اسلام آباد میں پر امن احتجاج منع ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان سے گھر لوٹے تیسرا دن ہے۔ اب گھر کی تعریف بھی بدل چکی ہے۔ انسان بھی عجیب چیز ہے۔ جس کھاٹ اور تکیے کا عادی ہو جائے اسی کو گھر کہنے لگتا ہے۔ وہاں سردی سے ٹھٹھر رہے تھے اور یہاں آسٹریلیا میں گرمی میں جھلس رہے ہیں۔ لیکن ہوا صاف بھی ہے اور آزاد بھی۔ عجیب بات ہے نا کہ جشن آزادی پر پاکستان میں کیا کچھ پٹاخے نہیں پھوڑے جاتے۔ ملی نغمے ہر طرف بجائے جاتے ہیں۔ لیکن آزادی کیا ہے؟ واللہ اعلم۔

شاید اپنے آزاد ملک پاکستان میں رہتے ہوئے ہم یہ کالم نہ لکھ پاتے لیکن یہاں رہ کر کہنا آسان لگتا ہے اور سہنا مشکل۔ چند دن پہلے منظور پشتین (جس کا نام لیتے ہوئے بھی ڈر لگتا ہے کہ غداری کا مقدمہ درج نہ ہو جائے ) ہنستا مسکراتا گرفتار ہوا۔ اس نوجوان کے سر پر جانے کیا سوار ہے کہ پشتونوں کے خلاف ریاستی و غیر ریاستی زیادتیوں کا حساب لینے کو نکل پڑا ہے۔ بھیا، گھر سے نکل ہی گئے ہو تو کم از کم سر سے کفن ہی اتار دو۔ عجیب شخص ہے۔ گرفتار ہوتے ہوئے بھی چہرے پر وہی سکون، وہی مسکراہٹ کہ جیسے گھر سے باہر ہوا خوری کو جا رہا ہو۔

پشتین کے گرفتار ہونے کی دیر تھی کہ اسلام آباد کلب کے باہر اس کی گرفتاری کے خلاف احتجاج کیا گیا جہاں پر صرف پی ٹی ایم ہی نہیں بلکہ عوامی ورکر پارٹی اور دیگر شہریوں نے بھی شرکت کی۔ جیسا کہ ایک پر امن احتجاج سے نقص امن کو سنگین خطرہ لاحق تھا لگ بھگ تیس لوگوں کو جھٹ سلاخوں کے پیچھے پٹخ دیا گیا۔ مزے کی بات یہ ہے کہ گرفتاریاں کرتے ہوئے اس بات کا خاص خیال کیا گیا کہ یہ لوگ پڑھے لکھے اور روشن خیال ضرور ہوں۔ ملک کی فرض شناس پولیس کے ماتھے پر کوئی کلنک نہ لگے۔

ان میں ایم این اے محسن داوڑ تو تھے ہی لیکن ساتھ ہی ساتھ عوامی ورکرز پارٹی کے ہنستے مسکراتے عمار رشید، سیف اللہ نصر، اور نوفل سلیمی بھی شامل تھے۔ ان ہی میں سوشل میڈیا ایکٹوسٹ خرم قریشی بھی دیکھنے میں آئے۔ خرم قریشی کو بہت سے لوگ بخوبی جانتے ہیں کہ حکومتی پالیسیوں کے کڑے نقاد ہیں۔ ہمیشہ آئین کی بالادستی کی بات کرتے ہیں، دل کے مریض ہیں اور اپنے ننھے بیٹے یوسف سے بہت پیار کرتے ہیں۔ پس ثابت ہوا کہ امن عامہ کی راہ میں حائل واحد رکاوٹ یہی لوگ تھے۔

سوشل میڈیا پر خوب واویلا ہوا۔ ہم بھی بہت چلائے لیکن دل میں تسلی تھی کہ کوئی خاص فکر کی بات نہیں۔ ان سب کو ڈرا دھمکا کر چھوڑ دیا جائے گا۔ لیکن یہ تسلی بھی جہنم واصل ہوئی۔

ان کو پہلے تھانہ کہسار میں رکھا گیا اور اب سننے میں آیا ہے کہ اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا ہے۔ آخرکار کوئی چھوٹا موٹا جرم تو ہے نہیں۔ ان کو کس نے یہ اختیار دیا کہ پر امن طریقے سے احتجاج کریں؟ یہ ہوتے کون ہیں کہ توڑ پھوڑ کیے بغیر کوئی بات کریں؟ حکومت پر تنقید یوں کی جاتی ہے؟ نہ پی ٹی وی کی عمارت میں داخل ہوئے اور نہ ہی کسی قسم کی گالیوں سے آراستہ تقریریں کیں۔ ایسے کیسے چلے گا؟ اسلام آباد میں ایسی کوئی روایت نہیں۔ یہ کون باغی ہیں؟

ہمارے بچپن میں ایک استاد کہا کرتے تھے کہ جب کوئی بات سمجھ نہ آئے تو اسے لکھ لو۔ سمجھ آ جائے گی۔ صحیح کہتے تھے۔ ہمارے پلے بھی یہ حکمت پڑ گئی ہے کہ ان تمام احتجاج کرنے والوں کو کیوں گرفتار کیا گیا۔ جو کیا بالکل ٹھیک کیا۔ یہ جس آئین اور اس کے حقوق کی بات کرتے ہیں وہ بقول شخصے ’کوئی صحیفہ تو نہیں۔ ‘ یہاں تو جنگل کا قانون ہے جس کے تحت دنگا فساد کیے بغیر کچھ بھی کرنا خلاف قومی حمیت ہے۔ اس کے منکر غدار اور ملک دشمن ہیں۔ اتنی سزا تو بنتی ہے۔ جس دور میں جینا مشکل ہو اس دور میں جینے والے کا مقدر کال کوٹھڑی ہی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *