گلی گلی سودا بیچنا غیر قانونی قرار دے دیا گیا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وفاقی حکومت نے چھابڑی فروشوں کے لیے بھی قانونی مسودہ بنالیا۔ 500 روپے ماہانہ فیس مقرر کر دی گئی۔ چھابڑی فروشوں کے لیے تیار قانونی مسودے کے مطابق 14 سال سے کم عمر فرد چھابڑی نہیں لگا سکے گا۔ جگہ جگہ پھر کر اشیا نہیں بیچی جا سکیں گی۔

لائسنس کی مدت پانچ سال ہوگی۔ لائسنس کسی اور کے نام منتقل بھی نہیں ہو سکے گا۔ بلدیاتی حکومت چھابڑی فروش کا علاقہ بدل سکے گی۔ عمل نہ کرنے پر سامان ضبط کرلیا جائے گا۔ بل کے متن میں کہا گیا کہ نقل مکانی پر رضامندی کی صورت میں بلدیاتی عملہ سامان اور نقصان ادا کرنے کا پابند ہے۔

بے جا تنگ کرنے پر بلدیاتی حکومتی عملہ کے لیے بھی سزا کی تجویز کی گئی ہے۔ کسی وجہ کے بغیر اشیا ضبط کرنے پر متعلقہ اہلکار کو 20 ہزار جرمانہ ہو گا۔ چھابڑی فروش کی اشیا ضبط کرنا قابل ضمانت جرم ہوگا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *