٹوں کے انبار لگے پڑے ہیں۔ اس ویڈیو کے منظر عام پر آنے کے بعد خیبر پختونخوا کے وزیر قانون مستعفی ہوچکے ہیں۔ ایک اہم پہلو اس

Read more

ڈاکٹر ظفرمرزا،مینواور گیزروالی بلی

یہ دودِنوں پر محیط زندگی کے لمحات کی کہانی ہے۔ہر لمحہ ایک تجربہ ہوتا ہے اور ہر تجربہ ادراک کا دروازہ کھولتاہے۔ڈاکٹر ظفر مرزانے TDEAکے ساتھ مل کربھوربن کے ٹھنڈے مقام پر ایک بڑے ہوٹل میں پانچ دِن کی محفل سجائی۔یہ محفل پوری کی پوری آگاہی پر مبنی تھی،ہرسیشن میں ملک کا اہم معالج بیماریوں سے متعلق آگاہی دیتا۔اس کے ساتھ ساتھ ہیلتھ جرنلسٹوں کو درست رپورٹنگ کی بابت بھی بتایا جاتا۔کسی بھی چینل یا اخبارکے رپورٹر اور مقامی نمائندہ

Read more

ہم، ہسپتال، ڈاکٹرز اورٹاکا یاسو

ہم جس ملک میں رہتے ہیں ،یہاں صرف اقتدار کی کشمکش کی کہانیاں زبانِ زدِعام ہیں۔یہاں طاقت کی راہداریوں میں توازن اور عدم توازن کا معاملہ ہی زندگی کی اصل تصور کیا جاتا ہے۔اس کا نتیجہ یہ نکلاکہ چیزیں خرابی کی طرف جانا شروع ہوچکی ہیں،جو اس حد تک خراب ہوچکی ہیں کہ ٹاکا یاسو بن چکی ہیں۔ طبی لحاظ سے ٹاکا یاسو ،شریانوں کی سوزش کی بیماری ہے۔یہ سوزش چھوٹی اور درمیانے درجے کی خون کی رگوں کونقصان پہنچاتی

Read more

راستہ پانیوں میں، جسم مٹی کا

یہ پہلے اور بہت پہلے کی ایک بات ہے۔ میں یہی کوئی سات آٹھ برس کا ہوں گا۔ میرے پاس کھجور کی ایک گٹھلی تھی۔ ہمارے گھر کے وسیع صحن کے بیچوں بیچ نلکا ایستادہ تھا، جس کا کچا تھڑا تھا، وہاں سے پانی، ایک لمبی سی نالی سے گزرکر گھر کی بیرونی دیوار کے نیچے سے باہر چلا جاتا تھا، نالی میں پانی کھڑا نہیں ہوتا تھا، یہ صاف رہتی۔ میں نے گٹھلی، نلکے کے تھڑے کے قریب نالی

Read more

مریم اور بلاول کو فیصلہ کرنا ہے

یہ پورا سچ نہیںکہ’’سیاست دانوں نے ملک کو اس حالت تک پہنچایا ہے‘‘مگر ملک کی خوشحالی و ترقی کی بڑی ذمہ داری سیاست دانوں پر پڑتی ہے۔سیاست دانوں نے اپنی ذمہ داری نہیں نبھائی،اس کوتاہی کی کئی وجوہات ہوسکتی ہیں۔سارا معاملہ ’’مداخلت‘‘کا نہیں۔ایک طبقہ کا خیال ہے کہ ’’مداخلت‘‘کا معاملہ بھی سیاست دانوں کی غیرسنجیدگی اور غیر ذمہ داری کے روّیے کی بدولت پیدا ہوا۔یوں ایک بالغ نظر طبقہ ساری ذمہ داری سیاست دانوں پر ڈالتا ہے۔ تاہم ملکی مسائل

Read more

’’بیانیہ‘‘کا کھیل

سیاسی جماعتوں کے پاس سلوگن تو ہیں بیانیہ نہیں۔جس کو سیاسی جماعتیں بیانیہ کہتی ہیں ،وہ سلوگن ہیںاور سلوگن بدلتے رہتے ہیں،جیسے سلوگن نوازشریف کے پاس ہیں۔مئی2013ء کے عام انتخابات میں منتخب ہونے والے پاکستان کے وزیرِاعظم نواز شریف نے 2017ء کے ماہِ مارچ میں دواہم تقاریر کی تھیں ۔ پہلی تقریر اُنہوں نے11 مارچ جامعہ نعیمیہ لاہورمیں کی تھی ۔جس میں مذہبی علما ء پر زور دیتے ہوئے کہا تھا ’’ وہ قوم کے سامنے دین کا اصل بیانیہ

Read more

خوابوں کے تعاقب میں

اگر آپ اسلام آباد سے بذریعہ موٹر وے ہری پور جارہے ہیں اور گاڑی کی رفتار ایک سودس ہے، تو خان پور انٹرچینج تک ایک گھنٹہ میں پہنچ جائیں گے،جیسے ہی انٹر چینج سے اُتریں گے توایک کشادہ سڑک باہیں پھیلائے جاگتی پائی جائے گی،یہ خان پور سڑک کہلاتی ہے ،آپ ہری پورکی اُور ہولیں، چند ہی منٹ بعد پنیاں چوک میں ہوں گے۔ اس چوک سے دائیں جانب اندر ہوجائیں تو ٹی آئی پی ہائوسنگ کالونی جا پہنچیں گے

Read more

خیبر پختونخوا پولیس کی کارکردگی

دو ہزار تیرہ کے الیکشن ہوتے ہیں ،عمران خان وزیرِ اعظم تو نہیں بن پاتے ،البتہ کے پی کے میں اِن کی پارٹی برسرِ اقتدار آجاتی ہے۔پی ٹی آئی کا خیبر پختونخوا میں حکومت سازی کرنا ،معمولی واقعہ نہیں ٹھہرتا۔مذکورہ صوبہ میں ایک مُدت سے برسرِ اقتدار چلی آرہی سیاسی پارٹیوں سے عوام کی ایک بڑی تعداد اپنا اعتماد ایکا ایکی ختم کرکے ،پی ٹی آئی کے پلڑ ے میں ڈال دیتی ہے۔یہ اعتماد اَن گنت خوش کن خوابوں سے

Read more

محبت کرنے والے دو آدمی

دِن کب کا اپنا بستر لپیٹ کر سرمئی شام میں ڈھل چکا تھا،شام ،رات کا رُوپ اُوڑھ چکی تھی،ہم کھانے کا انتظار کھینچ رہے تھے،دیسی مرُغ گلنے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا۔دیہاتی علاقہ تھا،شہر سے دُور۔ککر کی سہولت موجود نہ تھی۔کچن سے آواز آئی ابھی گوشت گلنے میں وقت لگے گا،وہاں پر موجود سب نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا،سب کے چہروں سے بھوک جھانک رہی تھی۔ مَیں نے وقت گزارنے کے لیے میزبان سے اُس کے گاؤں

Read more

ایک سفر جو معکوس نہیں

اسلام آباد موٹر وے سے لاہور کی اُور جاتے ہوئے ،پنڈی بھٹیا ں انٹرچینج سے فیصل آباد موٹر وے کی طرف مڑ کر ،شور کوٹ انٹرچینج سے اُتر کر شور کوٹ ،گڑھ مہاراجہ اور گڑھ موڑ سے ہوکر جب تحصیل چوبارہ میں داخل ہوتے ہیں ،تو ریت کے ٹیلے آگے بڑھ کر اپنی بانہوں میں بھر لیتے ہیں۔ طویل سفر کی بدولت تھکاوٹ کے احساس کے باوجود ،میرا ایکا ایکی جی چاہتا ہے کہ صحرا کی وسعت میں تحلیل ہوجائوں۔مجھے

Read more

داستان – نصیر ترابی اور افتخار عارف

گزشتہ دنوں ایک محترم کالم نگار نے ”ایک ان کہی ادھوری داستان“ کے عنوان سے کالم لکھا۔ جس پر ممتاز شاعر نصیر ترابی کے ایک انٹرویو کا حوالہ دے کر افتخار عارف پر تنقید کی گئی۔ اگر یہ تنقید ادبی و علمی حوالہ رکھتی جائز تھی، مگر یہاں شخصی حوالہ سے بات کی گئی۔ افتخار عارف صاحب، نصیر ترابی صاحب اور کالم نگار، تینوں شخصیات قابل احترام ہیں کہ تینوں کا تعلق قلم قبیلے سے ہے۔ مگر محترم کالم نگار اور نصیر ترابی صاحب نے اپنے انٹرویو میں جو باتیں افتخار عارف کی ذات کے حوالے سے کہیں، وہ مناسب معلوم نہیں پڑتیں۔

کالم نگار لکھتے ہیں ”حلقہ ارباب ذوق کی ایک محفل میں انہوں (افتخار عارف) نے تنقید کے لیے اپنی ایک نئی نویلی غزل پیش کی تھی۔ اتفاق سے اسی محفل میں اس خاکسار نے اپنا ایک افسانہ سنایا تھا۔ افسانہ چل گیا، غزل نہ چل سکی“ یہ شاید کچھ دہائیوں پہلے کی بات ہے۔ واقعی افسانہ چل گیا؟ اور غزل نہ چل سکی؟ جس کی غزل نہ چل سکی وہ آج غزل کا افتخار کیوں ہیں؟ آگے چل کر لکھتے ہیں کہ ”کتاب دل و دنیا“ (افتخار عارف کا مجموعہ) پر ممتاز نقاد مبین مرزا نے دیباچہ لکھا۔

Read more

عید کیسے منائی جائے؟

عید کی آمد آمد ہے۔ گلیوں میں قربانی کے جانوروں کی رونمائی کا سلسلہ جاری ہے، گرمی کی شدت کے باوجود مویشی منڈیوں اور بازاروں میں گہما گہمی کا سماں ہے۔ گہما گہمی کی فضا سے یوں محسوس پڑتا ہے کہ کورونا وبا کا خوف لوگوں کے دلوں سے مکمل طور پر نکل چکا ہے۔ دوسری طرف حکومت پنجاب کو کورونا وبا کے پھیلاؤ کے پیش نظر پانچ اگست تک مارکیٹ بندرکھنے کا فیصلہ کرنا پڑا۔ مگر بعض شہروں کے کچھ حصوں میں تاجر برادری نے اس فیصلے کی دھجیاں بکھیر کررکھ دیں۔

حکومت پر تنقید کی گئی کہ کاروبار کے دنوں میں مارکیٹ بند کرنے کا فیصلہ کر کے کاروباری طبقہ کا نقصان کیا گیا ہے۔ دکانیں بندکروانے کے لیے مختلف شہروں میں تاجروں اور پولیس میں ہاتھا پائی بھی ہوئی، پولیس دکانیں بند کروانے پہنچتی تو دکاندار ان کو دیکھ کر دکانیں بند کردیتے، جب پولیس چلی جاتی تو دوبارہ کھول لیتے ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ جب گزشتہ عید پر کاروبار کھلے رکھنے کا فیصلہ کیا گیا تھا، تو اس وقت یہ تنقید کیوں کی گئی تھی کہ حکومت نے لوگوں کی صحت کا خیال نہیں رکھا اور کاروبار کھول دیے؟

Read more

حلقہ چھوڑ کر ، اب فردوس عاشق اعوان کہا ں ہیں ؟

 ملکی سیاسی نظام میں بعض سیاست دان اپنے حلقہ کو اہمیت نہیں دیتے ،جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ جہاں یہ اپنے حلقہ سے غیر متعلق ہوکررہ جاتے ہیں ،وہاں حلقہ میں سیاسی کلچر مضبوط نہیں ہوپاتا،انتخابات کے دِنوں میں رائے دینے والے(ووٹرز) کم تعداد میں گھروں سے نکل کر پولنگ اسٹیشن کا رُخ کرتے ہیں ۔علاوہ ازیں ایسے حلقوں میں سیاسی جماعتوں کا ووٹ بینک مضبوط ہونے کے باوجود ، آزاد اُمیدوار کامیاب ہوتے رہتے ہیں۔آزاد اُمیدواروں کی

Read more

پی ٹی آئی برسرِ اقتدار کب آئے گی؟

یہ جولائی کا مہینہ ہے ،کہیں شدید گرمی،کہیں طوفا نی بارشیں۔یہ دوسال اُدھر کی بات ہے۔یہی دِن تھے،سن تھا دوہزاراَٹھارہ۔ملک بھر میں نئے انتخابات ہونے جارہے تھے۔جولائی عام انتخابات کا مہینہ تھا۔ملک کی انتخابی تاریخ میں یہ گیارھویں عام انتخابات تھے اور دوہزارآٹھ کے بعد دوسری بار اقتدار ایک سیاسی جماعت سے دوسری سیاسی جماعت کو منتقل ہو ناتھا۔ انتخابی عمل کا یہ تسلسل ،حقیقی تبدیلی کا نشان سمجھا جارہا تھا۔ پنجاب میں مسلم لیگ ن اور پی ٹی آئی

Read more

فوادچودھری کے بیانات کی سماجی و سیاسی معنویت

فواد چودھری کے وائس آف امریکا کو دیئے گئے انٹرویو کو پرنٹ ،الیکٹرانک اور سوشل میڈیا پر دو حوالوں سے زیربحث لایاگیا۔ایک حوالہ یہ تراشا گیا کہ فوادچودھری کو میڈیا میں اِن رہنے کا ہنر آتا ہے۔اس پہلو کی دلیل کے لیے اِن کے کیریئر پر نظر ڈالی گئی۔2018ء کے انتخابات کے بعد یہ وفاقی وزیر برائے اطلاعات رہے ،مگر یہ وزارت مختصر مُدت کیلئے رہی،اس وزارت کے دوران یہ مسلسل میڈیا میں اِن رہے۔ جب وزارت اطلاعات لے کر

Read more

ہر کہانی کا ہیرو شاہ رُخ خان نہیں ہوتا

اس کہانی کا مرکزی کردار ”وہ “ہے۔ایک عام آدمی۔”وہ“مَیں بھی ہوسکتا ہوں ،آپ بھی اور سنجے مشرا بھی۔لیکن عام آدمی جینے کا ہنر پالے تو وہ عام نہیں رہتا۔عام آدمی وہی ہوتے ہیں جو زندگی جی نہیں ،ذمہ داری نبھارہے ہوتے ہیں۔  ”وہ“کے مطابق،اُس کی شادی ایسی جگہ ہوتی ہے ،جہاں دونوں خاندان سماجی مرتبے میں برابر نہیں ہوتے۔شادی ہوجاتی ہے کیونکہ بیوی کی ماں کو لڑکایعنی”وہ“پسند آجاتا ہے۔آخرلڑکا پسند کیوں نہ آتا؟ شریف لوگ آسانی سے کہاں ملتے ہیں؟لو

Read more

ترکی میں خاندانی خودکشیوں کے بعد اُمید کا خاتمہ

فاتح ،استنبول کے اضلاع میں سے ایک ضلع ہے ،جو اپنی قدامت پسندی کی وجہ سے شہرت رکھتا ہے۔یہ گذشتہ ہفتے کی بات ہے کہ کچھ لوگوں نے ایک فلیٹ کے دروازے پر پیغام چسپاں دیکھا،جس پر یہ عبارت لکھی تھی”خبردار!اندر زہر ہے ،گھر میں داخل مت ہوں ،پولیس کو اطلاع دیں“یہ نوٹ کس نے لکھا تھا ،معلوم نہیں پڑرہا تھا ؟بہرحال جس نے بھی لکھا تھا ،اُس کا مقصد پڑوسیوں کو زہریلے مادے سے محفوظ رکھنا تھا۔جب پولیس پہنچی

Read more

ابوبکر البغدادی کی ہلاکت کے بعد داعش کا مستقبل

ابوبکر البغدادی کے انتقال کی قیاس آرائیاں دوہزار چودہ سے ہوتی چلی آرہی تھیں،امریکا اور روس ہر دو ممالک البغدادی کو اپنے انجام تک پہنچادینے کا دعویٰ کرتے رہے ہیں۔لیکن گذشتہ دِنوں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خودساختہ خلافت کا دعویٰ کرنے والے البغدادی کی موت کا عوامی سطح پر اعلان کیا اور کہا کہ امریکی فورسز نے شدت پسند کو اپنے انجام تک پہنچا دیا ہے۔جبکہ میڈیا (امریکی)اور مختلف تجزیہ کاروں نے اس پیش رفت(البغدادی کی موت)کی اہمیت پر

Read more

زینب کے قاتل عمران علی کا انٹرویو، اس کے گھر والے اسے پہچان کر بھی بچا رہے تھے

پہلی واردات کب کی تھی؟ اس کے بھائی نے پہچان لیا تھا۔ اس نے پہلے انکار کیا اور پھر ماں سے اعتراف کر لیا۔ چچا نے کہا کہ ”اس کو پکڑوا دیتے ہیں۔ ہم سب غریب لوگ ہیں۔ ایک کروڑ روپے ملیں گے تو ہمارے حالات ٹھیک ہوجائیں گے“۔ میرے دوسرے عزیز بھی یہی کہہ رہے تھے۔ ماں نے بچایا۔ اسے اس راستے پر چلانے میں اس کے مجرم رشتے دار اور استاد کی تعلیم کا بھی ہاتھ تھا۔

Read more